جموں و کشمیر
عید گاہ کے نزدیک دو سو کروڑ روپیہ لاگت سے کینسر ہسپتال تعمیر ہوگا، وقف بورڈ اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کو بھی اپنے کنٹرول میں لے گا:درخشاں اندرابی
سری نگر، 11 ستمبر(یو این آئی) یونین ٹریٹری میں وقف اراضی پر قبضہ کرنے والے کچھ لوگوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے جموں وکشمیر وقف بورڈ کی چیئر پرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی مقامات کی اراضی ہڑپ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ اراضی پر کئے گئے تمام قبضوں کو بہت جلد ہٹایا جائے گا۔
اُن کے مطابق شہر خاص کے عید گاہ سری نگر کے نزدیک دو سو کروڑ روپیہ کی لاگت سے کینسر ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور بہت جلد اس کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔
چیئر پرسن نے مزید کہاکہ وقف بورڈ بہت جلد اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ اور دیگر اداروں کو بھی اپنے کنٹرول میں لے گا۔
ان باتوں کا اظہار موصوفہ نے نجی نیوز چینل کے ایک پروگرام میں حصہ لینے کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ وقف اراضی پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بہت جلد کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اُن کے مطابق جموں اور کشمیر دونوں صوبوں میں وقف بورڈ کی اراضی پر غیر قانونی قابضین کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کی خاطر سبھی تیاریوں کو آخری شکل دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں با اثر افراد نے وقف بورڈ کی اراضی پر قبضہ کرکے اُس کو اپنے نام پر درج کیا ہے جبکہ جموں صوبے میں چند غریب لوگوں نے اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔
درخشاں اندرابی نے کہاکہ وقف پیسوں اور جائیداد کا غلط استعمال کرنے کے حوالے سے بہت جلد وائٹ پیپر منظر عام پر لایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومتوں میں با اثر افراد نے وقف زمین ہڑپ کر لی ہے۔
چیئر پرسن نے کہاکہ عید گاہ سری نگر کے نزدیک دو سو کروڑ روپیہ لاگت سے کینسر ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے اور میں وزیر داخلہ سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس سپتال کا سنگ بنیاد رکھے۔
انہوں نے بتایاکہ عید گاہ کے نزدیک 70 کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔
مزید برآں، ڈاکٹر اندرابی نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر میں پرانے صوفی کلچر کو زندہ کرنا ہے جو بھائی چارے اور امن کا درس دیتا ہے۔
وقف چیئر پرسن نے کہاکہ جب سے بورڈ کی ذمہ داری سونپی گئی ا س ادارے کو فعال بنانے کی خاطر کام کیا۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی وقف اراضی ہڑپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے وقف ایکٹ میں ترمیم بھی کی گئی ہے۔
اُن کے مطابق جس کسی نے بھی وقف اراضی پر قبضہ کیا اُن کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب سے چیئر پرسن کی کرسی سنبھالی جموں وکشمیر کے لوگوں نے اپنی زمین وقف بورڈ کے نام کی ۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگ نئے وقف قوانین سے بہت زیادہ خوش نظر آرہے ہیں۔
جنوبی ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ میں اسلامک یونیورسٹی کے بارے میں وقف چیئر پرسن نے کہاکہ وقف بورڈ بہت جلد اس یونیورسٹی اور دیگر اداروں کو اپنے کنٹرول میں لے گا۔
انہوں نے اُس وقت کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ اسلامک یونیورسٹی کو وقف بورڈ کے ساتھ نہ جوڑنا بہت بڑی نا انصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں فنڈز کے غلط استعمال کو روکنے کی خاطر بہتری لائی گئی اور شفاف طریقے سے اب کام ہو رہا ہے۔
درخشاں اندرابی نے کہاکہ آپ اس بات سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پہلے بورڈ کی آمدنی چند لاکھ روپیہ تھی جو صرف پچھلے دو مہینوں کے دوران کروڑوں تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کے ساتھ سابقہ حکومتوں نے نا انصافی کی کیونکہ کرایہ دار صرف 36 سے سو روپیہ ماہانہ کرایوں کی صورت میں ادا کرتے تھے اور یہ سب کچھ سیاسی اثر رسوخ کی بنا پر ہوتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کو ٹھیک کرکے کرایہ داروں کے ساتھ نیا ایگریمنٹ کیا گیا جس سے وقف بورڈ کو لاکھوں کی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کو ’’سیکولر ذہن رکھنے والے‘‘ لوگوں سے ملک میں جمہوریت اور بھائی چارے کے تحفظ کے لیے 29 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ احتجاج دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے ان لوگوں سے اس اجتماع میں شرکت کی اپیل کی جو ہندوستان کی ’’جمہوری اور سیکولر اقدار‘‘ کو عزیز رکھتے ہیں۔
پوسٹ کے ساتھ جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ مساجد، درگاہوں اور گرجا گھروں کو ’’بے رحمی سے منہدم‘‘ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے حامیوں اور ’’سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں، خاص طور پر مسلمانوں‘‘ کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان تمام مظالم کے خلاف انڈین مسلمانوں کی مانیٹرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 29 ستمبر کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت جمہوریت، ملک کی فلاح و بہبود اور اس کی ’’گنگا-جمنی تہذیب‘‘ کے تحفظ کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
منشیات اسمگلنگ اور دہشت گرد سرگرمیوں سے منسلک 7.11 کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور ان کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی کے تحت سری نگر میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ کے تحت تقریباً 7.11 کروڑ روپے مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں منسلک اور منجمد کی گئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی شناخت غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک یا ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی املاک کے طور پر کی گئی۔
زکورہ پولیس اسٹیشن نے بلال کالونی، زکورہ میں واقع ایک رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین کو منسلک کیا، جس کی مالیت تقریباً 2.5 کروڑ روپے ہے اور یہ اویس احمد رَیدھر کی ملکیت ہے۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/22 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔
این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف (1) کے تحت کی گئی اس کارروائی کے بعد مجاز اتھارٹی کے مزید احکامات تک جائیداد کی فروخت، لیز، منتقلی، ردوبدل یا اس میں کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سے قبل نوگام پولیس اسٹیشن نے وگورا، بی کے پورہ کے رہائشی شیراز احمد شیخ کی تقریباً 2.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو منسلک کیا تھا۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 121/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔
اس جائیداد میں 18 مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ کنکریٹ عمارت، دو دکانیں اور ایک رائس مل شامل ہیں۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں احمد نگر پولیس اسٹیشن نے حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں واقع تقریباً 1.30 کروڑ روپے مالیت کی ایک رہائشی جائیداد کو منسلک کیا۔ یہ جائیداد ظہور احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی آرمس ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13، 18، 18-B، 19، 20، 23، 38 اور 39 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 20/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔ جائیداد میں چھ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین شامل ہے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اسے یو اے (پی) ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت منسلک کیا گیا۔
دریں اثنا، شالٹینگ پولیس اسٹیشن نے سری نگر کے چیک مجگنڈ میں سات مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان کو منجمد کردیا۔ اس کی مالیت تقریباً 46 لاکھ روپے ہے اور یہ امیر احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 43/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی، جس کے بعد اسے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت منجمد کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ چاروں کارروائیاں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مبینہ طور پر بنائی گئی جائیدادوں کی شناخت، سراغ لگانے، منجمد کرنے اور منسلک کرنے کا عمل جاری رکھے گی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے والے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
