تازہ ترین
فکشن رائٹرس گلڈ کی 190 نشست منعقد ، تقریب میں نامور ادباءکے ساتھ ساتھ نو آموز قلمکاروں نے بھی شرکت کی
ساحل اقبال
جموں اینڈ کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ اور کشمیر ہاروڈ ایجوکیشل انسٹیچوٹ کے باہمی اشتراک سے آج کشمیر ہاروڈ کے سیمنار ہال میں گلڈ کی 190ویں نسشت منعقد ہوئی۔
نشست کی صدارت معروف تاریخ دان اور ادیب گلشن مجید نے کی جبکہ کشمیر ہاروڈ کے چیرمین طارق احمد بکتو بطور مہمان خصوصی اور ڈاکٹر نزیر مشتاق بحیثت میزبان ایوان صدارت میں موجود تھے۔
تقریب میں نامور ادباءکے ساتھ ساتھ نو آموز قلمکاروں نے بھی شرکت کی۔

تصویر:ساحل اقبال/خبراردو
خطبہ استقبالیہ کے فرائض انجام دیتے ہوئے فکشن رائٹرس گلڈ کے جنرل سیکرٹری محمد سلیم سالک نے جموں کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کے اغراض و مقاصد کا خاکہ پیش کرتے ہوئے طلبہ وطالبات کو فکشن کے حوالے سے کئی مفید مشوروں سے نوازا۔ نشست کا باقاعدہ آغاز صوفی بشر بشیر کی فکشن تحریر سے کیا گیا۔
کشمیر ہاروڈ ایجوکیشنل انسٹیوٹ کی تین طالبات فرقانہ ،سیانہ وارثی اور منعام نے اپنی اپنی کہانیاں انگریزی زبان میں پیش کی۔
ان تین کہانیوں پر نوجوان افسانہ نگار طاحہ مغل نے تبصرے بھی پیش کیا۔
اس موقعہ پر ناصرضمیر نے اردو افسانہ “عشق صحرا نوردی” اور محی الدین ریشی نے کشمیری افسانہ “پوڑھ “ پڑھا پیش کیا،نشت کے مہمان خصوصی طارق احمد بکتونے فکشن رائٹرس گلڈ کی کاوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ گلڈ طلبہ وطالبات کی تخلیقی صلاحیتوں کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جس کے لئے فکشن رائٹرس گلڈ مبارکبادی کا مستحق ہے۔

تصویر:ساحل اقبال/خبراردو
اس موقت پرفیسر گلشن مجید نے نشست میں پیش کی گئی کہانیوں پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک کہانی معاصر موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے سامعین کو غور وفکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔انھوں نے انسٹیوٹ کے منتظمین کو ایسی ادبی نشستوں کا اہتمام کرنے کی تلقین دی تاکہ نئی نسل کے اندر پڑھنے لکھنے کا جذبہ زندہ رہے۔ کشمیر ہاروڈ ایجوکیشنل انسٹیوٹ کی فعال رکن عمیرہ نے مہمانوں کا تحریک شکرانہ پیش کیا۔

تصویر:ساحل اقبال/خبراردو
جموں کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کی 190 ویں نشست میں انسٹیوٹ کے اساتذہ صاحبان اور طلباﺅطالبات کے علاوہ جن ادیبوں اور قلمکار وں نے شرکت کی ان میں ڈاکٹر شہزاد سلیم، جہانگیر احمد بٹ،شہزادہ بسمل،ڈاکٹر الطاف انجم,دلدار اشرف،یوسف شاہین،ڈاکٹر رفیق مسعودی،مشتاق مہدی، رحیم رہبر،ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی،شفیع احمد،شکیل الرحمان،ڈاکٹر ریاض توحیدی،شیخ بشیر احمد، ریاض احمد ،رشید راہگیر،مشتاق کینی،طحا مغل،سہیل سالم،تابش حیدر، شائستہ مبارک ،اعجاز عثمانی،آصف سلطان، اور مہ پارہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
وہیں نشست کی نظامت کے فرائض کشمیر ہاروڈ ایجوکیشنل انسٹیوٹ کے شعبہ انگریزی کے صدر اور نوجوان افسانہ نگار مشتاق برق نے انجام دئیے۔

تصویر:ساحل اقبال/خبراردو
یاد رہے کہ جموں و کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ ایک غیر سرکاری ادبی ادارہ ہے جس کے بنیادی مقاصد ریاست میں سرکاری زبانوں کے علاوہ دیگر علاقائی زبانوں میں فکشن کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا،فکشن ورکشاپ کا با ضابطہ اہتمام کرنا جن میں خصوصاً نو عمر اور نو آموز فکشن نگاروں کی تربیت ہو،ہفتہ وار نشستوں کا اہتمام کرنا جن میںوادی کے مختلف زبانوں کے فکشن نگار اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں ،ضلعی اور ریاستی سطح پر محفل افسانہ منعقد کرنا،ڈرامہ فسٹیول کا انعقاد کرنا،فکشن نگاروں کے ساتھ ”ایک ملاقات“ کے عنوان سے پروگرام کرنا،سہ ماہی خبرنامہ کا اجرا،فکشن رائٹرس کی ڈائریکٹری مرتّب کرنا،فکشن نگاروں کے لیے ایوارڑ اور توصیفی اسناد پیش کرنا،فکشن نگاروں کی تخلیقات کی اشاعت کرنا،کتابی سلسلہ ”فکشن “ کا اجراءکرنا،فکشن کے فروغ میں دیگر ادبی انجمنوں کے ساتھ اشتراک کرنا،فکشن کے حوالے سے ایک لائبریری اور دارالمطالعہ قائم کرنا،گمنام فکشن نگاروں کی تخلیقات کی کھوج اور اشاعت کرنا اور اخر پرپیش رو فکشن نگاروں کی یاد میں تقاریبو کا احتمام کرناہیں۔
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا5 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان1 week agoترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
