دنیا
لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 2,792 ہلاکتیں: وزارت صحت
بیروت، 8 اکتوبر 2023 کو اسرائیل-حزب اللہ تنازعہ کے آغاز کے بعد سے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 2,792 ہوگئی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد 12,772 تک پہنچ گئی۔ لبنان کی وزارت صحت نے منگل کے روز یہ اطلاع دی۔
وزارت صحت نے مزید کہا کہ گذشتہ پیر کے روز، 82 افراد ہلاک اور 180 دیگر زخمی ہوئے۔
مزید برآں، لبنانی فوجی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے منگل کے روز جنوبی لبنان کے تقریباً 30 دیہاتوں، قصبوں اور شہروں پر 50 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ سب سے شدید حملہ جنوبی شہر سیدون کے صیدا محلے میں ہوا، جہاں تین عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے، جن میں سے اکثریت بے گھر افراد کی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنان اور شام کو ملانے والی سرحدی سڑک پر فضا سے زمین پر مار کرنے والے چھ میزائلوں کے ذریعہ تین فضائی حملے بھی کیے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دونوں سمتوں سے سفر کرنے والے راہگیروں کی نقل وحرکت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
دریں اثناء، ذرائع کے مطابق، حزب اللہ کے دستے اور لبنان کے جنوب مشرقی گاؤں خیام میں دراندازی کرنے والی اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “جھڑپوں میں بھاری مشین گن، توپ خانے کے گولے اور راکٹ استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی جنگی طیارے گاؤں کے مرکز پر شدید حملے کر رہے ہیں”۔
حزب اللہ نے منگل کے روز الگ الگ بیانات میں کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے “اسرائیلی ہیڈ کوارٹرز اور مقامات پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جن میں سنیر، اور زاریت کے ساتھ شمالی اسرائیلی قصبہ مالوت بھی شامل ہے۔”
اس میں مزید کہا گیا کہ ایک اسرائیلی ہرمیس 900 ڈرون کو جنوب مشرقی لبنانی قصبے کی فضائی حدود میں مار گرایا گیا۔
یو این آئی۔ م ش۔
دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ ہیں: وزیراعظم
بیروت، لبنان کی حکومت نے ملک کے جنوبی علاقوں میں گھروں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے، جبکہ جنگ بندی کی صورت حال مسلسل کمزور ہوتی جارہی ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بدھ کو کہا کہ اسرائیل کے “حملے، دراندازیاں، مسماری اور گھروں کی منظم تباہی بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”
سلام نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ اس کی جانب سے تباہ کیے گئے دیہات فوجی مقامات تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ “کسی بھی منطق پر پورا نہیں اترتا اور ان دیہات کو تباہ کرنے، ان کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے اور انہیں واپس آنے سے روکنے کے لیے بطور جواز استعمال نہیں کیا جاسکتا۔”
سلام کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے جنوبی لبنان کے دورے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ کاٹز نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز وہاں “زیر زمین بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہیں” اور “تمام گھروں کو تباہ کر رہی ہیں۔”
کاٹز نے الگ سے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام یا غزہ میں زیر قبضہ علاقوں سے انخلا نہیں کرے گی۔ اسی روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے بدھ کو الجزیرہ کو بتایا کہ واشنگٹن “تمام فریقوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس فریم ورک کے مطابق عمل کریں جس پر انہوں نے اتفاق کیا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے “واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان میں اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں۔”
5 اگست کو اسرائیل نے منصوری قصبے پر حملے کیے تھے۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجدل زون کے قریب دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔
اسرائیلی فوج نے منصوری کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا، جو کئی ہفتوں میں اس نوعیت کا پہلا حکم تھا۔ اسی دوران ایک دوسرے حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ اگلے روز اسرائیلی حملے میں برج الشمالی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اس نے اس واقعے پر براہ راست کوئی عوامی بیان جاری کیا ہے۔
2 مارچ کو لبنان بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوگیا، جب ایران نواز حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر حملے کیے۔
اگرچہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی 17 اپریل کو نافذ ہوئی تھی، تاہم اسرائیلی فورسز نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات پر قبضہ برقرار رکھا ہے۔
مکمل انخلا کے لیے بھی کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
حالیہ مشروط جنگ بندی کی بنیاد جون میں واشنگٹن میں طے پانے والے ایک فریم ورک معاہدے پر ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی فورسز کو مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرنا تھا، جبکہ لبنانی فوج ان کی جگہ تعینات ہوتی۔ یہ عمل محدود “پائلٹ زونز” سے شروع ہونا تھا اور اس کے بدلے حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جانا تھا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کی ثالثی میں اب تک سات ادوار کے مذاکرات ہوچکے ہیں، جن میں چار واشنگٹن اور تین روم میں ہوئے۔
حزب اللہ، جو ان مذاکرات کا فریق نہیں ہے، کہہ چکا ہے کہ وہ دریائے لیتانی کے جنوب سے پیچھے ہٹ جائے گا، تاہم دریا کے شمال میں اپنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق مارچ سے اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں 4,333 افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جو ملک کی تقریباً پانچویں آبادی کے برابر ہیں۔
جنگ بندی کے باضابطہ طور پر نافذ ہونے کے بعد بھی موسمِ گرما کے دوران یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔
واشنگٹن میں دو امریکی سینیٹروں نے لبنان کے لیے پانچ سال کے دوران 1.2 ارب ڈالر کے سکیورٹی امدادی پیکیج کی تجویز پیش کی ہے۔ اس امداد کے ایک حصے کو ریاست کی جانب سے ہتھیاروں پر اجارہ داری قائم کرنے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں پیش رفت سے مشروط کیا گیا ہے۔
یہ امدادی پیکیج ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے بعد لبنان کا استحکام اب بھی ایک غیر حل شدہ سیاسی اور عسکری کشمکش سے جڑا ہوا ہے، جس میں فی الحال کمی کے بہت کم آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
میکسیکو سٹی، کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے 10 اگست کو آئے شدید زلزلے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئینی طور پر معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کاراکول ٹیلی ویژن چینل پر نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’میں نے اس بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہمارے آئین میں فراہم کردہ ایک طریقۂ کار ہے۔‘‘
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے 53,526 مکانات کو نقصان پہنچا، 140 عمارتیں منہدم ہوگئیں، جبکہ 1,819 تعلیمی ادارے، 631 کمیونٹی مراکز اور 179 طبی مراکز بھی متاثر ہوئے۔ ایک پیدل پل تباہ ہوگیا، جبکہ 20 شاہراہوں کے پل، سڑکوں کے 203 حصے، پانی کی فراہمی کے 44 نظام اور 5 ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، قدرتی آفات کے خطرات کے انتظام کی قومی اکائی کے سربراہ ڈیوڈ تامایو نے کہا کہ کولمبیا کو شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے خصوصی تلاش اور بچاؤ ٹیمیں موصول ہوں گی۔
میریدیانو ریجنل کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق تامایو نے کہا، ’’ہم امریکہ، ایل سلواڈور، ایکواڈور اور اسرائیل کی تلاش اور بچاؤ ٹیموں سے مدد کے لیے تعاون، درخواستوں اور اپیلوں کو باضابطہ شکل دینے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس سے کولمبیا کے ان امدادی کارکنوں کی مدد اور جزوی طور پر متبادل انتظام ممکن ہوگا، جو کئی دنوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
اس وقت کولمبیا بھر میں تلاش اور بچاؤ کی 23 منظور شدہ ٹیمیں تعینات ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ٹیمیں چوکو اور وائے کا ڈیل کاؤکا کے علاقوں کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ دیگر مقامات پر کام کر رہی ہیں۔
10 اگست کی صبح کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس کا مرکز چوکو محکمہ میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے بیشتر علاقوں اور پڑوسی ممالک میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے بتایا کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 265 ہوگئی ہے، جبکہ 3,494 افراد زخمی اور 496 لاپتہ ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
