تازہ ترین
ملک گیر لاک ڈاءون :14روزہ چوتھا مرحلے کا دوسرا دن
ملک گیر لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے کے دوسرے دن بھی وادی کشمیر کے شہر و دیہات میں معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اس دوران جگہ جگہ شہر و دیہات میں سناٹا چھاہا ہوا۔گزشتہ دو روز سے اموات اور مثبت کیسو میں اضافے کے باعث جموں و کشمیر کے لوگ سخت ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوئے ہیں ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں سمنگل وار کو مسلسل 62ویں روز بھی کورونا لاک ڈاؤن سختی کیساتھ نافذ رہا۔گزشتہ دنوں کے مقابلے میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی۔اور2روز کے دوران 3مریضوں کی موت اور مریضوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ ہونے کے بیچ منگلوار کو لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی،تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔وادی کشمیر میں شمال وجنوب میں معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے۔شہر ودیہات میں ہر طرح کی دکانیں،بازار،تجارتی و کاروباری اداے مرکز بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔
اس دوران لاک ڈاؤن کو سختی کیساتھ لاگو کرنے کیلئے سڑکوں،پلوں اور چوراہو ں پر پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے جگہ جگہ ناکہ بندی اور تار بندی بھی کی گئی ہے۔گزشتہ دنوں کے دوران شہر کے سیول لائنز میں نجی گاڑیوں میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ شہر خاص میں بھی نقل وحرکت میں اضافہ ہی دیکھنے کو ملا۔ادھر ضلع انتظامیہ بڈگام اور ترال میں نے منگل کے روز وسطی کشمیر کے ضلع میں دفعہ144کا نفاذ عمل میں لایا۔یہ اقدام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے۔اس سلسلے میں ضلع کمشنر بڈگام کی طرف ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہلک وائرس سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔آرڈر میں بتایا گیا ہے ضلع کے اندر کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اضافی اقدامات کئے گئے ہیں۔آرڈر میں درج ہے کہ ضلع میں کورونا کے پھیلاؤکو روکنے کیلئے دفعہ144نافذ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی شام 7 بجے سے صبح 7 بجے تک لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل پر مکمل پابندی عاید کی گئی ہے۔
آرڈر کے مطابق لوگوں کو صرف شدید مجبوری کے تحت ہی کہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرینگر سمیت وادی بھردفعہ 144کے تحت حکم امتناعی برقرار ہے۔ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلے کا دوسرا دن جاری۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کل ملک میں لاک ڈاؤن کی مدت اِس مہینے کی31 تاریخ تک بڑھانے کا اعلان کیا۔24مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن سے ملک میں کووڈ۔19 کو پھیلنے سیروکنے میں کافی مدد ملی ہے۔ البتہ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں قابل قدر نرمی کی جائیگی۔ مرکزی سرکار نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریڈ، اورینج اور گرینزون کی حدبندی کی اجازت دے دی ہے۔
گھیرا بندی والے علاقے ریڈ اور اورینج زون کے دائرے میں آئیں گے، جبکہ علاقے کا ایک چھوٹا حصہ بفر زون ہوگا۔ گھیرا بندی والے علاقوں میں طبی اور ضروری سامان کی رسد کو چھوڑ کر کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزارت داخلہ نے اْن سرگرمیوں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جن پر اگلے14دن تک پورے ملک میں پابندی عائد رہے گی۔سبھی گھریلو اور بین الاقوامی ہوائی سفر، طبی اور دفاعی خدمات کو چھوڑ کر، باقی لوگوں کے لیے لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں بھی بند رہے گا۔ میٹروریل بھی ابھی بند رہے گی۔ اسکول، کالجز، تعلیمی، تربیتی اور کوچنگ ادارے پورے ملک میں بند رہیں گے۔ ہوٹل اور ریستوراں بھی بند رہیں گے، تاہم مسافروں کی آسانی کے لییہوائیاڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ڈپو میں کینٹین اور کھانے کے اسٹالز کھولنے کی اجازت ہوگی۔ سنیما ہالز، جم، شاپنگ مال، تفریحی پارک یا ایسی ہی جگہیں جہاں لوگ اکٹھا ہوتے ہوں،پورے ملک میں بند رہیں گی۔ سیاسی،
سماجی اور ثقافتی عوامی جلسوں سمیت ہر طرح کے جلسے پر احتیاط کے طور پر پابندی رہے گی۔ عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماعات پر سختی کے ساتھپابندی عائد رہے گی۔ شام سات بجے سے صبح سات بجے تک کا رات کا کرفیو31 مئی تک جاری رہے گا۔ریاستیں اور مرکزی انتظام والے علاقے بین ریاستی بس خدماتاور دیگر گاڑیوں کی آمد ورفت دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔بین ریاستی بس خدمات کے بارے میں فیصلہ متعلقہ ریاستوں کی باہمی رضامندی سے کیا جائے گا۔سرکار نے اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم کھولنے کی بھی اجازتدے دی ہے، لیکن اِن مقامات پر لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔سرکار نے مختلف اداروں اور آجروں پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا ہے کہ سبھی ملازمین اپنے موبائل فون پر آروگیہ سیتو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔سرکار نے65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں،حاملہ خواتین اور10 سال سے کم عمر کے بچوں کو صلاح دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن نافذ رہنے تک اپنے گھروں میں ہی رہیں۔
ادھر ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاون مزید 14 دنوں کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ لاک ڈاون کا چوتھا مرحلہ ہے جو پیر کے روز یعنی18 مئی سے شروع ہو گیا اور31 مئی کو ختم ہو گا۔ اس پورے معاملے پر سی این بی سی ٹی وی۔18 کے ساتھ خاص بات چیت میں پی وی آر کے چیئرمین اور ایم ڈی اجئے بجلی نے بتایا کہ15 جون کے آس پاس شاپنگ مال کھل سکتے ہیں۔ اس کے ایک۔ دو ہفتے بعد سنیما ہال کو کھولنے کی منظوری بھی دی جا سکتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ مارچ کے آخر سے ملک کی سبھی جگہوں پر شاپنگ ہال اور سنیما ہال بند ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے نئے رہنما خطوط جاری کر دئیے۔ اس کے مطابق، سنیما ہال، شاپنگ مال، جم، سوئمنگ پول، انٹرٹینمنٹ پارک، تھئیٹر، آڈیٹوریم اور اسمبلی ہال بند رہیں گے۔اجے بجلی آگے کہتے ہیں کہ سنیما ہال میں بیٹھنے کے لئے کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
جیسے فیملی اینڈ گروپ کو ایک ساتھ بٹھایا جائے گا۔ وہیں، دوسرے لوگوں کو بٹھانے کے لئے کچھ دوری رکھی جائے گی۔ لاک ڈاون کے بعد جلدی۔ جلدی فلمیں ریلیز ہو سکتی ہیں۔ وہیں، سبھی لوگوں کے لئے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر فلمیں ریلیز کرنا آسان کام نہیں ہے۔
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
