ہندوستان
مودی، راجناتھ اور شاہ سمیت مختلف لیڈروں نے ملک کی تقسیم کے درد کو یاد کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر جے پی۔ نڈا سمیت مختلف لیڈران نے بدھ کو ملک کی تقسیم کے بعد پھوٹنے والے تشدد میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’’تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کے دن پرہم ان بے شمار لوگوں کو یاد کرتے ہیں، جو تقسیم کی ہولناکیوں سے متاثر ہوئے اور انہیں تکلیف برداشت کرنی پڑی۔ یہ ان کی ہمت کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بھی دن ہے۔ تقسیم سے متاثر ہونے والے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگیاں دوبارہ بنائیں اور بے پناہ کامیابیاں حاصل کیں۔ آج، ہم اپنے ملک میں اتحاد اور بھائی چارے کے بندھنوں کی ہمیشہ حفاظت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
ساتھ ہی، مسٹر سنگھ نے ایکس پر لکھا، ’’’وبھاجن وبھیشیکا اسمرتی دیوس‘ پر میں ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو ملک کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں تشدد اور نفرت کا شکار ہوگئے۔ آج برسوں بعد بھی اس کا درد ملک میں محسوس ہوتا ہے۔ تقسیم کی ہولناکیوں کو یاد کرتے ہوئے، ہم سب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک نئے، متحد اور مضبوط ہندوستان کی تعمیر کے لیے کام کر رہے ہیں، تاکہ یہ ملک دوبارہ کبھی ایسے مشکل وقت سے نہ گزرے۔
مسٹر شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’ آج ’وبھاجن وبھیشیکا اسمرتی دیوس‘ پر ان لاکھوں لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوںم جنہوں نے تاریخ کے سب سے وحشیانہ واقعہ کے دوران غیر انسانی مصائب کا سامنا کیا، زندگیاں کھودیں اور بے گھر ہوگئے۔ اپنی تاریخ کو یاد میں بساکر اس سے سبق سیکھ کر ہی کوئی قوم اپنے مضبوط مستقبل کی تعمیر کرسکتی ہے اور ایک طاقت بن کر ابھر سکتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جی کی کوششوں سے اس دن کو منانے کی روایت قوم کی تعمیر کی طرف اٹھایا گیا ایک مضبوط قدم ہے۔
مسٹرنڈا نے کہا، “آج ‘وبھاجن وبھیشیکا اسمرتی دیوس’ ہمیں 1947 کے اس ظالمانہ واقعے کی یاد دلاتا ہے، جب دنیا کو ‘وسودھائیو کٹمبکم’ اور ‘سروے بھونتو سکھین’ کا پیغام دیینے والی ہماری عظیم قوم کوسیاسی خود غرضی کے لیے تقسیم کیا گیا تھا۔ اس دوران لوگوں نے انتہائی غیر انسانی اذیتیں برداشت کیں، ہجرت کا درد برداشت کیا، اپنی محنت سے ذرہ ذرہ جمع کرکے بنائے گھر اور املاک سے محروم ہوئے اور لاتعداد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آج میں ان سب کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ قابل احترام وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ‘وبھاجن وبھیشیکا اسمرتی دیوس’ منانے کا فیصلہ ہمیں ان تمام تاریک باب اور واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ہماری عظیم قوم کو اکھنڈ، طاقتور اور عظیم بننے کی طرف لے جائے گا۔
ایک طرف ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی مل رہی تھی اور دوسری طرف اس کی قیمت ملک کی تقسیم کی صورت میں مل رہی تھی۔ تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔ وہ راتوں رات بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنہیں آزادی کی قیمت اپنی جان سے ادا کرنی پڑی۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے 14 اگست 2021 کو تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے حوالے سے حکومت ہند کا گزٹ جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت ہند ملک کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کو تقسیم کے دوران لوگوں کے ذریعہ برداشت کی گئی اذیت اور درد کو یاد رکھنے کے لیے 14 اگست کو وبھاجن وبھیشیکا اسمرتی دیوس کے طور پر اعلان کرتی ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا19 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان23 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا23 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا18 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا17 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا15 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر17 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر17 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا27 minutes agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا18 minutes agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا13 minutes agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
