جموں و کشمیر
مہمانوں کا اخراج دیکھ کر دل دہلا دینے والا،محفوظ روانگی ترجیح:وزیراعلیٰ عمرعبداللہ
کشمیر کی بحال ہوتی سیاحتی صنعت پر کاری ضرب،سیاحوں کااخراج
ہزاروںپیشگی بکنگ منسوخ: ہوٹل،گیسٹ ہاﺅس اور ہاﺅس بوٹ خالی ہونا شروع
سری نگر: جے کے این ایس : مشہور سیاحتی مقام پہلگام کے بائسرن علاقے میں منگل کو سیاحوں پرہوئے حملے نے کشمیر میں بحال ہو رہی سیاحتی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔کیونکہ کشمیرآئے سیاح واپس اپنے گھروںکو لوٹ رہے ہیں ،جسکے نتیجے میں ہوٹل،گیسٹ ہاﺅس اور ہاﺅس بوٹ خالی ہورہے ہیں۔اس دوران محکمہ شہری ہوابازی نے کشمیرمیں موجود سیاحوںکو اپنے گھروں تک پہنچانے کیلئے سری نگر سے اضافی پروازیں چلانا شروع کردیاہے ۔ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے سیاحوں کی واپسی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ مہمانوں کا اخراج دیکھ کر دل دہلا دینے والا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق پہلگام میں منگل کو ہونے والے خوفناک دہشت گردانہ حملے کے بعد ہزاروں سیاحوں نے کشمیر چھوڑنا شروع کر دیا ہے، حکام نے سیاحوں کی محفوظ طور پر ان کی آبائی ریاستوں میں واپسی کے لئے اپنی جانب سے تمام کوششیں کی ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سیاحوں کے اخراج کو دیکھ کر دل دہلا دینے والا ہے۔انہوںنے بدھ ایکس پرایک پوسٹ میں کہاکہ پہلگام میں کل کے المناک دہشت گردانہ حملے کے بعد وادی سے ہمارے مہمانوں کے اخراج کو دیکھ کر دل دہلا دینے والا ہے لیکن ساتھ ہی ہم پوری طرح سمجھتے ہیں کہ لوگ کیوں وہاں سے جانا چاہیں گے۔ جبکہ DGCA اور شہری ہوابازی کی وزارت اضافی پروازوں کا انتظام کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، اورساتھ ہی سری نگر اور جموں قومی شاہراہ کویک طرفہ ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہاکہ میں نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ سری نگر اور جموں کے درمیان سیاحوں کی گاڑیوں کو جانے کی اجازت دے کر ٹریفک کو آسان بنایا جائے، یہ منظم طریقے سے کرنا ہو گا کیونکہ سڑک اب بھی جگہ جگہ غیر مستحکم ہے اور ہم تمام پھنسے ہوئے گاڑیوں کو ہٹانے کے لیے بھی سخت محنت کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم اس وقت گاڑیوں کو مکمل طور پر آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دے سکیں گے اور ہم امید کرتے ہیں کہ سبھی ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔اُدھر سیاحتی تجارت سے وابستہ لوگوں نے بتایا کہ اننت ناگ ضلع کے پہلگام حملے کے ایک دن بعد زیادہ تر سیاح خوف کی وجہ سے وادی چھوڑ رہے ہیں۔سری نگر کے ایک ٹریول آپریٹر اعجاز علی نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ سیاح کشمیر میں بڑے پیمانے پر محفوظ رہے ہیں لیکن یہاں اس طرح کے واقعے کے ہونے سے، کوئی بھی ان سے واپس رہنے کی توقع نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ اگلے ایک ماہ کےلئے بھی پیکجز منسوخ کیے گئے ہیں۔اعجازعلی نے مزید کہاکہ پچھلے کئی سالوں کے دوران تمام اچھے کام ختم ہو گئے ہیں۔انہوںنے بتایاکہ سیاحوں کو دوبارہ کشمیر لانے کے لیے بہت زیادہ قائل کرنا پڑے گا جبکہ زیادہ تر سیاح خوفزدہ ہیں، کچھ پیچھے رہ رہے ہیں۔تاہم مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح نے کہاکہ ہم (ہوٹل کے کمروں سے) باہر آ گئے ہیں اور ہمیں کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا ہے۔ ہر طرف سیکورٹی ہے۔ ہمارا پہلگام جانے کا منصوبہ ہے اور اگر حالات ٹھیک رہے تو ہم کل وہاں جا سکتے ہیں ۔اس نے کہا کہ جب اس نے حملے کی خبر سنی تو خوف تھا۔خاتون سیاح کامزیدکہناتھاکہ ہم ممبئی سے آئے ہیں، ہم نے سوچا کہ اب ہمیں واپس آنا ہے، لیکن ہوٹل کے عملے نے ہمیں محفوظ اور آرام دہ محسوس کیا، انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہم گھوم سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم باہر آئے اور دیکھا کہ یہاں ہر جگہ پولیس اور فوج ہے اور سیاح محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ہم محفوظ طریقے سے گھوم پھر سکتے ہیں اور اب خوف کم ہو رہا ہے ۔ادھر شہری ہوا بازی کی وزارت نے ایئر لائنز سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سری نگر کے راستے پر ہوائی کرایوں میں کوئی اضافہ نہ ہو، اور ایئر لائنز شہر کے لیے اضافی پروازیں چلائیں گی۔حکام نے بتایاکہ ایئر انڈیا اور انڈیگو بدھ کو سری نگر سے قومی راجدھانی اور ممبئی کے لیے کل چار اضافی پروازیں چلائیں گے۔ ایئر لائنز نے ٹکٹوں کی ری شیڈولنگ اور کینسلیشن چارجز کو بھی معاف کر دیا ہے۔شہری ہوابازی کے وزیر کے رام موہن نائیڈو نے تمام ایئر لائن آپریٹرز کے ساتھ ایک فوری میٹنگ کی اور سری نگر کے راستے پر قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایک مضبوط ایڈوائزری جاری کی۔بدھ کو ایک سرکاری ریلیز میں کہا گیا کہ ایئر لائنز کو کرایہ کی باقاعدہ سطح برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ اس حساس وقت کے دوران کسی مسافر پر بوجھ نہ پڑے۔ایئر انڈیا نے سری نگر سے دہلی کے لیے ساڑھے 11بجے اور سری نگر سے ممبئی کے لیے 12بجے پرواز چلائی ہے۔اس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ سرینگر جانے اور وہاں سے آنے والی ہماری تمام دیگر پروازیں شیڈول کے مطابق چلتی رہیں گی۔ایئر انڈیا روزانہ دہلی اور ممبئی سے سری نگر کے لیے پانچ پروازیں چلاتا ہے۔ایئر لائن ان سیکٹرز پر 30 اپریل تک تصدیق شدہ بکنگ والے مسافروں کو منسوخی پر اعزازی ری شیڈولنگ اور مکمل رقم کی واپسی کی پیشکش بھی کر رہی ہے۔
جموں و کشمیر
منشیات اسمگلنگ اور دہشت گرد سرگرمیوں سے منسلک 7.11 کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور ان کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی کے تحت سری نگر میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ کے تحت تقریباً 7.11 کروڑ روپے مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں منسلک اور منجمد کی گئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی شناخت غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک یا ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی املاک کے طور پر کی گئی۔
زکورہ پولیس اسٹیشن نے بلال کالونی، زکورہ میں واقع ایک رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین کو منسلک کیا، جس کی مالیت تقریباً 2.5 کروڑ روپے ہے اور یہ اویس احمد رَیدھر کی ملکیت ہے۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/22 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔
این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف (1) کے تحت کی گئی اس کارروائی کے بعد مجاز اتھارٹی کے مزید احکامات تک جائیداد کی فروخت، لیز، منتقلی، ردوبدل یا اس میں کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سے قبل نوگام پولیس اسٹیشن نے وگورا، بی کے پورہ کے رہائشی شیراز احمد شیخ کی تقریباً 2.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو منسلک کیا تھا۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 121/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔
اس جائیداد میں 18 مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ کنکریٹ عمارت، دو دکانیں اور ایک رائس مل شامل ہیں۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں احمد نگر پولیس اسٹیشن نے حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں واقع تقریباً 1.30 کروڑ روپے مالیت کی ایک رہائشی جائیداد کو منسلک کیا۔ یہ جائیداد ظہور احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی آرمس ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13، 18، 18-B، 19، 20، 23، 38 اور 39 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 20/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔ جائیداد میں چھ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین شامل ہے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اسے یو اے (پی) ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت منسلک کیا گیا۔
دریں اثنا، شالٹینگ پولیس اسٹیشن نے سری نگر کے چیک مجگنڈ میں سات مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان کو منجمد کردیا۔ اس کی مالیت تقریباً 46 لاکھ روپے ہے اور یہ امیر احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 43/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی، جس کے بعد اسے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت منجمد کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ چاروں کارروائیاں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مبینہ طور پر بنائی گئی جائیدادوں کی شناخت، سراغ لگانے، منجمد کرنے اور منسلک کرنے کا عمل جاری رکھے گی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے والے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں فوجی سربراہ نے ایل او سی کی تیاریوں کا جائزہ لیا، ’متحرک اور مشن کے لیے تیار‘ رہنے پر زور
سری نگر، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کشمیر میں تعینات فوجی جوانوں سے ’متحرک اور مشن کے لیے تیار‘ رہنے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں ’وجے‘ کے پانچ رہنما اصولوں کو اپنانے کی ہدایت دی۔
جنرل سیٹھ نے جمعہ کو چنار کور کے اگلے علاقوں کے دورے کے دوران لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہیں مضبوط سکیورٹی نظام برقرار رکھنے اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کیے جا رہے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
فوج کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک انفارمیشن (اے ڈی جی پی آئی) نے ایکس پر جاری پوسٹ میں بتایا کہ جنرل سیٹھ نے فوج کے تمام رینکس کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور مسلسل تیاری کی ستائش کی۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ جنرل سیٹھ نے تمام رینکس سے ’وجے‘ کے پانچ رہنما اصولوں کو اپنانے کی اپیل کی۔
ان اصولوں کا مقصد واضح مقصد کے ساتھ جدت لانا، تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا، عزم کے ساتھ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور چیلنجز کے سامنے آنے سے پہلے ان کا اندازہ لگانا ہے، تاکہ ہندوستانی فوج ہر صورت حال میں مضبوط، مستقبل کے لیے تیار اور مشن کے لیے آمادہ رہے۔ْ
جمعہ کو فوجی سربراہ نے کپواڑہ کے تنگدھر میں ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقد کیے گئے دسویں میگا آئی سرجیکل کیمپ کے دوران مریضوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں ادویات و تحائف تقسیم کیے۔ مسلح افواج کی طبی خدمات (اے ایف ایم ایس) کے سرجنوں نے ایل او سی کے ساتھ گولہ باری سے متاثرہ علاقے تنگدھر میں زیرِ زمین آپریشن تھیٹر میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کرنے والی سرجریاں انجام دیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
سری نگر، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اشوک کول نے جموں و کشمیر میں پارٹی کے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2012 سے جاری ان کی ایک دہائی سے زیادہ طویل مدت بھی ختم ہوگئی۔
جموں و کشمیر میں بی جے پی کے سب سے طویل عرصے تک تنظیمی ذمہ داری سنبھالنے والے رہنماؤں میں شامل کول نے تصدیق کی کہ انہوں نے عہدے کی ذمہ داری چھوڑ دی ہے اور اب اپنی اصل تنظیم میں واپس جائیں گے۔
انہوں نے اس فیصلے کی ایک وجہ عمر کو بتایا۔
کول نے یو این آئی سے کہاکہ ’’ہاں، میں نے اپنی عمر کی وجہ سے عہدہ چھوڑ دیا ہے۔‘‘
کول کا استعفیٰ بی جے پی کی تنظیمی سطح پر وسیع پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کے درمیان آیا ہے۔ پارٹی نے نتن نبین کو صدر مقرر کرنے کے بعد تنظیمی ڈھانچے میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ بی جے پی نے حال ہی میں کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نئی تنظیمی قیادت مقرر کی ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی ان تبدیلیوں کے تحت بی جے پی کے صدر نتن نبیَن نے ستیش پونیا کو پارٹی کا نیا جموں و کشمیر انچارج مقرر کیا ہے، جبکہ رینا کشیپ کو شریک انچارج کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
کشمیری پنڈت اور جموں و کشمیر میں بی جے پی کے اہم حکمتِ عملی سازوں میں شمار ہونے والے اشوک کول نے کئی برسوں تک دونوں خطوں میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا۔ اس دوران انہوں نے خاص طور پر کشمیر میں پارٹی کے نچلی سطح کے نیٹ ورک کو وسعت دینے پر توجہ دی۔
بی جے پی رہنماؤں کے مطابق، کول نے پارٹی کے کیڈر ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور روایتی طور پر پارٹی کے اثر و رسوخ سے باہر سمجھے جانے والے علاقوں تک اس کی سیاسی رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پارٹی نے کئی علاقوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو کبھی علیحدگی پسندی کے گڑھ سمجھے جاتے تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
