تازہ ترین
نیشنل کانفرنس رکن پارلیمان حسنین مسعودی کا مرکزی وزیر خزانہ کو تحریری خط
سری نگر، (یو این آئی) : جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے مرکزی وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ڈیلی ویجروں اور کنٹریکچول ملازمین کی مستقلی اور ان کی تنخواہوں میں تفاوت دور کی جائے۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو لکھے ایک خط میں مسعودی نے جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں، بلدیاتی اداروں، پبلک سیکٹر کے اداروں اور دیگر محکموں میں خدمات انجام دینے والے ڈیلی ویجروں، عارضی، کیجول، کنٹریکٹ، نیڈبیسڈ، سیزنل اور دیگر ورکروں کو درپیش سنگین مسائل اور مشکلات اْجاگر کئے۔
اس معاملے پر اپنی اپیلوں کے بعد متعلقہ وزارت کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مسعودی نے کہایہ بات قابل اطمینان ہے کہ یکم دسمبر 2021 کو وقفہ صرف کے دوران میرے ذریعہ اٹھائے گئے مسئلے پر وزارتِ داخلہ نے ضروری معلومات کے حصول کے لئے جموں وکشمیر انتظامیہ سے رجوع کیاہے۔
اْنہوں نے کہا کہ امید ہے کہ متعلقہ تفصیلات اب تک جمع کر دی جائیں گئیں ہونگی۔ انہوں نے بتایا کہ 61000 سے زیادہ عارضی ملازمین کی حالتِ زار انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے تحریر کیا کہ یہ عارضی ملازمین تقریباً تمام سرکاری محکموں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں پی ڈی ڈی، جنگلات، وائلڈ لائف پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آبپاشی اور فلڈ کنٹرول، سیاحت، امور صارفین اور عوامی تقسیم کاری، صحت اور خاندانی بہبود، تعلیم، زراعت، پشوپالن اور دیگر محکمے بھی شامل ہیں۔
مسعودی نے مزید کہا کہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ملازمین کو ملازمت دینے کا رجحان جموں و کشمیر کے لئے منفرد نہیں تھا۔وقت وقت پر اضافی افرادی قوت کیلئے ورکروں کو کام پر لگایا گیا اور بیشتر اوقات آسامیوں کی تخلیق، مالیاتی اثرات وغیرہ پر کام کرنے والے طریقہ کار سے گزرنے کے لئے بہت کم وقت تھا، کیونکہ حالات و واقعات کے نظر اْس وقت حالات کا تقاضہ عارضی، موسمی، کنٹریکٹ، یومیہ اجرت اور بیسڈ افرادی قوت کی خدمات حاصل کی جائیں۔ جس سے عارضی، کنٹریکچول اور کیجول ملازمین کی بڑی تعداد کی وضاحت ہوتی ہے۔
پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ یہ لوگ کئی دہائیوں سے مل کر کام کرتے آرہے ہیں۔ لگن اور عزم کے ساتھ لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں اور زیادہ تر معاملاتمیں اپنے کمبوں کے واحد کما? ہیں۔ ریاست اس حقیقی استحصال زدہ طبقے کو سماجی اور معاشی انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری سے غافل نہیں رہ سکتی۔
انتظامیہ کے اس اہم جزو کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے مسعودی نے کہا کہا کہ 61000 عارضی ملازمین کئی دہائیوں سے مستقلی کے منتظر ہیں۔مستقلی میں تاخیر کے ساتھ یہ لوگ پے سکیل، گریڈ پے، ایچ آر اے، ایجوکیشن الاونس جیسے بہت سے فوائد سے محروم ہو جاتے ہیں۔مستقلی کے لئے جو اسکیم وضع کی گئی ہے اس میں اجرت کے اجراء کی تاریخ کے بجائے سروس کی طوالت کو مدنظر رکھنا چاہیے اور مستقل ملازمین کے لئے دستیاب تمام مراعات کو بھی فراہم کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ کافی طویل عرصے سے زیر التوا یہ مسئلہ فوری انصاف کا مطالبہ کرتا ہے۔مرکزی بجٹ کی جاری تیاریوں اور جموں و کشمیر کے سالانہ بجٹ کے مقامات کے پیش نظر مسعودی نے مرکزی وزیر خزانہ سے اپیل کی کہ جموں و کشمیر کے بجٹ میں 61000 عارضی ملازمین کو مستقل کرنے اور کم از کم اجرتیں فراہم کرنے کیلئے خاطر خواہ فنڈز فراہم کئے جائیں۔ اور ہر ایک شعبے کام کرنے والے عارضی ملازمین کے تمام بقایات جات کو بروقت ریلیز لیا جائے۔
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان5 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
