جموں و کشمیر
وادی کشمیر میں بادام کی صنعت روبہ زوال
سری نگر، وادی کشمیر میں گرچہ ایک طرف سیب کی مختلف اقسام کے باغات کا رقبہ ہر گذرتے سال کے ساتھ وسیع تر ہو رہا ہے لیکن دوسری طرف بادام کے باغات اس قدر معدوم ہو رہے ہیں کہ یہ پھل نایاب ہونے کی دہلیز پر ہے۔
ایک اندازے کے مطابق قریب دو دہائی قبل وادی میں 15 ہزار ہیکٹر اراضی پر بادام کے باغ لگے ہوئے تھے جو اب سکڑ کر کئی ہیکڑ رہ گئی ہے یہی وجہ ہے کہ وادی کشمیر میں بادام پھل کی پیدا وار میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔
وادی میں بادام پھل کی پید وار میں کمی واقع ہونے کی جو وجوہات ہیں ان میں زیادہ تر اراضی پر سیب کے ہائی ڈنسٹی اور دیگر اقسام کے باغ لگانے کا رجحان اور تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے کو قرار دیا جاتا ہے۔
چیف ہارٹیکلچر افسر پلوامہ جاوید احمد بٹ نے یو این آئی کو بتایا: ‘کسان اپنی اراضی پر ہائی ڈنسٹی کے سیب باغ لگاتے ہیں کیونکہ اس سے کافی اچھی آمدنی ہوتی ہے گرچہ اس پر خرچہ بھی کافی آتا ہے’۔
انہوں نے کہا:’بہتر آمدنی کے پیش نظر کسان زیادہ سے زیادہ اراضی پر سیب کے باغات لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں’۔
ان کا کہنا ہے:’سیب کی مختلف اقسام دستیاب ہیں جن کو کاشتکار اپنی اراضی پر لگا کر بھر پور کمائی کرتے ہیں’۔
موصوف افسر نے کہا کہ محکمے نے بادام کے بھی ہائی ڈنسٹی قسم کو متعارف کیا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘یہ باغات بنانے میں خرچہ بھی بہت کم آئے گا اور باغوں کی دیکھ ریکھ پر بھی کم خرچہ آئے گا جبکہ آمدنی تسلی بخش ہوگی’۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مختلف اقسام کے بادام نہیں اگائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ کی مانگ پوری نہیں ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ہائی ڈنسٹی بادام کے پودے متعارف کئے جا رہے ہیں ان کے لگانے کے خرچے کو ایک عام کسان بھی برداشت کرسکتا ہے۔
پلوامہ سے تعلق رکھنے والے شبیر احمد نامی ایک کاشتکار نے بتایا: ‘ہمارے ضلع میں ہزاروں کنال اراضی پر بادام کے باغات تھے جن کو گذشتہ برسوں کے دوران کاٹ کرسیب کے باغات میں تبدیل کر دیا گیا’۔
انہوں نے کہا: ‘مجھے 8 کنال اراضی پر بادام باغ تھا جس کو کاٹ کر میں نے سیب کے باغ میں تبدیل کر دیا لیکن میں اب پچھتا رہا ہوں کیونکہ سیب کے باغ کی دیکھ ریکھ کرنے کے لئے کافی خرچہ آتا ہے اور سال بھر اس کام کے ساتھ مصروف رہنا پڑتا ہے جبکہ بادام باغ بغیر کسی خاص خرچے کے فصل دیتا تھا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘بادام باغ کی میں زیادہ سے زیادہ ایک بار دوا پاشی کرتا تھا اور پھر ماہ اگست میں جا کر بادام اتارنے جاتا تھا’۔
موصوف کاشتکار نے کہا: ‘میں بادام باغ سے بھی اچھی خاصی کمائی کرتا تھا وہ بھی بغیر کسی مشقت کے’۔
انہوں نے کہا: ‘بادام کا میوہ جہاں کم خرچے پرتیار ہوتا ہے وہیں اس کو سال بھر خراب ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہوتا ہے جبکہ اس کے بر عکس سیب کا پھل درخت سے اتارنے کے بعد ہی خراب ہونے کے خطرے میں رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے چھ سال قبل سیب کا باغ لگایا ابھی خرچہ سے تھوڑی زیادہ آمدنی ہوتی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ بادام کو پیک کرنے کا عمل بھی آسان اور سادہ ہے،اتارنے کے بعد کچھ ان کو سُکھایا جاتا ہے اور پھر بوریوں میں بھر کر بیوپاریوں کو بھیج دیا جاتا ہے’۔
محمد جعفر نامی ایک خشک میوہ فروش نے کہا کہ کشمیر میں تیار ہونے والے بادام اب نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا:’دس سال قبل میرے دکان پر کشمیری بادام بھر پور مقدار میں دستیاب ہوتے تھے اور یہاں کے لوگ اور سیاح بھی ان کو خریدتے تھے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘اب ہمارے دکانوں پر غیر ملکی بادام دستیاب رہتے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بادام معیار اور طبی فوائد میں باقی باداموں سے بہتر ہیں۔
محمد یوسف نامی ایک بیو پاری نے بتایا: ‘میں بڈگام کے دور افتادہ گائوں میں جا کربادام کی بوریاں خرید کر اپنا روزی روٹی کماتا تھا لیکن کسانوں نے بادام کے درختوں کو کاٹ کر وہاں سیب کے باغات تعمیر کئے’۔
انہوں نے کہا: ‘گرچہ سیب کے باغات لگانے سے ان کو کافی زیادہ فائدہ ہوا لیکن کشمیر کی ایک اہم صنعت کو ختم ہونے کے خطرنات لاحق ہوگئے’۔
بڈگام کے محمد صادق نامی ایک کسان نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں سینکڑں کنال اراضی پر بادام باغ تھے اور جب ماہ مئی میں ان درختوں پر شگوفے پھوٹتے تھے تو پورا علاقہ جنت کا نظارہ پیش کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس تمام اراضی پر بادام کے درخت کاٹے گئے اور اس اراضی پر یا تو تعمیراتی ڈھانچے تعمیر کئے گئے یا اس پر سیب کے باغ تیار کئے گئے۔
انہوں نے متعلقہ محکمے سے اپیل کی کہ وہ بادام کی صنعت کو بحال کرنے کے لئے ٹھوس اقدام کرے۔
یو این آئی -ایم افضل،ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر20 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا20 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا20 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا24 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا24 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا24 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان22 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
