تازہ ترین
وادی کشمیر میں جون کے پہلے ہفتے میں اسکول کھلنے کا امکان
جموں وکشمیر حکومت ممکنہ طور پر جون کے پہلے ہفتے میں اسکولوں کو دوبارہ کھولنے جاری ہے،تاکہ مزید تعلیمی نقصان سے بچا جاسکے۔جموں وکشمیر کے پرنسپل سیکر یٹری،اسکول ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا ہے کہ حکومت نے اس ماہ کے آخر تک اسکولوں کی تزئین و آرائش مکمل کرنے اور جون سے کلاسز شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے ٹیو شن فیس وصول کریں گے،تاہم فیس میں چھوٹ پر حتمی فیصلہ انتظا میہ ہی لے گی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کی حکومت نے واضح اشارہ دیا ہے کہ جون کے پہلے ہفتے میں وادی کشمیر کے بند پڑے اسکولوں کو دوبارہ کھولا جائیگا۔ وادی کشمیر سے شائع ہونے انگریزی روزنامہ کیساتھ بات کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے پر نسپل سیکریٹری ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا ہے کہ ہم منصوبہ ترتیب دے رہے ہیں جون کے پہلے ہفتے میں اسکول دوبارہ کھل جائیں تاکہ اسکولی بچوں کو مزید تعلیمی نقصان سے بچا جاسکے۔
ان کا کہناتھا کہ ورچیول کلاسز،ٹیلی کلاسز اور ریڈ یو کلاسز اسکول کھلنے تک جاری رہیں گے۔ ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا کہ حکومت نے 60ہزار کتا بیں اور 1200ٹیبلٹس بشمول آف لائن لورڈڈ ویڈ لیکچرس طلبہ میں تقسیم کئے۔ان کا کہناتھا کہ جن طلبہ کے پاس سمارٹ فونز تک رسائی نہیں ہے،اُن تک ضرورت کے مطابق پڑھائی سے متعلق مواد پہنچایا گیا۔ اس دوران ایک سرکاری حکمنا مہ بھی جاری ہوا،جس کے مطابق جموں وکشمیر کے پرنسپل سیکر یٹری،اسکول ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے سبھی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ سبھی اسکولی عمارات کی تزئین و آرائش کھولنے سے قبل ہی مکمل کریں۔آر ڈر میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کی عمارات کی تزئین وآرائش بجٹ2020-21میں مختص رکھے گئے تجدید ومرمت اور بحالی فنڈ کی جائیگی۔محکمہ تعلیم کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انٹر نیٹ رفتار کم ہونے کی وجہ سے اسکولوں کو دوبارہ کھولا جارہا ہے،تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا،تاہم کووڈ۔19کی صورتحال کیسی پیدا ہوتی ہے،اُس پر سب کچھ انحصار ہے۔
پرویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر،جی این وار نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل پر سیاہ بادل منڈ لا رہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ4۔جی انٹر نیٹ اب خواب بن گیا ہے،اسکول کھولنے اور حکومتی اقدام کی حمایت کرنایا تعاؤن دینے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ان کا کہناتھا کہ کووڈ۔19صورتحال کو ملحوظ نظر رکھ کر رہنما خطوط پر عمل در آمد کرکے ہم نے اسکولز کھولنے کے منصو بے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ان کا کہناتھا ’اسکول مرحلہ وار بنیادوں پر کھلیں گے اور کلاسز ترتیب وار ہونگے،طلبہ کو اسکولوں میں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی،طلبہ کی صحت پہلی ترجیح رہے گی،ہر ایک کلاس میں عام سنیٹائزر ہوگا اور اسکولوں کو سماجی دوری اختیار کر نے کیلئے کہا جائیگا‘۔یاد رہے کہ وادی کشمیر میں 7مارچ کو حکومت نے ایک آرڈر جاری کیا،جسکے تحت پہلے پرائمری اور بعد ازاں مڈل وہائی اور ہائر اسکینڈری کے سبھی تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند رکھنے کے احکامات صادر کئے گئے۔
یہ احکامات عالمی وبا پھیلنے کے خد شات کے پیش نظر اٹھائے گئے۔ادھر ایک ٹوئیٹ میں جموں وکشمیر کے پرنسپل سیکر یٹری،اسکول ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے ٹیوشن فیس وصول کریں گے،انتظامیہ کو ٹیوشن فیس میں چھوٹ کرنے کا حتمی فیصلہ لینے دیں‘،جموں وکشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (بوس) کو موجودہ اسکولوں کی مستقل رجسٹریشن کرنے کی اجازت دی گئی،نجی اسکول ایسوسی ایشنز کو ایس ای ڈی کمیٹیوں میں نمائندگی دی گئی،تمام غیر ضروری این او سی ازکو ختم کیا جاتا ہے‘۔
دنیا
کولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
میکسیکو سٹی، کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے 10 اگست کو آئے شدید زلزلے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئینی طور پر معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کاراکول ٹیلی ویژن چینل پر نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’میں نے اس بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہمارے آئین میں فراہم کردہ ایک طریقۂ کار ہے۔‘‘
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے 53,526 مکانات کو نقصان پہنچا، 140 عمارتیں منہدم ہوگئیں، جبکہ 1,819 تعلیمی ادارے، 631 کمیونٹی مراکز اور 179 طبی مراکز بھی متاثر ہوئے۔ ایک پیدل پل تباہ ہوگیا، جبکہ 20 شاہراہوں کے پل، سڑکوں کے 203 حصے، پانی کی فراہمی کے 44 نظام اور 5 ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، قدرتی آفات کے خطرات کے انتظام کی قومی اکائی کے سربراہ ڈیوڈ تامایو نے کہا کہ کولمبیا کو شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے خصوصی تلاش اور بچاؤ ٹیمیں موصول ہوں گی۔
میریدیانو ریجنل کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق تامایو نے کہا، ’’ہم امریکہ، ایل سلواڈور، ایکواڈور اور اسرائیل کی تلاش اور بچاؤ ٹیموں سے مدد کے لیے تعاون، درخواستوں اور اپیلوں کو باضابطہ شکل دینے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس سے کولمبیا کے ان امدادی کارکنوں کی مدد اور جزوی طور پر متبادل انتظام ممکن ہوگا، جو کئی دنوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
اس وقت کولمبیا بھر میں تلاش اور بچاؤ کی 23 منظور شدہ ٹیمیں تعینات ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ٹیمیں چوکو اور وائے کا ڈیل کاؤکا کے علاقوں کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ دیگر مقامات پر کام کر رہی ہیں۔
10 اگست کی صبح کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس کا مرکز چوکو محکمہ میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے بیشتر علاقوں اور پڑوسی ممالک میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے بتایا کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 265 ہوگئی ہے، جبکہ 3,494 افراد زخمی اور 496 لاپتہ ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
