اہم خبریں
ودیا بالن شنکتلا دیوی کے کردار میں: ناقابل یقین ذہنی صلاحیت کی مالک شنکتلا دیوی کی زندگی پر فلم
ریاضی کی ماہر انڈیا کی شکنتلا دیوی، جنہیں اکثر ’انسانی کمپیوٹر‘ بھی کہا جاتا ہے، ان کی زندگی پر بننے والی ایک نئی فلم جمعہ کو ایمیزون پرائم پر نمائش کے لیے ریلیز کی جا رہی ہے۔
بالی ووڈ اداکارہ ودیا بالن جنہوں نے اس فلم میں شکنتلا دیوی کا کردار نبھایا ہے، ان کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ ایک ’چھوٹے شہر کی انڈین لڑکی تھیں جنہوں نے پوری دنیا میں دھوم مچا دی‘۔
ریاضی میں شکنتلا دیوی کے حیران کن مہارت کی وجہ سے ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا گیا اور انہیں دنیا بھر میں شہرت بھی ملی۔
شکنتلا دیوی نامی نئی فلم کے ٹریلر کے ایک سین میں جب کمرے میں بیٹھے لوگ ودیا بالن کے کردار سے دو بڑے نمبروں کو آپس میں ضرب دینے کو کہتے ہیں تو وہ مسکرا کر پوچھتی ہیں کہ ’جواب دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں دوں؟‘
اصل زندگی میں شکنتلا دیوی کینیڈا کے ایشین ٹی وی نیٹورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایسا کر چکی ہیں۔ اس انٹرویو کی ویڈیو پانچ لاکھ سے زیادہ بار دیکھی جا چکی ہے۔ یہ ویڈیو اپریل 2013 میں ان کے انتقال کے بعد جاری کی گئی تھی۔ ان کا انتقال 83 برس کی عمر میں ہوا تھا۔اس ویڈیو میں سوال پوچھنے والا شخص، جو کہ ایک کینیڈین یونیورسٹی میں ریاضی کے طالب علم تھے، کہتے ہیں کہ ’ایک کیلکولیٹر کو اس سوال کا جواب دینے میں تین منٹ لگیں گے‘۔ شکنتلا دیوی کچھ سیکنڈوں میں جواب دے دیتی ہیں۔
ممبئی سے فون پر بات کرتے ہوئے ودیا بالن نے کہا کہ ’انہوں نے کوئی باضابطہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی، لیکن وہ ریاضی کے مشکل سے مشکل سوال، اپنے ذہن میں لمحوں میں حل کر لیتی تھیں۔ سب سے تیز کمپیوٹر سے بھی تیز۔‘
اپنے انٹرویوز میں شکنتلا دیوی کہہ چکی ہیں کہ وہ، ’تین سال کی عمر سے اپنے ذہن میں ہندسوں کا حساب لگاتی آئی ہیں۔‘ وہ یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ ان کے والد کو، جو کہ ایک سرکس آرٹسٹ تھے، ان کے فن کے بارے میں تب پتہ چلا جب وہ تاش کھیلتے ہوئے انھیں ہر بار ہرا دیتیں، اور انہیں احساس ہوا کہ اس کی وجہ ہاتھ کی صفائی نہیں بلکہ پتوں کو یاد کرنے کی ان کی صلاحیت تھی۔
شکنتلا دیوی سے جب بھی ان کے اس غیر معمولی اور حیران کن ہنر کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ ’یہ خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے، ایک مقدس تحفہ۔‘وہ چھ سال کی تھیں جب انہوں نے انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے شہر میسور میں، جہاں ان کی پیدائش ہوئی، پہلی بار عوامی پرفارمنس دی۔
انہوں نے خود ہی لکھنا پڑھنا سیکھا اور پھر کئی دہائیوں تک دنیا بھر میں یونیورسٹیز، تھیئٹرز، ریڈیو اور ٹی وی شوز پر ناظرین کے سامنے، اپنے ذہن میں ریاضی کے مشکل سے مشکل سوال حل کرتی رہیں۔
سن 1950 میں انہوں نے بی بی سی کے ایک ٹی وی شو میں شرکت کی تو ان کا ایک جواب شو کے میزبان کے جواب سے مختلف تھا۔ شکنتلا دیوی نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ دراصل سوال میں ہی ایک غلطی تھی۔ جب ماہرین نے سوال پر دوبارہ نظر ڈالی تو شکنتلا دیوی کی بات صحیح نکلی۔
سن 1977 میں شکنتلا دیوی نے امریکی شہر ڈیلس میں یونیویک کو شکست دی، جسے دنیا کا تیز ترین سوپر کمپیوٹر سمجھا جاتا ہے۔
اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں جگہ بنانے کے لیے انہوں نے لندن کے امپیریئل کالیج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک ہزار لوگوں کے سامنے تیرہ تیرہ ہندسوں والے دو نمبروں کو اپنے ذہن میں ضرب دیا۔ انہیں ایسا کرنے میں 28 سیکنڈ لگے، جن میں 26 ہندسوں والا جواب پڑھنے کا وقت بھی شامل تھا۔ودیا بالن کہتی ہیں کہ ریاضی میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ شکنتلا دیوی علم نجوم کی بھی ماہر تھیں۔ انہوں نے علم نجومِ، کھانا بنانے، ریاضی اور جرائم پر کتابیں بھی لکھیں۔ انہوں نے ستر کی دہائی میں ہم جنس پرستی کو جرم تصور کیے جانے کے خلاف بھی ایک کتاب لکھی، جب انڈیا ہی نہیں بلکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک اور معاشروں کے لیے یہ ایک بڑی بات تھی۔
’ان کی شخصیت کے بہت سارے پہلو تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی اپنی شرائط پر جی، وہ بالکل بےخوف تھیں۔ اور یہ آج کل کی نہیں پچاس سال پرانی بات ہے۔‘
ودیا بالن کہتی ہیں کہ دو سال قبل جب فلم کی ہدایت کار انو مینن ان سے ملیں تو، ’میں نے شکنتلا دیوی کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں سنا، تو میں نے کہا کہ، اُف، یہ کہانی تو فلم بننے کا ہی انتظار کر رہی ہے۔‘
ودیا بالن نے بہت سارے ویڈیوز دیکھ کر، شکنتلا دیوی پر لکھے گئے آرٹیکلز پڑھ کر، اور انوپما بینرجی کی باتیں سن کر خود کو اس فلم کے لیے تیار کیا۔ انوپما بینرجی شکنتلا دیوی کی اکلوتی بیٹی ہیں، اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ لندن میں رہتی ہیں۔
’اس سب سے مجھے ان کی زندگی میں جھانکنے کا ایک موقع ملا۔ مجھے جو بات بہت دلچسپ لگی وہ یہ تھی کہ اکثر ہم ریاضی کے ساتھ کسی ایسے شخص کا تصور نہیں کرتے جو زندہ دل ہو، مستی کرتا ہو، لیکن شکنتلا دیوی اس تصور کو چیلینج کرتی ہیں۔’وہ ہندسوں کے ساتھ کھیلتی تھیں، جب وہ ریاضی کا کوئی سوال حل کر رہی ہوتی تھیں تو ان کے چہرے پر مسرت، خوشی نظر آتی ہے۔ اور انہیں پرفارم کرنا بہت پسند تھا۔ یہ سب ایک ریاضی دان کے لیے بہت غیر معمولی ہے، کیونکہ ریاضی کو اکثر بورنگ اور روکھا سمجھا جاتا ہے۔‘
بورنگ اور روکھا، یہ وہ الفاظ بالکل نہیں ہیں جو آپ شکنتلا دیوی کے ساتھ جوڑ سکیں۔
1990 میں کیے جانے والے ایک مطالعے میں انسانی قابلیت پر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں محقق آرتھر آر جینسن نے ان کے لیے ان الفاظ کا استعمال کیا ’چوکس، زندہ دل، خوش مزاج اور خوش کلام‘۔
تاہم فلم ساز اور سابق رکن پارلیمان پریتیش نندی کہتے ہیں کہ ان کی زندہ دلی اور خوش مزاجی کے باوجود ان کی زندگی میں ’کافی ‘بھی تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کی وجہ ان کی ذاتی زندگی تھی، مگر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ان کے پاس ہنر تو تھا مگر اس سے روزی کمانے کا ذریعہ نہیں۔‘
اپنے انٹرویوز میں شکنتلا دیوی اس بارے میں بات کر چکی ہیں کہ ان کا ہنر دریافت ہونے کے بعد ان پر کس طرح گھر چلانے کی ذمہ داری آن پڑی تھی، اور پھر بڑے ہونے کے بعد ایک ایسے شخص سے شادی جو دراصل ہم جنس پرست تھے۔پریتیش نندی کہتے ہیں کہ شکنتلا دیوی جب بھی ممبئی آتی تھیں تو ان سے ضرور ملتی تھیں۔
’وہ کبھی یہ سمجھ نہیں پائیں کہ ان کے ہنر کے پیچھے کیا تھا۔ میں ہمیشہ ان سے کہتا تھا کہ کیا آپ اپنے ذہن کے اندر جھانک کر یہ نہیں پتہ کر سکتیں کہ آپ یہ کرتی کیسے ہیں؟‘ اور وہ ہمیشہ کہتی تھیں ’بس یہ قدرتی طور پر ہو جاتا ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں ’وہ اپنے اس ہنر کی وجہ نہیں جانتی تھیں، مگر المیہ یہ ہے کہ کسی اور نے بھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔‘
نندی کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ روزی روٹی کے بارے میں فکر مند رہتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں ’جینیئس ہونا ہی کافی نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ انہیں زیادہ شوز نہیں ملتے۔ مگر تب تک ان کے ہنر کو ایک فن کے بجائے ایک عجوبے کی طرح دیکھا جانے لگا تھا۔‘انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں، ہندسوں کی جادوگری لوگ بھول چکے تھے۔ ان کا خود پر اعتماد بھی کچھ کم ہو گیا تھا۔ وہ علم نجوم کی طرف مائل ہو رہی تھیں، اور اپنا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ انھوں نے سینکڑون چیزیں کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ پارلیمانی انتخابات میں بھی حصہ لیا، مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔‘
اس فلم کے بارے میں ودیا بالن کہتی ہیں ’ایسا نہیں ہے کہ جینیئس میں کوئی خامیاں نہیں ہوتیں۔ زندگی اور اس فلم، دونوں کی خوبی یہی ہے۔ سب کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ اس سب کی عکاسی ہی اس فلم کو منفرد بناتی ہے۔‘
ودیا بالن کو امید ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی وبا کی وجہ سے لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، یہ فلم لوگوں کا دل بہلائے گی۔
’مجھے یہ بھی امید ہے کہ اس سے ہمارے بچوں کو ریاضی سکھانے کی طریقے میں بھی تبدیلی آئے گی، بچوں میں اس کا خوف کم ہوگا اور وہ اس کی طرف راغب ہوں گے۔‘
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
