ہندوستان
وقف ترمیمی بل:مشکل ترین لڑائی، اس میں گردوارہ پربندھک کمیٹی اور دوسرے اقلیتوں کو شامل کرنے کی ضرورت: سنجے سنگھ
نئی دہلی، حکومت کے پیش کردہ وقف ترمیمی بل 2024کو انتہائی خطرناک اور وقف جائداد پر قبضہ کی منصوبہ بند کوشش قرار دیتے ہوئے عام آدمی پارٹی(آپ) کے رکن پارلیمنٹ اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے رکن سنجے سنگھ نے کہاکہ یہ مشکل ترین لڑائی ہے اور اس میں گردوارہ پربندھک کمیٹی اور دوسرے اقلیتوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگلا نمبر ان ہی کا ہوگا۔
انہوں نے یہ بات انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے زیر اہتمام وقف ترمیمی بل 2024پر قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ یہ طویل لڑائی ہے اور یہ نہ صرف آئین اور مسلمانوں کے خلاف ہے بلکہ یہ ہندوؤں کے بھی خلاف ہے۔ اگر حکومت اس میں کامیاب ہوئی تو اگلا نشانہ، سکھ، بودھ اور ہندوؤں کے مٹھوں کی جائداد ہوگی۔ اس لئے یہ لڑائی مشترکہ ہے اور سب کو مل کر لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت یہ کہتی ہے مسلم خواتین کے حق کیلئے یہ ترمیمی بل لایاجارہاہے تو کیا حکومت نے کی مسلم خاتون سے اس بل کے سلسلے میں مشورہ کیا؟انہوں نے کہاکہ وہ پارٹی اور حکومت مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی بات کرتی ہے لیکن اس کا ایک بھی ایم پی مسلمان ہے، ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل ہندوستان کے خوبصورت تانے بانے کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ناصر حسین نے کہاکہ ان کی پارٹی کے صدر ملکاارجن کھڑگے نے انڈیا الائنس اور دیگراراکین پارلیمنٹ نے بات کی ہے اور کانگریس کا اعلی کمان اس لڑائی کو لڑنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس لڑائی میں تمام طبقوں اور تمام مسلم تنظیموں کو شامل کریں اور یہ کوشش کریں کہ یہ لڑائی سیکولر رہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگوں نے جے پی سی میں اس بات پر زور دیا ہے اور وعدہ بھی کیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈروں سے بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ وقف ترمیمی بل کے خلاف دو سطح پر لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو پارلیمنٹ کی سطح پر لڑی جائے اور دوسرے وقف ترمیمی بل کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمی کے خلاف۔ سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ جو غلط فہمی پھیلائی گئی ہے اسے دور کس طرح کی جائے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہاکہ ہمارا مطالبہ مکمل بل کی واپسی کا ہے اور مکمل طور پر اس بل کو مسترد کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ اس پر بات کرنے کوتیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس بل کا مقصد وقف املاک پر منصوبہ بند طریقہ سے قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس بل کے ذریعہ مسلمانوں کو مزید پسماندہ بنایا جائے۔ انہوں نے قانونی پہلو کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلاء کی ٹیم اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔بل کو پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے خلاف ہے اور مسلمان اس ترمیمی بل کو ہرگز قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
سابق رکن پارلمنٹ آئی ایم سی آر کے چیرمین محمد ادیب نے کہاکہ اس پروگرام میں جوبھی قرارداد پاس کی جائے گی اس کو لیکر جے پی سی کے پاس جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ اس کی آواز کو دور تک لے جائیں گے۔ اراکین پارلیمنٹ کے پاس جائیں گے ان کو بتائیں گے کہ اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔
سابق مرکزی وزیر کے رحمان خاں نے کہاکہ وقف کے سلسلے میں کسی حکومت نے اب تک مداخلت نہیں کی ہے بلکہ اس کے تحفظ کے لئے ایکٹ بنایا ہے۔ انہوں نے عوی کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں ریسرچ کرکے یہ بل لایا گیا ہے اور اس بل کے ذریعہ وقف املاک پر قبضہ اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔
پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اقبال انصاری نے کہا کہ اتفاق اور عدم اتفاق کوقبول کرنے کا نام جمہوریت ہے، بدقسمتی سے حکومت سے اختلاف رائے رکھنے والوں کو غدار سمجھا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو ’نیشن‘ کا مطلب ہی نہیں معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کو دیکھ کر دل مچلنے لگا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سب سے بڑا مسئلہ وقف دستاویزات کا ہے۔ پہلے تو دستاویزات ہوتے نہیں تھے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو متفقہ طور پر کسی بھی تحریک چلانے کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے۔
زکوۃفاؤنڈیشن آف انڈیا کے چیرمین ڈاکٹر ظفر محمود نے وقف املاک کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہاکہ تقریباً نو لاکھ ایکڑ زمینیں وقف ہیں۔ ایسا نہیں ہے صرف مسلمانوں کے پاس وقف زمین ہے دوسرے مذہب کے مٹھوں اور آشرم کے پاس اس سے کہیں زیادہ جگہ ہے لیکن نشانہ صرف وقف املاک ہے۔
سنھل سے ایم پی ضیاء الرحمان برق نے کہاکہ حکومت کو اسی طرح یہ بل واپس لینا ہوگا جس طرح اس نے کسانوں کا بل واپس لیا تھا۔
سپریم کورٹ کے معروف وکیل محمود پراچہ نے کہا کہ جے پی سی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ہمیں یہ لڑائی سڑکوں پر لڑنی ہوگی اور اس لڑائی میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو شامل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کے تحفظ کی لڑائی کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ جب آپ کہیں اس لڑائی میں شامل ہوجاؤں گا۔
ڈاکٹر خالد انور ایم ایل سی بہار نے کہاکہ ہماری پارٹی وقف ترمیمی بل کے خلا ف ہے اور یہ بل مسلمانوں کو وقف املاک سے محروم کرنے کی سازش ہے۔
دیگر مقررین میں سیدہ حمیدین حمید، لکشدیپ کے رکن پارلیمنٹ حمد اللہ سعید، رکن پارلمنٹ محب اللہ ندوی، حسیب احمد سابق آئی اے ایس، جماعت اسلامی کے انعام الرحمان، جاوید اقبال، ساجد پیروالا اور دیگر معززافراد شامل تھے۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر اعظم بیگ نے انجام دئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا13 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان10 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
