تازہ ترین
پاکستان، امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، ہم نہیں چاہتے۔ امریکی مشیر
واشنگٹن، یکم ستمبر (یو این آئی) امریکی سیکریٹری خارجہ کے سینئر مشیر ڈیرک شول نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے بلکہ یہ اُمید کرتا ہے کہ تمام ممالک خود اس بات کا فیصلہ کریں گے۔
ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ڈیرک شول نے کہا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ جو ممالک چین کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ڈان کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ، چین کے ساتھ کسی قسم کی مسابقت سے نہیں ڈرتا اور ہم چین کے ساتھ منصفانہ اور شفاف مسابقت کے خواہشمند ہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ اصولی اختلافات ہیں لیکن ہم پاکستان کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات برقرار اور وسیع تر رکھنا چاہتے ہیں۔
مسٹر ڈیرک شول نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے امریکہ پر اقتدار میں تبدیلی کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کے تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔‘
ڈان نے جب سوال پوچھا کہ کیا امریکہ کے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں تھے اور ان الزامات کی وجہ سے کیا عمران خان عالمی ریاستوں میں سب سے کم پسند کیے جانے والے سیاستدان ہیں؟ تو ڈیرک شول نے جواب میں کہا کہ ’میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ان تمام الزامات کی کوئی صداقت نہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہونی چاہیے کہ امریکہ۔ پاکستان تعلقات کس سمت میں گامزن ہیں، جو ناصرف اس بات کی عکاسی کرتے ہوں کہ جو کچھ ہم نے گزشتہ 75 برسوں میں حاصل کیا ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کریں جو ہم اگلے 75 برسوں میں حاصل کریں گے۔
امریکی عہدیدار نے پاکستان میں تباہ کن سیلابی صورتحال کے حوالے سے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے 3 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کردیا گیا ہے اور ہم مزید امداد دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’2010 کے بعد سے اس طرح کا خطرناک سیلاب پہلے کبھی نہیں دیکھا، یہ سیلاب 2010 کے سیلاب سے بھی بدتر ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں خوفناک سیلاب آیا ہے، جس کی وجہ سے شدید المناک صورتحال پیدا ہوئی‘۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اس خوفناک قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے، امریکہ بین الاقوامی برادری اور اپنے شراکت داروں سے مدد کی اپیل کرے گا۔ڈیرک شول نے کہا کہ امریکہ سیلاب زدگان کے لیے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد جمع کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرے گا۔
امریکا کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ’پاکستان کے چین کے ساتھ بہت پرانے تعلقات ہیں، ہم عالمی دنیا کو امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کا انتخات کرنے کو نہیں کہہ رہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام ممالک اس قابل ہوں کہ وہ خود فیصلہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چین سے مزید وسیع تر تعلقات کے خواہاں ہیں، ہمارے چین کے ساتھ معاشی تعلقات بہت مضبوط ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اسے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔
ڈان نے جب سوال پوچھا کہ کیا پاکستان، امریکہ کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے؟ تو امریکی مشیر نے کہا کہ ’جی بالکل، پاکستان دنیا کے بڑے مسلمان ممالک میں سے ایک ہے جبکہ دنیا میں پاکستان کی آبادی پانچویں یا چھٹے نمبر پر ہے، اسی وجہ سے پاکستان امریکا کے لیے انتہائی اہم ملک ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’دونوں ممالک کے تعلقات اگلے 75 سالوں میں مزید مستحکم اور گہرے ہوں گے، تاکہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک مشترکہ مفادات اور اہداف حاصل کر سکیں‘۔
ڈان نے جب سوال کیا کہ پاکستان کے عوام ایسا کیوں محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ، پاکستان کے مقابلے ہندوستان کو زیادہ ترجیح دیتا ہے، مثال کے طور پر امریکہ ہندوستان کو روس سے سستا تیل خریدنے کی اجازت دے سکتا ہے لیکن پاکستان کو ایسا کرنے سے روکتا ہے، کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ ڈیرک شول نے جواب دیا کہ ہمارے ہر ملک کے ساتھ تعلقات مختلف نوعیت کے ہیں، امریکہ کے پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ یقیناً اصولی اختلافات ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ان اختلافات کے باوجود کس طرح کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہم شراکت داری اور تعاون کے جذبے کے ساتھ ان اختلافات کو دور کرنے جارہے ہیں اور ان تمام چیزوں پر نظر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہم آپس میں بانٹتے ہیں، ہم اپنے مفادات اور اقدار پر قائم ہیں لیکن ہم اس سے کہیں زیادہ مشترکہ طور پر بانٹ سکتے ہیں۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر چین، ہندوستان کو اپنا اہم اتحادی بناتا ہے تو کیا امریکہ کو اس پر تحفظات ہوں گے، اس پر شول نے جواب دیا کہ ہم چین کے ساتھ تعلقات کو ہندوستان کے ساتھ منسلک نہیں کررہے، دونوں ممالک کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور دونوں ممالک کے حوالے سے ہمارے مختلف اہداف، عزائم اور چیلنجز ہیں‘۔تاہم انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکہ کو عالمی سطح پر چین کے حوالے سے تشویش لاحق ہے، چین پوری دنیا میں جو کردار ادا کر رہا ہے وہ امریکہ کے مفادات میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ، چین کے ساتھ مشترکہ اہداف مثلاً موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن چین نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ چین کے قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے کیا پاکستان کو بھی سری لنکا جیسے معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟ تو ڈیرک شول نے جواب دیا کہ ’ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ چین کے ساتھ معاہدے کرنے والے ممالک چاہے وہ جنوبی ایشیا سے ہوں یا کہیں اور سے، اُن کا انجام اچھا نہیں ہوتا، ہم عالمی دنیا کو واضح طور پر پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس فیصلہ کرنے کے پورے اختیارات ہیں۔
دنیا
ٹرمپ نے کانگریس کے انتخابات سے قبل ایران پر حملوں کا امکان برقرار رکھا
نیویارک، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملے کیے جانے کے امکان کو برقرار رکھا ہے۔
جب فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان سے انتخابات سے قبل دوبارہ حملے کیے جانے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو مسٹر ٹرمپ نے کہا، ’’یہ ممکن ہے، لیکن میں صرف یہ کہنا نہیں چاہتا۔‘‘
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے اطلاع دی تھی کہ مسٹر ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ انہیں اس ہفتے ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کی توقع ہے۔
یو این آئی ۔ ایم جے
ہندوستان
امبالہ میں زیر تعمیر عمارت گرنے سے 6 افراد ہلاک
پنچکولا، ہریانہ کے امبالہ ضلع میں 3 منزلہ زیر تعمیر عمارت کا ایک حصہ گرنے سے 6 مزدور ہلاک ہوگئے۔ حکام نے پیر کو بتایا کہ امدادی ٹیمیں پوری رات ملبے میں تلاش کا کام کرتی رہیں۔
یہ عمارت اتوار کو دوپہر تقریباً 3 بجے امبالہ شہر کے قریب دھلکوٹ گاؤں میں اس وقت منہدم ہوئی، جب مزدور تیسری منزل پر کنکریٹ کی چھت ڈالنے کا کام کر رہے تھے۔ ابتدا میں ہلاکتوں کی تعداد 4 بتائی گئی تھی، لیکن ملبے سے مزید لاشیں ملنے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی۔
قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف)، ریاستی آفات سے نمٹنے والی فورس (ایس ڈی آر ایف)، پولیس، فائر سروس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں کو جائے حادثہ پر تعینات کیا گیا۔ حکام کو خدشہ تھا کہ مزید مزدور ملبے میں پھنسے ہو سکتے ہیں، اس لیے رات بھر تلاش کا کام جاری رہا۔
پیر کی صبح دستیاب اطلاعات کے مطابق، 4 زخمی مزدور امبالہ سٹی سول اسپتال میں زیر علاج تھے۔ سول سرجن رینو بیری نے اس سے قبل بتایا تھا کہ 12 زخمی مزدوروں کو اسپتال لایا گیا تھا، جن میں سے کچھ کو علاج کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔
امبالہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجیت سنگھ شیخاوت نے کہا کہ عمارت گرنے کی وجہ اور تعمیر کی قانونی حیثیت کی تحقیقات کی جائیں گی۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ عمارت کی ملکیت اور تعمیر سے متعلق دستاویزات کی بھی جانچ کر رہی ہے۔
شیخاوت نے کہا، ’’اگر کسی غیر مجاز تعمیر یا لاپروائی کا پتہ چلا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
