جموں و کشمیر
پہلگام حملے میں شریک حیات کھونے والی ہمانشی اور اشانیہ کی اپیل
ہم نہیں چاہتے کہ لوگ مسلمانوں اور کشمیریوں کو نقصان پہنچائیں
صرف ظالموں کو سزااورہمیں انصاف دیں
سری نگر:جے کے این ایس : پہلگام دہشت گردانہ حملے کے شکار لیفٹیننٹ ونے نروال کی اہلیہ نے ملک کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف نہ جائیں ۔جے کے این ایس کے مطابق22اپریل کومحض7روزبعد اپنا شریک حیات کھودینے والی ہمانشی نے کہاکہ ہم امن اور صرف امن چاہتے ہیں، انصاف کےساتھ ساتھ، یقیناً۔ لیکن ہم نہیں چاہتے کہ لوگ مسلمانوں اور کشمیریوں کو نقصان پہنچائیں۔ہمانشی جس نے22 اپریل کے دہشت گردانہ حملے سے صرف ایک ہفتہ قبل لیفٹیننٹ ناروال سے شادی کی تھی،نے کہاکہ صرف ان لوگوں کو سزا دی جائے جنہوں نے اس کےساتھ ظلم کیا ہے۔ہمانشی اورونے ناروال پہلگام میں اپنی سہاگ رات پر تھے، جب ناروال کو 22 اپریل کو دہشت گردانہ حملے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پہلی مئی کو ناروال کی سالگرہ تھی۔ ناروال جمعرات کو 27 سال کے ہو چکے ہوں گے۔ کرنال کی این جی او نیشنل انٹیگریٹڈ فورم آف آرٹسٹ اینڈ ایکٹیوسٹ کی جانب سے ایک کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ مختلف مقررین نے مرحوم افسر کے بارے میں خوب باتیں کیں۔
خون کے عطیہ کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے ہمانشی نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں اور کشمیریوں کے پیچھے نہ جائیں۔ہمانشی نروال نے امن کی دعا کی اور اپنے نیول آفیسر شوہر لیفٹیننٹ ونے نروال کے لیے انصاف پر زور دیا۔پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، کشمیری طلباءاور تاجروں کو ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ہراساں کیا گیا اور ان پر حملہ کیا گیا جس کے بعد جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے وادی سے باہر کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے والے کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ہم منصبوں سے بات کی ہے۔اس دوران پہلگام دہشت گردانہ حملے میں اپنے شوہرکوکھونے والی اشانیہ نے کہاہے کہ واقعہ کے10 دن بعد بھی قصورواروں کے خلاف ابھی تک کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی ہے۔31سالہ شبھم دویدی 22 اپریل کو پہلگام کے بایسران علاقے میں زیادہ تر سیاحوں کو نشانہ بنانے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔ خبررساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے اشانیہ نے کہا کہ وہ نوکری یا معاوضہ نہیں مانگ رہی ہیں بلکہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ ان کے شوہر کو شہید کا درجہ دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ نہ تو شبھم کو شہید کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور نہ ہی حکومت نے قتل کے ذمہ دار دہشت گردوں کو ختم کیا ہے۔ مجھے نوکری یا پیسہ نہیں چاہیے – صرف میرے شبھم کے لیے شہید کا درجہ۔ انہوں نے کہاکہ میں اس درد کو زندگی بھر برداشت کروں گی۔ اشانیہ نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو ایک کمرے تک محدود رکھتی ہیں جہاں وہ شبھم کی تصویر اور حملے کے دوران پہنی ہوئی قمیض کو دیکھنے میں گھنٹوں گزارتی ہیں۔انھوں نے حملے کے بعد اس صدمے کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا، یہاں تک کہ ٹائر پھٹنے کی آواز یا تیز آواز بھی مجھے کانپ دیتی ہے۔ بدھ کو ایک دورے کے دوران، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سوگوار خاندان سے ان کی مہاراج پور رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اشانیہ نے کہا کہ اس نے اپنا مطالبہ کانگریس لیڈر کے سامنے رکھا، جنہوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر شبھم کو شہید کا درجہ دینے کی درخواست کریں گے۔انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا، راہل جی نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا وعدہ کیا ہے۔ اشانیہ نے حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ ہلاکتوں کے ذمہ دار دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور فوری کارروائی کرے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پھر کبھی کشمیر کا دورہ کرنے پر غور کریں گی، تو انہوں نے کہا کبھی نہیں، ایک بار بھی نہیں۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان12 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا10 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
