جموں و کشمیر
پہلگام حملے کے بعدجموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحد پر کشیدگی برقرار
پاکستانی فوج کی8ویں رات بھی بلااشتعال فائرنگ
ہندوستانی فوج نے دیاموثر اندازمیں جواب،سرحدی علاقوں میں بنکروںکی مرمت اورصفائی تیز
سری نگر:جے کے این ایس : پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحد پر کشیدگی برقرار رہے جبکہ ممکنہ جنگ کے خطرے کے پیش نظر سرحدی علاقوں میں لوگوںنے زیرزمین بنکروںکی مرمت اورصفائی تیز کردی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے جمعہ کی صبح بتایاکہ دوران شب پاکستانی فوجیوں نے جموں و کشمیر کے 5اضلاع میں لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کےساتھ بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا ہندوستانی فوج نے موثر اور مستعدی کیساتھ جواب دیا۔یہ گزشتہ 8روز میں پاکستانی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل آٹھویں خلاف ورزی ہے ۔اس دوران لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کےساتھ رہنے والے شہریوں نے گولہ باری میں اضافے کی صورت میں اُنہیں رہنے کے قابل بنانے کےلئے اپنی برادری اور انفرادی بنکروں کی صفائی شروع کر دی ہے۔جموں میں ایک دفاعی ترجمان نے کہاکہ یکم اور2مئی کی رات کے دوران، پاکستانی فوج نے سرحدپاراپنی چوکیوں جموں و کشمیر کے کپواڑہ، بارہمولہ، پونچھ، نوشہرہ اور اکھنور علاقوں میں چھوٹے ہتھیاروں سے بلا اشتعال گولہ باری کی۔ترجمان نے مزید کہا کہ ہندوستانی فوج کے دستوں نے مناسب اور متناسب طریقے سے جوابی کارروائی کی۔ دفاعی ترجمان نے کہاکہ ابتدائی طور پر شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور بارہمولہ اضلاع میں لائن آف کنٹرول کےساتھ ساتھ کئی پوسٹوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے بلا اشتعال فائرنگ کےساتھ، پاکستانی فوج نے تیزی سے اپنی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو پونچھ سیکٹر اور اسکے بعد جموں خطے کے اکھنور سیکٹر تک پھیلا دیا۔ترجمان کے مطابق اس کے بعد راجوری ضلع کے سندر بنی اور نوشہرہ سیکٹروں میں کنٹرول لائن کےساتھ کئی چوکیوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ اس کے بعد، فائرنگ کا دائرہ جموں ضلع میں بین الاقوامی سرحد کےساتھ پرگوال سیکٹر تک پھیل گیا۔
جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزیاں ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان حالیہ ہاٹ لائن بات چیت کے باوجود سامنے آئی ہیں، جس کے دوران ہندوستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزنے اپنے پاکستانی ہم منصب کوآئندہ خلاف ورزیوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔22اپریل2025کوسیاحتی مقام پہلگام کی مضافاتی بائسران وادی میں دہشت گردانہ حملے کے بعد 24 اپریل کوہندوستان کی جانب سے سندھ آبی معاہدہ کو معطل کرنے کے چند گھنٹوں بعد، پاکستانی فوجی جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن کے ساتھ مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کا سہارا لے رہے ہیں ۔24 اپریل کو پاکستان نے بھارتی ایئر لائنز کےلئےپنی فضائی حدود بند کر دی، واہگہ بارڈر کراسنگ بند کر دی، بھارت کےساتھ ہر قسم کی تجارت معطل کر دی، اور خبردار کیا کہ پانی کا رُخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کوجنگ کا عمل تصور کیا جائےگا۔ بھارت اور پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول اوردیگرسرحدوں پرسال2003میں ہوئے جنگ بندی معاہدے کی فروری 2021 میں دوبارہ توثیق کی گئی تھی، اوراس پر گزشتہ برسوں سے کافی حدتک عمل درآمدہورہاتھا۔
تاہم پہلگام حملے کے بعدسے پاکستانی فوج کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،جسکے باعث سرحدی علاقوںکی آبادی میں عدم تحفظ کیساتھ ساتھ تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ زیرزمین بنکروںکی مرمت اورصفائی کررہے ہیں۔ تاکہ گولہ باری میں اضافے کی صورت میں انہیں رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔مرکزی حکومت نے2017 میں14,460 انفرادی اور کمیونٹی بنکروں کی تعمیر کی منظوری دی۔ حکام نے بتایا کہ5 اضلاع: سانبہ، کٹھوعہ، جموں، پونچھ اور راجوری میں 8699 سے زیادہ کمیونٹی اور انفرادی بنکر بنائے گئے ہیں۔بین الااقوامی سرحد کے ساتھ آر ایس پورہ اور ارنیا سیکٹر کے ساتھ فصلوں کی کٹائی مکمل ہو چکی ہے، یہ کٹھوعہ، سانبہ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں ابھی بھی جاری ہے۔ہندوستان کی پاکستان کےساتھ کل 3323 کلومیٹر کی سرحد ہے، جسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: بین الاقوامی سرحد ، تقریباً 2400 کلومیٹر گجرات سے اکھنور، جموں میں دریائے چناب کے شمالی کنارے تک؛ لائن آف کنٹرول ،740 کلومیٹر لمبی، جموں کے کچھ حصوں سے لیہہ کے کچھ حصوں تک چلتی ہے۔ اور ایکچوئل گراو ¿نڈ پوزیشن لائن (APGL)110 کلومیٹر لمبی، سیاچن کے علاقے کو NJ9841سے شمال میں اندرا کول تک تقسیم کرتی ہے۔
جموں و کشمیر
کشمیر میں فوجی سربراہ نے ایل او سی کی تیاریوں کا جائزہ لیا، ’متحرک اور مشن کے لیے تیار‘ رہنے پر زور
سری نگر، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کشمیر میں تعینات فوجی جوانوں سے ’متحرک اور مشن کے لیے تیار‘ رہنے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں ’وجے‘ کے پانچ رہنما اصولوں کو اپنانے کی ہدایت دی۔
جنرل سیٹھ نے جمعہ کو چنار کور کے اگلے علاقوں کے دورے کے دوران لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہیں مضبوط سکیورٹی نظام برقرار رکھنے اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کیے جا رہے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
فوج کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک انفارمیشن (اے ڈی جی پی آئی) نے ایکس پر جاری پوسٹ میں بتایا کہ جنرل سیٹھ نے فوج کے تمام رینکس کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور مسلسل تیاری کی ستائش کی۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ جنرل سیٹھ نے تمام رینکس سے ’وجے‘ کے پانچ رہنما اصولوں کو اپنانے کی اپیل کی۔
ان اصولوں کا مقصد واضح مقصد کے ساتھ جدت لانا، تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا، عزم کے ساتھ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور چیلنجز کے سامنے آنے سے پہلے ان کا اندازہ لگانا ہے، تاکہ ہندوستانی فوج ہر صورت حال میں مضبوط، مستقبل کے لیے تیار اور مشن کے لیے آمادہ رہے۔ْ
جمعہ کو فوجی سربراہ نے کپواڑہ کے تنگدھر میں ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقد کیے گئے دسویں میگا آئی سرجیکل کیمپ کے دوران مریضوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں ادویات و تحائف تقسیم کیے۔ مسلح افواج کی طبی خدمات (اے ایف ایم ایس) کے سرجنوں نے ایل او سی کے ساتھ گولہ باری سے متاثرہ علاقے تنگدھر میں زیرِ زمین آپریشن تھیٹر میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کرنے والی سرجریاں انجام دیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
سری نگر، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اشوک کول نے جموں و کشمیر میں پارٹی کے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2012 سے جاری ان کی ایک دہائی سے زیادہ طویل مدت بھی ختم ہوگئی۔
جموں و کشمیر میں بی جے پی کے سب سے طویل عرصے تک تنظیمی ذمہ داری سنبھالنے والے رہنماؤں میں شامل کول نے تصدیق کی کہ انہوں نے عہدے کی ذمہ داری چھوڑ دی ہے اور اب اپنی اصل تنظیم میں واپس جائیں گے۔
انہوں نے اس فیصلے کی ایک وجہ عمر کو بتایا۔
کول نے یو این آئی سے کہاکہ ’’ہاں، میں نے اپنی عمر کی وجہ سے عہدہ چھوڑ دیا ہے۔‘‘
کول کا استعفیٰ بی جے پی کی تنظیمی سطح پر وسیع پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کے درمیان آیا ہے۔ پارٹی نے نتن نبین کو صدر مقرر کرنے کے بعد تنظیمی ڈھانچے میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ بی جے پی نے حال ہی میں کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نئی تنظیمی قیادت مقرر کی ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی ان تبدیلیوں کے تحت بی جے پی کے صدر نتن نبیَن نے ستیش پونیا کو پارٹی کا نیا جموں و کشمیر انچارج مقرر کیا ہے، جبکہ رینا کشیپ کو شریک انچارج کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
کشمیری پنڈت اور جموں و کشمیر میں بی جے پی کے اہم حکمتِ عملی سازوں میں شمار ہونے والے اشوک کول نے کئی برسوں تک دونوں خطوں میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا۔ اس دوران انہوں نے خاص طور پر کشمیر میں پارٹی کے نچلی سطح کے نیٹ ورک کو وسعت دینے پر توجہ دی۔
بی جے پی رہنماؤں کے مطابق، کول نے پارٹی کے کیڈر ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور روایتی طور پر پارٹی کے اثر و رسوخ سے باہر سمجھے جانے والے علاقوں تک اس کی سیاسی رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پارٹی نے کئی علاقوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو کبھی علیحدگی پسندی کے گڑھ سمجھے جاتے تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
