جموں و کشمیر
پہلگام حملے کے بعدمرکزی حکومت کا شہریت ثابت کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ
اب آدھار، پین اور راشن کارڈ سے ثابت نہیں ہوگی شہریت
صرف ووٹر شناختی کارڈ یا پاسپورٹ ہونگے شہریت کے ثبوت ،دہلی میں عمل درآمد
سری نگر: جے کے این ایس : اب آدھار کارڈ، پین کارڈ یا راشن کارڈ جیسے دستاویزات خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرنے کےلئے درست نہیں ہوں گے۔ دہلی پولیس کی ہدایات کے مطابق صرف ووٹر شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کو ہندوستانی شہریت کا ثبوت سمجھا جائے گا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی ہدایات پر لیا گیا ہے، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی غیر قانونی دراندازی کو روکنا ہے۔ اس کے علاوہ برتھ یعنی پیدائش سرٹیفکیٹ اور ڈومیسائل یعنی سکونت سرٹیفکیٹ کو حکومت ہند شہریت ثابت کرنے کےلئے بنیادی دستاویزات مانتی ہے۔قوانین میں تبدیلی کی وجوہات:دہلی میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کےخلاف مہم کو اب تیز کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال سے جاری تصدیقی مہم کے دوران، دہلی پولیس نے پایا کہ بنگلہ دیشی اور روہنگیا دراندازیوں کی ایک بڑی تعداد آدھار، پین اور راشن کارڈ کی مدد سے خود کو بھارتی شہری ظاہر کر رہی ہے۔ بہت سے معاملات میں وہ یو این ایچ سی آر کی طرف سے جاری کردہ پناہ گزین کارڈ لے کر بھی پائے گئے۔ اس سے اصلی اور نقلی میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔ ایسے میں مرکزی حکومت کے نئے احکامات کے مطابق بھارتی شہریت کے لیے اب ووٹر آئی ڈی اور پاسپورٹ کو حتمی ثبوت ماننے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت کے نئے احکامات کے بعد دہلی پولیس نے تمام اضلاع کے ڈی سی پیز کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں رہنے والے مشکوک غیر ملکی شہریوں کی شناخت کریں اور ان پر کڑی نگرانی رکھیں۔ دہلی میں موجود تقریباً 3500 پاکستانی شہریوں میں سے اب تک400 سے زیادہ کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مسلم شہریوں کے خلاف خصوصی کارروائی کی جا رہی ہے جبکہ ہندو پناہ گزینوں کو طویل مدتی ویزا کے تحت ریلیف دیا گیا ہے۔آدھار، پین اور راشن کارڈ شہریت کا ثبوت کیوں نہیں:ہندوستان کی منفرد شناختی اتھارٹی(The Unique Identificatio Authority of India)آدھار کارڈ کو شناخت اور رہائش کا ثبوت مانتی ہے، لیکن شہریت کا نہیں۔ پین اور راشن کارڈ پر بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے۔ پین کارڈ ٹیکس کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں اور راشن کارڈ کھانے کی تقسیم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دستاویز شہریت کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔حکومت برتھ یعنی پیدائش سر ٹیفکیٹ اور ڈومیسائل یعنی سکونت سر ٹیفکیٹ کو ہندوستانی شہریت کی نشاندہی کرنے والے بنیادی دستاویزات مانتی ہے۔
سرٹیفائنگ برتھ اینڈ ڈیتھ ایکٹ1969، مجاز حکام کو برتھ سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، جو ہندوستان میں پیدائش کے دعووں کی بنیاد پر شہریت کی توثیق کرتا ہے۔ڈومیسائل سر ٹیفکیٹ اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ کوئی شخص کسی مخصوص ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہے، جو ہندوستانی شہریت رکھنے کے دعووں کو مزید ثابت کرتا ہے۔بھارت کے ویزا پالیسی میں تبدیلی:پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت سرکارنے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ صرف سفارتی، طبی اور طویل مدتی ویزوں کو کسی حد تک استثنیٰ دیا گیا ہے تاہم میڈیکل ویزے بھی29 اپریل کے بعد کالعدم ہو گئے ہیں۔ دہلی پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو تمام پاکستانی شہریوں کی فہرست تیار کرنے اور انہیں پاکستان واپس بھیجنے کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔مستقبل میں اس پالیسی کو دیگر ریاستوں میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان6 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر4 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا8 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا8 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان6 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
