ہندوستان
پہلگام دہشت گردانہ حملہ: سپریم کورٹ نے ملک بدری کا سامنا کرنے والے خاندان کو عبوری راحت دی
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان جلاوطنی کے خطرے کا سامنا کرنے والے سری نگر کے ایک خاندان کو جمعہ کو عبوری راحت دی۔
جسٹس سوریہ کانت اور این کے سنگھ کی بنچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ ہندوستانی شہریت کے دعووں کی تصدیق کے بعد فیصلہ ہونے تک خاندان کے خلاف ملک بدری سمیت کوئی زبردستی کارروائی نہ کریں۔
22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ایک دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 26 افراد مارے گئے تھے۔ اس وحشیانہ واقعہ کے بعد سری نگر کے ایک شادی شدہ جوڑے اور ان کے چار بچوں کو ملک بدری کے خطرے کا سامنا ہے۔ خاندان نے عدالت کے سامنے دلیل دی ہے کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں اور ان کے پاس آدھار کارڈ، پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ اور ہندوستانی پاسپورٹ جیسے سرکاری شناختی کارڈ ہیں۔
پہلگام حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کے باعث ہندوستانی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سروس معطل کرتے ہوئے تمام پاکستانی شہریوں کو 27 اپریل تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزار کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ انہیں بلاجواز حراست میں لیا گیا حالانکہ ان میں سے ایک نے بہت پہلے اپنا پاکستانی پاسپورٹ حوالے کر دیا تھا اور وہ ہندوستان میں آباد ہو گیا تھا۔
خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نند کشور نے عدالت کو بتایا کہ خاندان کا ایک فرد بنگلورو میں کام کرتا ہے، جبکہ باقی سری نگر میں رہتے ہیں۔
متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے کوئی بھی کارروائی کرنے سے پہلے خاندانی دستاویزات کی درست تصدیق کی ضرورت پر زور دیا۔
بنچ نے کہاکہ “انسانی عنصر کے علاوہ ایسے مسائل ہیں جن کی توثیق کی ضرورت ہے۔
چونکہ حقائق پر مبنی درخواستوں میں تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے ہم اس معاملے کو بغیر کسی قابلیت کے نمٹا دیتے ہیں۔ حکام کو ہدایت دیں کہ وہ ان کے نوٹس میں لائے گئے دستاویزات اور دیگر متعلقہ حقائق کی تصدیق کریں۔‘‘
عدالت نے ہدایت دی ہے کہ حکام کی جانب سے جلد از جلد مناسب فیصلہ کیا جائے، جبکہ کوئی مخصوص ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے گریز کیا جائے۔ بنچ نے واضح کیا کہ اگر خاندان نتائج سے مطمئن نہیں ہے تو وہ مزید راحت کے لیے جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ’’اس حکم کو ایک نظیر کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہئے کیونکہ یہ اس کیس کے عجیب و غریب حقائق اور حالات پر مبنی ہے‘‘۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا مرکز کی طرف سے پیش ہوئے، نے مشورہ دیا کہ خاندان کو ازالہ کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کرنا چاہیے۔
تاہم درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پورے خاندان کو ہندوستانی شہری ہونے کے باوجود گرفتار کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ جب تک اس طرح کی تصدیق مکمل نہیں ہو جاتی اور حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، ان کے خلاف ملک بدری یا دیگر زبردستی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
عدالت عظمیٰ نے کیس بند کر دیا اور خاندان کے دعووں کی تصدیق کے لیے اسے حکام پر چھوڑ دیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا10 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان8 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
