تازہ ترین
پیر پنچال کے آر پار بھاری برفباری کا تیسرا دن
جنوبی کشمیر زیادہ متاثر،سرینگر میں ریکارڈ برفباری
مسافر طیارے گراؤنڈ،شاہراہیں بند،نظامِ زندگی مفلوج،کئی ایڈ وائزریاں جاری،لوگوں سے تعاؤن طلب
خبراردو
سرینگر:پیر پنچال کے آر پار منگل کے روز مسلسل تیسرے روز بھی برف باری کا سلسلہ دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا جسکے نتیجے میں وادی کشمیر میں نظام ِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوا جبکہ زونی مر سرینگر میں ایک رہائشی مکان کو نقصان پہنچا۔سرینگر کے بین الا قوامی ائر پورٹ پر مسلسل تیسرے روز بھی سبھی پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ سرینگر۔جموں شاہراہ سمیت بین الضلعی سڑک رابطے بھی بند ہیں۔
اس دوران سڑکوں اور شاہراہوں سے برف ہٹانے کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے،تاہم مسلسل برفباری کے سبب اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ادھر صوبائی انتظامیہ نے کئی ایڈ وائزریاں جاری کیں،جن کے تحت صارفین کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کے کوٹے میں کمی لانے کا اعلان کیا گیا جبکہ نجی گاڑیوں کی غیر ضروری نقل وحرکت پر روک اور لوگوں سے تعاؤن طلب کیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر کا مسلسل تیسرے روز بھی منگل کو بھاری برفباری کے سبب بیرونی دنیا سے زمینی اور فضائی رابطے منقطع رہے۔سرینگر کے بین الاقوامی ائر پورٹ پرمسافر طیارے گراؤنڈ کردئے گئے۔ائرپورٹ حکام نے بتایا کہ مسلسل برفباری،خراب موسم اور حد نگاہ کم ہونے کے سبب منگلوار کو سرینگر سے پروازیں بھرنے والے مسافر طیاروں کے شیڈول کو پہلے معطل اور بعد ازاں منسوخ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہوائی سروس کو بحال کرنے کے لئے ”رن وے“ سے برف ہٹانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،تاہم موسم میں بہتری آنے کیساتھ ہی یہ سروس بحال کردی جائیگی۔ادھر پروازوں کی آوا جاہی منسوخ ہونے سے مسافروں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔اس دوران سرینگر۔
جموں شاہراہ بھی منگل کو مسلسل تیسرے روز بند رہی۔حکام نے بتایا کہ جواہر ٹنل کے آر پار 3فٹ برفباری ہوئی جسکی وجہ سے یہ شاہراہ ٹریفک کی آمد ورفت کے قابل نہیں رہی۔شاہراہ بند ہونے سے 4500مسافر ومال بردار گاڑیاں شاہراہ کے مختلف مقامات پر درماندہ ہیں۔
270کلو میٹر لمبی سرینگر۔جموں شاہراہ واحد زمینی رابطہ ہے، جو کشمیر کو بیرونی دنیا سے جوڑتی ہے۔شاہراہ مسلسل بند رہنے سے کشمیر میں غذائی اجناس اور دیگر اشیاء ضروریہ کی سپلائی متاثر ہوئی کیوں کہ درماندہ گاڑیوں میں بیشتر ٹرکیں بھی شامل ہیں،جو کشمیر اشیاء ضروریہ لے کر آرہی تھیں۔حکام نے بتایا کہ شاہراہ سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے،تاہم مسلسل برفباری کی وجہ سے اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں گر آنے کیساتھ ساتھ لینڈ سلائڈنگ ہوئی اور کئی مقامات پر پہاڑی سلسلہ بھی کھسک آیا ہے۔وادی کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان کو پونچھ اور راجوری سے جوڑ نے والا تاریخٰ مغل روڑ بھی بھاری برفباری کے سبب بند ہے۔ادھر سرینگر۔لہیہ شاہراہ کو 31دسمبر کے روز آئندہ چار مہینوں کے لئے بند کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سرینگر میں ریکارڈ برفباری ہوئی۔
شام چار بجے تک سرینگر میں ایک سے ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوئی تھی۔سرینگر میں منگلوار کو دن بھر وقفے وقفے سے برفباری ہوتی رہی۔دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک برفباری ایک گھنٹے کے لئے تھم گئی،تاہم منگلوار کو سرینگر میں دن بھر برفباری ہوئی جسکی وجہ سے شہری گھروں میں محصور ہوئے۔شہر میں بھاری برفباری کے سبب ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی متاثر ہوئی۔سرینگر میں یہ ریکارڈ توڑ برفباری ہوئی۔گزشتہ سرینگر میں ڈیڑھ فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی۔رواں برس یہ برفباری گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
شہر میں بیشتر بازار بشمول تجارتی مرکز لالچوک بند رہا۔منگلوار کے روز سرینگر میں مجموعی طور پر تجارتی وکاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔گاڑیوں کی آمد ورفت میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔سڑکوں پر پھسلن پیدا ہونے سے گاڑیاں ہچکولے کھانے پر مجبور ہورہی تھیں۔
اگرچہ دوپہر تک سرینگر میں پبلک ٹرانسپورٹ دوڑتا نظر آیا،تاہم دوپہر کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوا۔شہر سرینگر کی گلی کوں میں برف جمع ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ نشیبی علاقے آب آنے سے لوگوں کو عبور ومرور میں مسائل کا سامنا ہے۔سرینگر کے میئر جنید متو کا کہنا ہے کہ صبح7بجے سے ہی ایس ایم سی عملہ شہر میں برف ہٹانے کے حوالے سے مصروف عمل ہوجاتا ہے جبکہ پانی کی نکاسی کے لئے85ڈیواٹر پمپ نصب کئے گئے جن میں 35موبائل پمپ ہیں۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ میں منگلوار کی صبح تک29.8سینٹی میٹربرف جمع ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ48گھنٹوں کے دوران وادی کشمیر میں کل ملاکر80سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق جنوبی کشمیر میں واقع مشہور معروف سیاحتی مقام پہلگام،جوکہ امرناتھ یاتریوں کا بیس کیمپ بھی ہے،میں اس عرصے کے دوران 18سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ کوکرناگ میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران26سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔
ادھر محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق وادی کشمیر کے مشہور ومعروف سیاحتی مقام گلمرگ میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران20سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ یہاں منگلوار کو مزید برفباری ہوئی۔سرحدی ضلع کپواری میں سب سے کم برفباری ہوئی،یہاں صرف 2سینٹی میٹر برفباری ہونے کی اطلاع ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندر بل میں سرینگر کی طرح ہی برفباری ہوئی۔ان دونوں اضلاع میں 24سے30سینٹی میٹر تازہ برفباری ہوئی جبکہ شام دیر گئے تک یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری تھا۔پلوامہ،شوپیان،کولگام اور اننت ناگ میں بھی درمیانہ درجے سے لیکر بھاری برفباری ہونے کی اطلاع ہے۔اس دوران موصولہ اطلاعات کے مطابق شوپیان میں بھاری برفباری نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح سے متاثر کر دیا ہے۔
شوپیان قصبہ میں دوفٹ کے قریب برف گری ہے جبکہ کنڈی اور بالائی علاقوں جیسے کلر،کاٹھوالن، ہیرپورہ، رام نگری، ریشی نگر،شمشی پورہ، سدھو، شاداب،دیو پورہ اور چھانچھ مرگ نصر پورہ،دوناڑو پہلی پورہ اور سعد پورہ وغیرہ علاقوں میں 3 فٹ سے بھی زیادہ برف پڑی ہیے، جس سے کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور لگ بھگ سبھی بالائی علاقے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے کٹ کر رہ گے ہیں۔جس کی وجہ سے اور تو اور شدید طرح کے مریضوں اور زچگی کے عمل سے دوچار خواتین تک کو ہسپتال تک پہچانا مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے۔
ضلع کے بہت سے علاقوں میں لوگوں کو روڈ کنیکٹوٹی اور بجلی کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔اس کے علاوہ بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں۔وادی بھر میں برفباری سے بین الاضلعی رابطہ سڑکیں بند ہیں جبکہ شمال وجنوب میں درجنوں دیہات ضلع ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔حکام نے سڑکوں سے برف ہٹانے کے لئے مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگایا ہے۔
اس دوران صوبائی انتظامیہ نے کئی طرح کی ایڈوائزریاں بھی جاری کیں۔جن کے تحت عوام سے تعاؤن طلب کیا گیا۔ایک ایڈوائزی کے تحت پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صارفین کو 3لیٹر تک ہی پیٹرولیم مصنوعات دیں۔حکمنامے کے مطابق ٹو ویلر کے لئے 3لیٹر،تھری ویلر کے لئے5لیٹر،فور ویلر (پرائیویٹ) کے لئے 10لیٹر اور کمرشل گاڑیوں کے لئے20لیٹر تیل دینے کی ہدایت دی گئی۔ دریں اثناء سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.8ڈگری سیلشیس درج کیا گیا جبکہ پہلگام میں یہ درجہ حرارت منفی1.1ڈگری سیلشیس،گلمرگ میں منفی4.0ڈگری سیلشیس،قاضی گنڈ میں منفی0.2ڈگری سیلشیس،کپوارہ میں منفی 0.7ڈگری سیلشیس اور کوکرناگ میں رات کا درجہ حرارت منفی0.7ڈگری سیلشیس درج کیا گیا۔
وادی کشمیر میں اس وقت سخت ترین سردیوں کے ایام چل رہے ہیں،جنہیں عرف عام میں ”چلہ کلان“ کہا جاتا ہے۔چلہ کلان کی مدت40روز پر محیط ہوتی ہے اور یہ مدت31جنوری کو اختتام پذیر ہوجائیگی۔چلہ کلان کی مدت گزشتہ برس21دسمبر کو شروع ہوئی۔اس عرصے کے دوران وادی کشمیر میں برفباری ہونا فطری عمل ہے۔البتہ اس کے چلہ خرد کے20دن اور چلہ بچہ کے10دن بھی شدید سردیوں کے ایام ہوتے ہیں۔
اس عرصے کے دوران بھی وادی کشمیر میں برفباری ہوتی رہتی ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بدھ سے موسمی صورت ِ حال میں تبدیلی آسکتی ہے اور برفباری کا جاری سلسلہ بھی تھمنے کا قوی امکان ہے۔(کے این ایس)
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا11 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا10 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
