تازہ ترین
ڈاکٹر محمد مرسی ؒ کاحراستی قتل۔۔۔عالم اسلام خاموش کیوں؟
غازی سہیل خان
تاریخ کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حق،باطل کے خلاف روزِ اول سے ہی بر سر پیکار ہے۔کبھی حضرت ابراہیم ؑ کو حق کے پیغام کی خاطر دہکتی آگ میں جھونک دیاگیا تو کبھی موسی ؑکو فرعونیت کے انکارکی وجہ سے ستایا گیا، اسی طرح نبی مہربان حضرت محمد مصطفیﷺکو اسی دین کی خاطر کبھی طائف کی وادیوں میں پتھروں کی بارش سے لہو لہان کیا گیا،تو کبھی میدان اُحد میں دندانِ مبارک شہید گئے گئے اور کبھی شعب ابی طالب میں قید کیا گیا۔ اس سب کے بعد بھی جب عرب کے مشرکین کا جی نہیں بھرا تو محسنِ انسانیتﷺ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا، تاہم اس قدر مظالم کے باوجود بھی رحمت للعاللمین ﷺکسی طرح کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرتے،ٹھیک اسی طرح جس طرح سے حضرت ابراہیم ؑاور حضرت موسٰی ؑنے بغیر کسی کمزوری کے مصائب و مشکلات جھیلنے برداشت کئے مگر دعوت حق سے دست بردار نہیں ہوئے۔چوں کہ اللہ تعالیٰ کو تمام ادیان ومذاہب پر اسلام کو غالب کرنا ہے جس کے لئے وہ چند پاک نفوس کا بار بار انتخاب عمل میں لاتا آرہا ہے، جن کا مقصد صرف ”اللہ کی زمین پر بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلانا رہا ہے۔جو بھی پاک نفوس اس مشن کے لئے آج تک اُٹھے اُن کو وقت کے فرعونوں،نمرودوں،بو جہلوں سے سامنا ہونا اس مشن عظیم کا جُز ولاینفک ہے۔ وقت کے فرعون ہٹ دھرمی اور اپنی ظاہری کامیابی کے لیے ہر ایک حربہ آزماتے رہے ہیں تا کہ یہ پاک نفوس حق کی دعوت سے منحرف ہوں، اُنہوں نے کبھی مظلوم کو ”ملک دشمن“ قرار دیا تو کبھی بغل میں چھری لیے ہوئے رام رام کہنے والے کو حاکم بنا کر قتل عام کی روش اختیار کرنے کی جوا زیت پیش کی۔کبھی خفیہ طریقے سے ٹارگٹ کلنگ کی تو کبھی با ضابطہ عدالتوں کے ذریعے سے بے گناہوں کا قتل عام کرنے میں پہل۔اس پر بھی طرہ یہ کہ ان پاک نفوس پر مظالم اور ان کے قتل کے بعد لواحقین سے درد و غم کا اظہار کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔
فی الوقت ہم ان کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح عالمی سطح پر اسلام پسندوں کو کُچلا جا رہا ہے۔ کبھی بنگلہ دیش میں نام نہاد ٹربونل بنا کر مخصوص جماعتِ مومنین کو تختہ دار پر لٹکایا جارہا ہے تو کبھی مصر میں نبی ﷺ کے محبوں کو بڑی ہی بے دردی کے ساتھ احتجاج کے دوران لاشوں کے انبار لگا دئے گئے۔گزشتہ ہفتہ بھی عالم اسلام کو ایک کربناک خبر ملی جس میں مصر کے پہلے منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسی ؒکو طاغوت اور اپنوں کی سازش کے ذریعے ہم سے چھین لیا۔محمد مرسی ؒ عالم اسلام کے ایک ایسے قائد و رہنما تھے جس نے بغیر کسی کمزوری اور لچک کے وقت کے فرعونوں اور نمرودوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ دیا کہ ”جو کوئی بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت کرے گا میں اس کے ساتھ محبت کروں گا اور جو کوئی نبی مہربان کے ساتھ نفرت کرے گا میں بھی اُس کے ساتھ نفرت کروں گا۔“ اُمت کے اسی غمخوار کو وقت کے فرعونوں نے عشق نبیﷺ کی پادائش میں گزشتہ چھے سالوں سے اپنے دیگر ساتھوں سمیت زینت زنداں بنایا۔محمد مرسیؒ ان پاک نفوس کی جماعت میں شامل تھا جنہوں نے مغرب اور سعودی بادشاہوں کو دکھا دیاکہ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ ہم بھی پر امن ذرائع اور جمہوری طریقے سے دنیا کو امن دے سکتے ہیں،مظلوموں کی مدد،بے کسوں کا سہارا،یتیموں اور بچھڑے ہوئے مظلوموں کے غموں کا مداوا کر سکتے ہیں،لیکن ان کو یہ راس نہ آیا اور منتخب حکومت کو پلک جھپکتے ہی ختم کر دیا۔
محمد مرسی ؒ مشرق وسطی کی ایک ایسی تحریک کے ساتھ وابستہ ہو کر عرصے دراز سے مظلوم انسانیت کے لئے لڑ رہے تھے جس تحریک کے حصے میں عزیمت کی لازوال تاریخ درج ہے۔ ”اخواان المسلمون“ کے قیام کے بعد ہی سے اس سے وابستہ سرفروشوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے گئے،کبھی جمال عبدالناصر جیسے نمرود کے ساتھ اخوان کی پنجہ آزمائی ہوئی تو کبھی انوارسادات جیسے لوگوں کو انہوں نے للکارا،اسی طرح سے مسلسل 30 سال تک مصر کی عوام حُسنی مبارک کے مظالم میں پستی رہی۔ٹھیک انبیاء علیہ السلام کی سُنت کے مطابق ان اخوانیوں نے دردناک مظالم سہنے برداشت کئے لیکن اسلام کی عظمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔حُسنی مبارک کی استعماری حکومت سے مصر کی عوام کو یہ اللہ کے چہیتے بندے بیدار کرتے رہے کہ اسلام امن کا دین ہے، اسلام کا اپنا سیاسی،معاشی اور سماجی نظا م ہے جس کی نتیجے میں2011 ء میں مصر کی تاریخ میں پہلی بار جمہوری طریقے سے اخوانی رہنما ڈاکٹر محمد مرسی کو عوام کی بھاری اکثریت نے صدارت کی کرسی کے لئے منتخب کیا۔دنیا میں مظلوم مسلمانوں کی جان میں جان آگئی، فلسطین میں خوشیوں کے ترانے بجائے گئے، عراق کی لُٹی انسانیت کو سہارا مل گیا،شام میں بشارالسد کے درناک مظام سے عوام نے بچنے کا سہارا پایا،افغانستان پر امریکی بم اور بارودسے زخمی عوام کو نویدِ سحر کی خشبو آنے لگی، غرض مصر کے ساتھ ساتھ دنیا میں مظلوم ومحکوم انسانوں کے دلوں میں جینے کی تمنا جاگ اُٹھی جس کے لیے وقت کے فرعونوں نے اپنوں کی شکل میں ایسے مہرے تیار کیے کہ ایک مختصر مدت کے بعد ہی اخوان سے یہ حکومت جبراً چھین لی گئی۔ اپنوں کے ساتھ مل کر عالم کفر نے اخوان المسلمون کی حکومت کا تختہ اُلٹ کراس سے وابستہ رہنماؤں اور کارکنوں کو کال کوٹھریوں میں ڈال دیا۔
مصر میں جمہوری حکومت کو گرانے میں سب سے زیادہ اہم کردار تین ممالک امریکہ،اسرائیل اور سعودی عرب کے علاوہ حُسنی مبارک کے ٹکڑوں پر پلنے والی وہاں کی مقامی جماعت ”النور پارٹی“ اس سازش کا حصہ رہی۔چونکہ اخوان نے 1948ء میں سب سے پہلے فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑی،محمد مرسی نے صدارت کی کرسی کے بعد حماس کی ہمت بندھائی اور یہ وعدہ کیا کہ ہم ان کی بھر پور مدد کریں گے۔غرض اخوان کی حکومت اسرائیل کے وجود کے لئے موت تھی۔ یہ امریکہ کو کیسے برداشت ہوتا، اسی طرح شام میں بشار السد کی بدترین ڈکٹیٹر شپ اور انسانوں کے قتل عام کا اب حساب لگنا تھا،سب سے اہم جو سعودی عرب کے حکمرانوں کو اپنے باپ دادا کی وراستی کرسی کے چھن جانے کا ڈر بھی ستانے لگاتھی، کیوں کہ سعودی عرب میں خلافت کے نام پر بدترین قسم کی خاندانی بادشاہی یعنی ڈکٹیٹر شپ کا نظام رائج ہے اور اس نظام کے خلاف کسی کو بات کرنے تک کی اجازت نہیں، جہاں صحافیوں کی بے باکی پر اُن کو قتل کیا جاتا ہے، اسلامی نظام حکومت سے وابستہ افراد کو پھانسی پر لٹکایا جا رہا ہے۔
اسی طرح جسے اس وقت کے امریکی صد باراک اوبامہ نے اخوان کی جیت کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ”اگر اخوان سو فی صد ووٹ لے کر بھی حکومت بناتی ہے تو ہمیں پھر بھی ان کی حکومت قبول نہیں ہوگی۔“تجزیہ نگاروں کے مطابق جہاں مغرب کو جمہوری حکومت راس نہیں آتی وہاں وہ نام نہاد مسلم لیڈروں کی مدد سے ڈکٹیٹر شپ کو ہر حال میں نافظ کروا دیتے ہیں اور پھر دنیا کے سامنے یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ مسلمان جمہورت پسند نہیں ہیں۔اس ساری صورتحال کے بیچ سعودی عرب،امریکہ اور اسرائیل نے آستین کے سانپ اور فرعونی صفت والے جنرل السیسی پر ڈالروں کی برسات کر دی، اسے تیارکیا کہ وہ کسی طریقے مصر کی اس حکومت کوختم کر دیں۔ 13جولائی 2013ء کو”السیسی“ نے النور پارٹی کی مدد سے جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ دیا،جس کے ردعمل میں رابعہ کے میدان میں پُرامن طور احتجاج کر رہی معصو م اور نہتی عوام کو طاقت کے نشے میں چور ہو کر بے دردی کے ساتھ ٹینکوں اور گاڑیوں کے نیچے روند کر موت کے گھاٹ اُتار دیاگیا اور ایک ایک کر کے اخوانی رہنماوں کو جیل میں ڈال کر من گھڑت مقدمات کی نذر کر دیا گیا۔گزشتہ چھے برسوں سے ڈاکٹر محمد مرسی کو قید تنہائی میں انتہائی اذیت ناک مراحل سے گُزارا گیا،بی،بی،سی کے ایک رپورٹ کے مطابق علاج تو دور کی بات محمد مرسی ؒ کو بُنیادی ادویات سے بھی محروم رکھا گیا۔قیدتنہائی کے چھے سالوں میں صرف چار بار اُن کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی گئی،محمد مرسی کی شہادت سے قبل آٹھ ماہ اہل خانہ کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی تھی۔
محمد مرسی مصر کی تاریخ کے ابھی تک کے واحد رہنما تھے جو کہ جمہوری طریقے سے صدرمنتخب ہوئے،پیشے کے لحاظ سے میکنیکل انجینئر اور حافظ قرآن تھے۔جی ہاں یہ وہی مرسی تھے کہ جب کبھی بھی اپنی تقریر کے دوران اذان ہوتی تو وہ اذان کا جواب زور زور سے دیتے چوں کہ مصرمیں حکمرانوں کے لئے عالی شان محلات بنائے گئے ہیں مرسی وہ واحد صدر تھے جس نے ان محلات میں رہنا پسند نہیں کیا بلکہ ایک کرائے کے گھر میں رہتے تھے۔محمد مرسی کو lowest paid leaderکہا جاتا ہے جس میں محمد مرسی کوایک سال کی تنخواہ 10ہزار ڈالر تھی اور وہ بھی کبھی نہیں لی۔ اپنے دور اقتدار میں اکثر عوام میں رہتے تھے اور اکثر نمازیں عام لوگوں کے ساتھ مساجد میں ادا کرتے تھے۔اس دوران کبھی بھی نماز فجر قضا نہیں ہوئی۔صدارتی دفتر سے ساری تصویریں ہٹا دیں گئی اور ایک اللہ کا نام فریم میں لگا دیا گیا۔اپنے دور اقتدار میں ایک بار اُن کی بہن شدید بیمار ہو گئی،دوستوں نے اُن سے اصرار کیا کہ ان کو یورپ کے کسی بڑے ہسپتال میں لے جایا جائے تا کہ وہ صحتیاب ہو جائے، ان کی یہی بہن مقامی سرکاری ہسپتال میں انتقال کر گئیں حالاں کہ اگر محمد مرسی ؒ چاہتے تو بحیثیت صدر ایک دستخط پر کچھ بھی ہو سکتا تھا، الغرض اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی بھی اور کرسی کو اپنی ذاتی میراث نہ سمجھ کرمحمد مرسی ؒ عالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔
بھلا اس کردار کے مالک بے باک قائد کو عالم کفراور گدی نشین بادشاہ کیسے قبول کرتے؟محمد مرسی کی شہادت کو عالم اسلام ایک قتل مانتی ہے خاص طور سے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ صدر مرسی کی موت ایک سازشی قتل ہے اور میں اس کو عالمی عدالت میں لے جاوں گا۔یہ طاغوت بڑی سازشیں رچاکر اسلام پسندوں کا قافیہ حیات تنگ کرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔لیکن یہ جانتے نہیں اللہ تعالی سب چالوں کو جانتا ہے ”ومکروا ومکر اللہ،واللہ خیر المٰکرین““ (آل عمران:۴۵) یہود اپنے رسول عیسیٰؑ پر ایمان نہیں لائے، اس کے بجاے اُنہوں نے اُس کے خلاف لمبی چوڑی سازشیں کی۔ اُنہوں نے عیسیٰؑ پر تہمت لگائی،انہوں نے اُن کی ماں مریمؑ پرسنگین الزام لگائے۔اور اُسکے بعد ہمارے نبی مہربان ﷺ پر بھی مشرکین اور منافقین مکہ نے گھناؤنے انداز میں بہتان تراشیاں کی، اتنا ہی نہیں بلکہ مجنون اور جادو گرتک کہہ دیا۔انبیاؑ کی طرح حق پر چلنے والوں پربھی اسی طرح الزامات اور بہتان تراشی کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ محمد مرسیؒ اور اخوان کے کارکنوں پر الزام اوربھتان باندھے گئے مثلا محمد مرسی پر اایک الزام یہ لگایا گیا کہ وہ حماس سے ہمدردی رکھتے ہیں، کیا کسی مظلوم کی مدد کرنا جرم ہے؟
یہ ساری دُنیا بھی جانتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی کچھ نام نہاد مسلم حکمران اور اپنے آپ کو مولوی کہنے والے محمد مرسی کے مظلومانا قتل کو غلط نہیں سمجھتے بلکہ یہ مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ دیگر کارکنوں کو بھی اسی طرح قتل کیا جائے تاکہ یہ دین کی جدوجہد سے انحراف کریں۔ خاک ان کے منہ میں،کیا یہ جانتے نہیں کہ جس تحریک سے جڑے سرفروشوں نے دین اسلام کے شمع کو روشن رکھنے کے لیے اپنے دل جلائے ہیں، اپنے گھروں کو جلتے دیکھا ہے اپنے بچوں کو قربان ہوتے دیکھا ہے، جس تحریک سے جڑے افراد نے اپنا گرم گرم لہو دے کر اسلام کے باغ کو سینچا ہو، ایسی تحریک جس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لے چاہے کتنی ہی کوششیں طاغوت کریں ان کو ناکامی ہی ہاتھ آئے گی۔السیسی اس طرح کے مظلومانہ اقدام سے اخوانی عزائم کو ختم نہیں کر سکتا۔اور وہ دن بھی اب دور نہیں جب قابض جنرل السیسی بھی اپنے انجام کو پہنچ پائے گااور روز آخرت پر اس کو ہر ایک قتلِ ناحق کا حساب دینا پڑے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کو بغیر کسی تعصب کے اس پر غور کرنا چاہیئے کہ حق کیا ہے اور حق کو ہی مٹانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے اور اس حق کا ساتھ دینے کی کتنی ضرورت ہے۔اللہ تعالی محمد مرسی شہید ؒ کی مظلومانہ شہادت کو قبو ل فرما کر جنرل السیسی اور اس کے حواریوں کو اپنے انجام تک پہنچا دے۔
رابطہ: ghazisuhail09@gmail.com
نوٹ:ادارے کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں.
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
