اہم خبریں
ڈی ڈی سی انتخابات کا مرحلہ دوم پرامن طور اختتام پذیر
شدید ٹھنڈ،کووڈ۔19بحران اور فقید المثال سیکیورٹی بندوبست کے بیچ منگلوار کے روز8مراحل مراحل پر محیط ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات کا مرحلہ دوم پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔صبح سات بجے سے لیکر دوپہر2بجے تک ووٹنگ عمل جاری رہا،جس دورانرائے دہندگان میں پہلے مرحلہ کی طرح کافی جوش وخروش دیکھنے کو ملا۔ اسٹیٹ الیکشن کمشنر کے کے شرما نے بتایا کہ ڈی ڈی سی انتخابات کے مرحلہ دوم کے تحت جموں وکشمیر میں کل43 حلقہ ہائے اِنتخاب کے لئے ووٹ ڈالے گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی اِنتخابات مرحلہ دوم کے لئے321 اُمید وار میدان میں ہیں جن میں کشمیر ڈویژن سے 196 اور جموں ڈویژن سے125اُمیدوار میدان میں ہیں۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کے43حلقوں میں منگلوار کی صبح7بجے ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات کا مرحلہ دوم شروع ہو کر دوپہر2بجے پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔الیکشن کمیشن کے مطابق شدید سرحدی کے باوجود صبح9تک ووٹر ٹرن آؤٹ 6.61فیصد رہا۔سرکاری حکام نے بتایا کہ شدید سرحدی کے باوجود رائے دہند گان میں جوش وخروش نظر آرہا ہے اور پولنگ مراکز پر لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ صوبہ کشمیر کے ضلع کپوارہ میں صبح9بجے تک3.54فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی جبکہ اسی طرح بانڈی پورہ میں 15.56فیصد،بارہمولہ میں 1.88فیصد،گاندر بل میں 2.44فیصد،سرینگر میں 8.33فیصڈ،بڈگام میں 2.09فیصد،پلوامہ میں 0.71فیصد،شوپیان میں 2.11فیصد،کولگام میں 1.89فیصد اور اننت ناگ میں 4.47فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔صوبہ جموں کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ جموں کے کشتواڑ میں صبح9بجے تک پولنگ شرح 8.49فیصد درج کی گئی جبکہ اسی طرح ڈوڈہ میں 9.08فیصد، رام بن میں 6.39فیصد،ریاسی میں 10.90فیصد،ادھمپور میں 9.26فیصد،کٹھوعہ میں 10.45فیصد،سانبا میں 17.27فیصد،جموں میں 9.80فیصد،راجوری میں 9.06فیصد اور پونچھ میں 13.49فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ صوبہ کشمیر میں مجموعی ووٹنگ شرح صبح9بجے تک 3.23فیصد جبکہ جموں میں 10.36فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے مرحلہ دوم کے پہلے دو گھنٹے کی مجموعی ووٹنگ شرح6.61فیصد رہی۔
یاد رہے کہ مرحلہ اول میں مجموعی طور پر ووٹنگ شرح52فیصد درج کی گئی تھی۔الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر ایک تک مجموعی طور پر ووٹر ٹرن آؤٹ40.31فیصد ریکارڈ کی گئی۔حکام نے منگل کو بتایا کہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جموں کشمیرکے اندر دن کے ایک بجے تک 40.31فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایک بجے تک کپوارہ ضلع میں 34.44فیصد،بانڈی پورہ میں 60.99،بارہمولہ میں 24.69،گاندر بل میں 39.05،سرینگر میں 28.41،بڈگام میں 37.72،پلوامہ میں 6.96،شوپیان میں 13.08کولگام میں 24.34اور ضلع اننت ناگ میں 28.13فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح جموں صوبے کے کشتواڑ میں 50.47،ڈوڈہ میں 55.82،رامبن میں 57.31،ریاسی میں 53.67،اْدھمپور میں 45.31،کٹھوعہ میں 50.71،سانبہ میں 57.42جموں میں 61.10،راجوری میں 53.27اور پونچھ ضلع میں 59.90فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ صوبہ کشمیر میں 27.84فیصد اور صوبہ جموں میں 54.10فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔
اسٹیٹ الیکشن کمشنر کے کے شرما نے ڈی ڈی سی انتخابات کے مرحلہ دوم سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یو ٹی میں کل 280 حلقہ ہائے اِنتخاب ہیں (ہر ضلع میں 14) جن میں سے43 حلقہ ہائے اِنتخاب کے لئے دوسرے مرحلے میں صبح 7بجے سے دوپہر2بجے تک ووٹ ڈالے گئے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ڈی ڈی سی اِنتخابات مرحلہ دوم کے لئے321 اُمید وار میدان میں ہیں جن میں کشمیر ڈویژن سے 196 اور جموں ڈویژن سے125اُمیدوار میدان میں ہیں۔پنچایتی ضمنی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کے کے شرما نے کہا کہ سرپنچ اِنتخابات83 حلقہ ہائے اِنتخاب ہوں گے اور دوسرے مرحلے میں کل 223 اُمید واروں میں سے 151 مرد اور72 خواتین اُمیدوارحصہ لے رہے ہیں۔ اِسی طرح، پنچوں ضمنی اِنتخابات میں، جو 331 انتخابی حلقہ ہائے میں ہونے جارہے ہیں، میں پنچایتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 331 حلقہ ہائے انتخاب پر کل709 اُمید وار وں میں سے 552 مرد اور 157 خواتین اِنتخابی میدان میں ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ58 سرپنچ جن میں 29 مرد اور29 خواتین ہیں اور804 پنچ جن میں 548 مرد اور256 خواتین ہیں بلا مقابلہ منتخب کئے گئے ہیں۔ کے کے شرما نے مزید کہا کہ جموں کشمیر میں 57 لاکھ ووٹران رائے دہی کے اہل ہیں جن میں سے 7 لاکھ95 ہزار رائے دہندگان دوسرے مرحلے میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔
جن کیلئے پولنگ سٹیشن پہلے ہی قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ795118 لاکھ ووٹروں میں سے388273 سے زیادہ ووٹر جموں ڈویژن سے اور406845کشمیر ڈویژن سے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ کشمیر ڈویژن میں 212024 مرد رائے دہندگان اور 194821 خواتین ووٹرہیں جہاں جموں ڈویژن میں 204721 مرد ووٹراور 183553 خواتین ووٹر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ2142 پولنگ بوتھ جن میں جموں ڈویژن میں 837 اور کشمیر ڈویژن میں 1305 قائم کئے گئے تھے۔ مرحلہ دوم کے انتخابات کواحسن طریقے سے انعقاد کرنے کے لئے تمام اِنتظامات اَفرادی قوت، اِنتخابی مواد اور حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے لئے مناسب انتظامات کئے گئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولنگ سٹیشنوں میں انتخابات سے متعلق تمام انتظامات مکمل کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کووِڈ۔19 وبأ سے متعلق احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد ہوا اور ہر پولنگ سٹیشن میں سینی ٹائیزر، تھرما میٹر، ماسک وغیرہ رائے دہندگان اور اِنتخابی عملے کیلئے بہم رکھے گئے تھے۔ ایس ای سی نے بتایا کہ جموں اور ادھم پور میں کشمیری مائیگرنٹوں کے لئے خصوصی پولنگ بوتھ بھی قائم کئے گئے تھے تاکہ وہ انتخابی عمل میں اپنی رائے دہی کا اِستعمال کرسکیں۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ ڈی ڈی سی اور پنچایتی ضمنی اِنتخابات2020 شروع ہونے والے28 /نومبر سے 19 /دسمبر تک8 مرحلوں میں منعقد ہوں گے۔ ووٹ شماری22 / دسمبر کو منعقدہوگی۔پہلے مرحلے کی ووٹنگ شرح52فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
