تازہ ترین
ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج کا اعلان: پی اے جی ڈی کو اکثریت حاصل، بی جے پی سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور ابھری
بیورو رپورٹ خبر اردو
[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=Ad-2IpMtV3g[/embedyt]
جموں کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا۔ اب تصویر صاف ہوئی۔ اب یہ واضح ہوا کہ کس کے دعوے کتنے سچ ثابت ہوئے۔ ڈی ڈی سی انتخابات کے لئے جموں کشمیر کی مین اسٹریم پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر آئیں اور الیکشن میں حصہ لیا ۔ پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلیریشن نے انتخابات میں ایک سو دس سیٹیں اپنے نام کیں ہیں ۔ بی جے پی نے چوہتر سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ وہیں کانگریس نے چھپیس سیٹیں جبکہ اپنی پارٹی نے بارہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ انتخابات میں دلچسب یہ رہا کہ لوگوں نے اس بار آزاد امیدواروں کے حق میں ووٹ دیے ۔ ان انتخابات میں آزاد امیدواروں نے انچاس سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔

سب سے پہلے ہم بات کریں گے اننت ناگ کی ۔ اننت ناگ میں پی اے جی ڈی نے نو سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ تین سیٹیں کانگریس کے کھاتے میں گئیں جبکہ دو سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کی ہے۔ پیپلز الائنس نے اننت ناگ میں اچھ بل، اننت ناگ ، بجبہاڑہ، برنگ، دچھنی پورہ، کھوری پورہ لارنو پہلگام اور سگام سیٹ کو اپنے نام کیا۔ وہیں کانگریس نے ہلر شاہ آباد اور شانگس سیٹ پر جیت درج کی ۔ ویسو اور ویریناگ سیٹوں کو آزاد امیدواروں نے اپنے نام کیا ہے ۔

ضلع بڈگام میں بھی پیپلز الائنس نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ بڈگام میں پیپلز الائنس نے دس سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ دو سیٹوں پر پی ڈی ایف نے جیت درج کی جبکہ دو سیٹیں آزاد امیدواروں نے اپنے نام کیں ہے۔ بڈگام میں پی اے جی ڈی نے بی کے پٌورہ، بڈگام، چاڈورہ، خانصاحب، ناگام،ناربل، پکھرپورہ، پارنیوا، سوئبگ اور سُرسیار سیٹوں پر جیت درج کیں ہیں ۔ رٹسُن اور سُکھناگ کی سیٹوں پر پی ڈی ایف جبکہ بیروہ اور کھاگ میں آزاد امیدواروں نے جیت درج کی ہے۔

بانڈی پورہ میں پی اے جی ڈی نے سات سیٹیں اپنے نام کیں ہیں ۔ وہیں کانگریس ، اپنی پارٹی اور بی جے پی کے کھاتے میں ایک ایک سیٹ گئیں ۔ جبکہ تین سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کی ہے ۔ وہیں ہاجن اے میں گنتی کے عمل کو روک دیا گیا تھا اس سیٹ پر ابھی نتائج آنے باقی ہیں ۔

ادھر بارہمولہ کی اگر بات کریں تو بارہمولہ میں پی اے جی ڈی نے پچاس فیصد سیٹیں اپنے نام کیں ہیں ۔ پی اے جی ڈی نے بارہمولہ کی سات سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ دو سیٹیں اپنی پارٹی ، دو سیٹیں کانگریس جبکہ تین سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کیں ہیں ۔ پی اے جی ڈی نے بارہمولہ،بونیار، نارواو پٹن،رفیع اآباد،رہامہاور سنگھ پورہ سیٹوں کو اپنے نام کیا ۔ وہیں جموں کشمیر اپنی پارٹی نے کنزر اور ٹنگمرگ سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ کانگریس نے پرنپیلا اور زینہ گیر سیٹوں پر جیت درج کی ہے جبکہ آزاد امیدواروں نے سنگرامہ، تُجر شریف اور واگورہ کی سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔

گاندربل میں پی اے جی ڈی نے گیارہ سیٹیں اپنے نام کیں ہیں ۔ جبکہ بقیہ تین سیٹیں آزاد امیدواروں کے کھاتے میں گئیں ہیں ۔ ضلع گاندربل میں جموں کشمیر اپنی پارٹی، کانگریس اور بی جے پی کو ایک بھی سیٹ حاصل نہیں ہوئی۔

جموں ضلع میں بی جے پی نے گیارہ سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ جموں میں کانگریس کا کھاتا بھی نہیں کھلا۔ پی اے جی ڈی کے حق میں ایک سیٹ گئیں جبکہ دو سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کی ہے ۔

کٹھوعہ کی اگر ہم بات کریں تو یہاں ایک طرح سے بی جے پی نے کلین سویپ کیا، بی جے پی نے ضلع کی تیرہ سیٹوں کو اپنے نام کیا وہیں بقیہ ایک سیٹ بی ایس پی کے کھاتے میں گئی۔ پی اے جی ڈی یہاں کھاتا کھولنے میں بھی ناکام رہی۔

ڈوڈہ میں بی جے پی نے آٹھ سیوٹوں کو اپنے نام کیا ۔ کانگریس کے کھاتے میں چار سیٹیں گئیں جبکہ پی اے جی ڈی نے ایک سیٹ کو اپنے نام کیا وہیں ایک سیٹ آزاد امیدوار کے حق میں گئی۔

کشتواڑ میں پی اے جی ڈی نے چھ سیٹیں اپنے نام کیں ہیں ۔ وہیں بی جے پی اور کانگریس کے کھاتے میں تین تین سیٹیں گئیں جبکہ دو سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کی ہے ۔

کولگام میں پی اے جی ڈی نے بارہ سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ وہیں کانگریس دو سیٹیں اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئی۔ بی جے پی اور اپنی پارٹی یہاں اپنا کھاتا تک نہیں کھول پائی ۔

کپواڑہ ضلع کی اگر بات کریں تو یہاں پی اے جی ڈی نے نو سیٹیں جبکہ آزاد امیدواروں نے تین سیٹیں اپنے نام کیں ہیں ۔ وہیں اپنی پارٹی ٹنگڈار سیٹ کو اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی ۔

پونچھ میں بی جے پی اپنا کھاتا کھولنے میں ناکام رہی ۔ پونچھ میں کانگریس چار سیٹیں اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی وہیں پیپلز الائنس کے کھاتے میں دو سیٹیں گئیں جبکہ سات سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کی ہے ۔
پلوامہ میں پی اے جی ڈی نے نو سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ وہیں آزاد امیدواروں کے حق میں چار سیٹیں گئیں جبکہ بی جے پی نے ایک سیٹ پر جیت درج کی ہے۔

راجوری کی اگر بات کریں تو یہاں بھی پی اے جی ڈی نے چھ سیٹیں اپنے نام کیں ہے ۔ وہیں بی جے پی کے کھاتے میں دو سیٹیں گئیں جبکہ کانگریس نے تین سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ راجوری میں اپنی پارٹی نے ایک سیٹ جبکہ ایک سیٹ کو آزاد امیدوار نے اپنے نام کیا ہے ۔

رامبن میں بھی پی اے جی ڈی نے چھ سیٹیں اپنے نام کیں ہیں ۔ یہاں بی جے پی کے کھاتے میں تین سیٹیں گئیں جبکہ کانگریس کے حق میں دو اور آزاد امیدواروں نے تین سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔

ریاسی میں بی جے پی نے سات سیٹیں اپنے نام کیں ہیں ۔ اپنی پارٹی نے دو سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ پیپلز الائنس کے حق میں تین سیٹیں آئیں جبکہ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار نے جیت درج کی ہے ۔

وہیں سانبہ میں بی جے پی نے کلین سویپ کیا ۔ سانبہ کی تیرہ سیٹوں پر بی جے پی نے جیت درج کی ہے جبکہ پیپلز الائنس کے کھاتے میں یہاں ایک سیٹ آئی ۔ باری برہمنا سیٹ پر این سی امید وار نے جیت درج کی ہے ۔

ضلع شوپیاں میں پی اے جی ڈی نے سات سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ یہاں آزاد امیدواروں نے چار سیٹیں اپنے نام کیں وہیں اپنی پارٹی کے کھاتے میں دو سیٹیں جبکہ کانگریس کے کھاتے میں ایک سیٹ آئی۔

سرینگر میں آزاد امیدواروں نے سات سیٹوں پر جیت درج کی ۔ یہاں پی اے جی ڈی اور اپنی پارٹی کے حق میں تین تین سیٹیں آئی جبکہ ایک سیٹ بی جے پی کے نام رہی۔

ادھمپور میں بی جے پی نے گیارہ سیٹوں پر جیت درج کی ہے ۔ وہیں پینتھرس پارٹی کے حق میں دو سیٹیں جبکہ ایک سیٹ آزاد امیدوار کے نام رہی۔
انتخابات کے نتائج کے دوران کچھ ایسی سیٹین بھی تھیں جن پر گنتیکا عمل کسی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔ ان سیٹوں پر ابھی نتائج آنے باقی ہیں۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان23 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
