ہندوستان
کانگریس بیلگاوی میٹنگ میں گاندھی جی کے ستیہ گرہ کو ‘نئے ستیہ گرہ’ میں تبدیل کرے گی
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ مہاتما گاندھی کی صدارت میں منعقد ہ تاریخی بیلگاوی کنونشن کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر 26 دسمبر کو بیلگاوی میں ہی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی توسیعی میٹنگ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں ملک بھر سے 200 سے زائد اہم لیڈر شرکت کریں گے کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جئے رام رمیش اور کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ اسی جگہ مہاتما گاندھی نگر میں ہوگی۔ مہاتما گاندھی کو 100 سال قبل منعقدہ کانگریس کے اجلاس میں پہلی بار انڈین نیشنل کانگریس کی صدارت سونپی گئی تھی۔ اس میٹنگ کو ‘نو ستیہ گرہ’ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ 100 سال پہلے گاندھی جی نے ستیہ گرہ کا خیال اسی جگہ سے پیش کیا تھا۔ توسیعی میٹنگ میں مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو درپیش چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اگلے دن ایک بہت بڑی ریلی نکالی جائے گی۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا “تاریخی کنونشن کی 100 ویں سالگرہ کی یاد میں ہم بیلگاوی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی توسیعی میٹنگ ‘نو ستیہ گرہ’ کا اہتمام کر رہے ہیں اور ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ اسی جگہ پر ہوگی جہاں مہاتما گاندھی جی نے انڈین نیشنل کانگریس کی صدارت سنبھال لی۔ کرناٹک کانگریس نے تاریخی کنونشن کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس کے لیے شہر کو سجا دیا گیا ہے۔ اس تاریخی کنونشن میں کل سی ڈبلیو سی کے اراکین، مستقل مدعو، خصوصی مدعو، مرکزی الیکشن کمیٹی کے اراکین، ریاستی کانگریس کمیٹی کے اراکین، ریاستی سی ایل پی قائدین، پارلیمانی پارٹی کے عہدیداران اور کانگریس پارٹی کے سابق وزرائے اعلیٰ سمیت تقریباً 200 اہم لیڈران شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا “میٹنگ 26 دسمبر کو دوپہر 2.30 بجے مہاتما گاندھی نگر میں شروع ہوگی۔ 27 دسمبر کو صبح 11.30 بجے بیلگاوی میں جئے باپو، جئے بھیم، جئے آئین ریلی نکالی جائے گی۔ مہاتما گاندھی نگر میں منعقد ہونے والی ریلی میں کانگریس پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ، عہدیدار اور لاکھوں کانگریس کارکنان شرکت کریں گے۔ ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں کانگریس کے آئندہ برسوں کے ایکشن پلان اور پروگرام پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جس میں دو تجاویز شامل ہوں گی۔ اس میٹنگ میں بی جے پی کے دور حکومت میں ملک کو درپیش سنگین چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں معاشی عدم مساوات، جمہوریت کا خاتمہ اور آئینی اداروں پر حملے شامل ہیں۔ یہ انڈین نیشنل کانگریس کے تاریخی پروگراموں میں سے ایک ہوگا۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا ’’سو سال پہلے، دسمبر 1924 میں، مہاتما گاندھی کی صدارت میں بیلگاوی میں کانگریس کا 39 واں اجلاس منعقد ہوا تھا۔ یہ مہاتما گاندھی کی صدارت میں کانگریس کا واحد اجلاس تھا اور اس میں موتی لال نہرو، جواہر لعل نہرو، لالہ لاجپت رائے، سروجنی نائیڈو اور ولبھ بھائی پٹیل سمیت کئی سرکردہ قومی رہنماؤں نے شرکت کی تھی ۔ ہمیں اس تقریب پر واقعی فخر ہے۔ کانگریس پارٹی اور قوم پرستی میں یقین رکھنے والے لوگوں کو اس عظیم تحریک پر فخر ہے۔
مسٹر وینو گوپال نے کہا “بیلگاوی میں گاندھی جی کی صدارتی تقریر میں عدم تشدد، سیاسی آزادی کے حصول کے ذریعہ عدم تعاون، چھوت چھات کا خاتمہ، برادریوں کے درمیان اتحاد کو فروغ دینا، سماجی و اقتصادی نابرابری کو دور کرنا اور انصاف اور مساوات کے اصولوں کو مضبوط کرنا شامل تھا۔ . یہ 1924 میں گاندھی جی کی تقریر کے اہم نکات تھے۔ بیلگاوی اجلاس تحریک آزادی اور سماجی و اقتصادی اصلاحات کی بنیاد بن گیا۔
کانگریس قائدین نے کہا ’’کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ایک توسیعی خصوصی میٹنگ 26 دسمبر کو بیلگاوی میں منعقد کی جارہی ہے۔ بیلگاوی وہی جگہ ہے جہاں 100 سال پہلے مہاتما گاندھی کانگریس کے صدر بنے تھے۔ اس میٹنگ کو ‘نو ستیہ گرہ’ کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ سو سال پہلے گاندھی جی نے بیلگاوی سے ستیہ گرہ کا اعلان کیا تھا۔ اسی جگہ سے کانگریس ‘نئے ستیہ گرہ کے حل’ کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
انہوں نے کہا “27 دسمبر کو بیلگاوی میں ایک بڑی ریلی ہوگی، جس میں ملک بھر سے کانگریس کے تمام لیڈر اور کارکنان شرکت کریں گے۔ اس ریلی کا نام ‘جئے باپو-جئے بھیم-جئے آئین’ ہوگا۔ اس سے پہلے 26 دسمبر کو دو قراردادیں پاس کی جائیں گی، جو ملک کے سامنے رکھی جائیں گی- اس میں کانگریس پارٹی کا اگلے ایک سال کا ایکشن پلان بھی شامل ہوگا۔
کانگریس کے لیڈروں نے کہا کہ کانگریس پارٹی پچھلے سات دنوں سے امبیڈکر سمان ہفتہ منا رہی ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کے ذریعہ بابا بھیم راو امبیڈکر کی توہین کے سلسلے میں ہم نے ملک کے 100 سے زیادہ شہروں میں پریس کانفرنسیں بھی کی ہیں۔ آج تمام اضلاع میں میٹنگیں ہو رہی ہیں، مورچے نکالے جا رہے ہیں اور ایک دستاویز تیار کی جا رہی ہے، جسے صدر جمہوریہ کو سونپا جائے گا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مسٹر شاہ معافی مانگیں اور انہیں کابینہ سے برطرف کیا جائے۔
بیلگاوی کانفرنس کے بارے میں انہوں نے کہا “یہ ہمارے لیے ایک تاریخی اجلاس ہے۔ کچھ سال پہلے ادے پور میں ایک جنتن شیور ہوا تھا ، جس سے ‘بھارت جوڑو یاترا’ کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ امید ہے کہ بیلگاوی سے بھی کچھ تاریخی فیصلے کئے جائیں گے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا19 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر19 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا23 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا23 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان21 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا19 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
