ہندوستان
کانگریس کا ‘مودی کی گارنٹی’ پر سوال اٹھانا حیران کن : مودی
نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کانگریس پر چوطرفہ حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت پر حملہ کرنے والی اور اپنے مفاد میں ملک میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو پنپنے والی کانگریس کی سوچ پرانی ہوچکی ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ صرف دس برسوں میں ملک کو پانچویں بڑی معیشت بنانے کی مودی کی گارنٹی پر وہ سوال اٹھا رہی ہے۔
راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطبے پر تحریک شکریہ پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر مودی نے آج راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اپنی ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں مسٹر کھڑگے نے ان پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس دوران وہ ایوان میں بیٹھ کر ان کی تقریر سن رہے تھے، لیکن انہوں نے شرافت اور تحمل کا دامن نہیں چھوڑا ۔
مسٹر مودی نے کہا کہ اس دن مسٹر کھڑگے نے ‘دو کمانڈوز’ کی غیر موجودگی کا پورا فائدہ اٹھایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس بات سے حیران ہیں کہ ملک پر اتنے طویل عرصے تک اپنے اقتدار کے دوران جمہوریت کو تباہ کرنے والی کانگریس کے لیڈر ایسا سبق کیسے پڑھاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کھڑگے نے لوک سبھا انتخابات میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو ‘400 سیٹوں کا آشرواد دیا ہے اور اس کے لئے وہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ کانگریس لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے مغربی بنگال سے چیلنج پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے اور 40 سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کو بولنے کا حق ہے اور حکمراں جماعت کو سننے کا حق ہے، لیکن مسٹر کھڑگے کی اس دن کی تقریر سن کر ہمارا یہ یقین پختہ ہو گیا ہے کہ کانگریس پارٹی کی سوچ بھی پرانی ہو چکی ہے اور اس نے اپنا کام بھی آؤٹ سورس کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر اتنے لمبے عرصے تک حکومت کرنے والی پارٹی کا اتنا زوال دیکھ کر ہمیں دکھ ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس نے اپنے اقتدار کے دوران جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا اور منتخب حکومتوں کو راتوں رات گرا دیا۔ ایمرجنسی کے دوران تمام ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی اور میڈیا کو روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ملک کو توڑنے کے لئے نئے موضوعات گڑھے ہیں اور اب شمال اور جنوب کو توڑنے کے بیانات دیئے جارہے ہیں اور اب یہ پارٹی ہمیں جمہوریت اور آئیڈیل ازم کی تبلیغ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کانگریس نے اپنے مفاد میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو پنپنے دیا، نکسل ازم کو چیلنج بننے دیا، دشمنوں کو بڑی زمین سونپی، فوج کی جدید کاری کو روکا، وہی کانگریس آج ہمیں سبق پڑھا رہی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ملک میں نیشنلائزیشن اور پرائیویٹائزیشن میں الجھی رہنے والی والی کانگریس دس برسوں میں ملک کی معیشت کو 12ویں سے 11ویں نمبر پر لے آئی جب کہ دس برسوں میں ملک کی معیشت کو پانچویں نمبر پر لانے والی مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر کانگریس درس دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس جس نے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور غریب لوگوں کو عام زمرے کے ریزرویشن سے محروم رکھا، اس نے بابا صاحب کو نہیں بلکہ اپنے ہی خاندان کے افراد کو بھارت رتن دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کی پالیسی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے وہ مودی کی گارنٹی پر سوال اٹھا رہی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا ‘ کانگریس کے دس سالہ دور اقتدار کے سلسلے میں ملک کے لوگوں میں اتنا غصہ کیوں ہے؟ یہ غصہ ہماری وجہ سے نہیں، بلکہ یہ غصہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا5 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
