پاکستان
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس؛ آرمی چیف کی شرکت کیا معنی رکھتی ہے؟
کراچی — پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کے روز ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی سرگرمیوں کے مرکز کراچی کے پیچیدہ اور اہم مسائل کے حل کے لئے اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم نے واضح ہدایت دی کہ کراچی میں تجاوزات ہٹانے سے پہلے وہاں کے مستحق مکینوں کیلئے پیشگی متبادل انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح کراچی کو پانی فراہم کرنے کے منصوبے’ کی استعداد اور افادیت بڑھانے کی سفارشات مرتب کرنے کیلئے وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت تکنیکی کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 100 سے زائد منصوبوں کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہےجو 1117 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونگے۔ ان منصوبوں کو تکمیلی مراحل کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اجلاس میں جہاں وفاقی وزراء فیصل واوڈا، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور صوبہ سندھ کے چیف سیکریٹری نے شرکت کی، وہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ملک کی اعلیٰ ترین انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید بھی شریک ہوئے۔
“اعلیٰ فوجی قیادت کی شرکت فیصلہ سازی میں اہم کردار اور دلچسپی کی عکاس ہے”
کئی سیاسی مبصرین سیاسی اجلاس میں اعلیٰ فوجی قیادت کی شرکت کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ اُن کے خیال میں فوجی قیادت کی شرکت، فوج کی اس بارے میں دلچسپی اور فیصلہ سازی میں اس کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
بعض سیاسی مبصرین کے مطابق اجلاس میں اعلی فوجی قیادت کی شرکت کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فوج اور سویلین قیادت مسائل کے حل کے لئے ایک ساتھ ہیں۔ سیاسی مبصر ڈاکٹر توصیف عالم کے مطابق اس سے فوج کی فیصلہ سازی میں اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ اقدام حزب اختلاف کے لیڈر نواز شریف کے الزامات کو تقویت دیتے ہیں۔
ڈاکٹر توصیف احمد کے مطابق کراچی میں ترقیاتی کاموں اور اس جیسے دیگر معاملات میں فوج کی شمولیت سے فائدہ نہیں ہو گا بلکہ ان کی پیشہ وارانہ سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی اور یہ جمہوری حکومت کے لئے بھی کوئی اچھی علامت نہیں۔
“کراچی کے مسائل حقیقت کا ادراک کئے بغیر کیسے حل ہوسکتے ہیں؟ ”
سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی اور بیوروکریٹ فہیم زمان کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی کراچی سے متعلق اجلاس میں شرکت ملک میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔ جب کہ اس کا دوسرا مقصد یہ بھی ظاہر کرنا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے فوجی اور سول قیادت ایک ہی صفحے پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ بھی ہے کہ آیا وہ کراچی کے انفراسٹرکچر کے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں یا کراچی کے حالات کو بھی بہتر کرنا چاہتے ہیں؟ ان کے خیال میں یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔
مبصرین نے کا کہنا ہے کہ اس سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ شہر کے دہائیوں پرانے مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ ڈاکٹر توصیف احمد کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے جنگی بنیادوں پرکام کی ضرورت ہے۔ لیکن ان کے مطابق اس کا اصل طریقہ یہ ہے کہ یہاں سویلین انتظامیہ کی مضبوط حکومت ہونی چائیے۔ بلدیاتی ادارے مالی اور انتظامی طور پر مکمل خود مختار ہوں۔ تبھی یہاں کے مسائل حل ہونے کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے۔
سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی اور بیوروکریٹ فہیم زمان کے مطابق شہر کے مسائل کے حل کے لئے مسائل کی نوعیت کو سجھنا ضروری ہے۔ قابل اعتبار ڈیٹا اور اس کے ساتھ پلان پر عمل درآمد کے لئے قابل ماہرین درکار ہیں۔
فہیم زمان کے خیال میں 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی بتائی گئی آبادی اس کی اصل آبادی سے بہت کم ہے۔ ان کے خیال میں غلط اعداد و شمار پر کوئی بھی پلاننگ کی جائے گی تو اس کا نتیجہ مزید مسائل کی صورت ہی میں نکلے گا۔
روان سال اگست میں کراچی میں ریکارڈ توڑ بارشوں کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی کا دورہ کر کے یہاں کے نقصانات پر بریفینگ لی تھی۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جو منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں ان میں فوج کی جانب سے ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
کراچی پیکیج کے تحت کون سے مسائل حل کئے جانے کے وعدے کئے گئے تھے؟
ستمبر میں وفاقی اور صوبائی حکومت نے مل کر کراچی کے مسائل کے حل کے لیے 1100 ارب روپے کے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت کی ایک کوآرڈینیشن کمیٹی بھی بنائی گئی تھی اور اس کے کراچی اور اسلام آباد میں متعدد اجلاس ہو چکے ہیں۔
ستمبر میں وزیر اعظم عمران خان نے پیکیج کو تاریخی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں صوبائی اور وفاقی حکومت مل کر حصہ ڈالیں گے۔ اس پیکیج کے تحت پانی، نالوں پر قائم تجاوزات کا خاتمہ، نالوں پر آباد لوگوں کی دوسری جگہوں پر منتقلی اور آبادکاری، سیوریج کے نظام اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو بہتر بنانا، ٹرانسپورٹ کے مسائل کا حل جس میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور بی آر ٹی کے دیگر منصوبے شامل ہیں۔
وزیر اعظم کے مطابق ترقیاتی کاموں اور ان کی رفتار پر نظر رکھنے کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومت کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے گی، جب کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں فوج کا اہم کردار ہو گا۔ نالوں کی صفائی، تجاوزات ہٹانے کا کام فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او کو سونپا گیا تھا جب کہ صوبائی حکومت نے سرکلر ریلوے کے ٹریک پر آنے والی سڑکوں کو انڈر پاس یا فلائی اوور سے گزارنے کے لئے ٹھیکے بھی فوج ہی کو دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
سارے معاملے میں صوبائی حکومت کہاں کھڑی ہے؟
شروع میں کراچی سے متعلق ٹرانسفارمیشن پلان تیار کرنے پر صوبائی حکومت کو اعتماد میں نہ لینے پر سندھ میں برسر اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کیا تھا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ قانون اور آئین کے مطابق بہت سارے کام صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ لیکن ستمبر میں وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر کراچی کی ترقی کے لئے کام کرنے پر متفق ہو گئے تھے جس کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومت کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
تاہم سیاسی مبصرین کےمطابق پیپلز پارٹی نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں فوج کے اہم کردار کی وجہ سے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی حامی بھری ہے۔
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoووٹ چوری کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی راہل نے حمایت کی
