تازہ ترین
کشمیر میں سبزیوں کی کاشت یوٹی کی ماش میں اہم شراکت دار
سری نگر سے تقریباً 14 کلومیٹر دور ،ضلع بڈگام کے نوبغ علاقے میں 50 سالہ ریاض احمد اپنے سبزیوں کے بڑے ساگزار سے سبزیوں کی فصل کاٹنے میں مصروف ہے۔ جسے وہ اگلے دن سری نگر پیرم پورہ فروٹ منڈی میں فروخت کرنے کی تیاری میں ہے۔
[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=bWeMvxKnCDU[/embedyt]
ان ساگزاروں میں کام کرنا والا ریاض تنہا شخص نہیں ہے، بلکہ ایک بڑی تعداد میں سیکڑوں افراد ان ساگزاروں میں کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نوبغ کے تقریباً تمام کنبے سبزیوں کی کاست سے وابستہ ہیں اور مقامی طور پر اس گاوں کو “چھوٹا پنجاب ” بھی کہا جاتا ہے۔

ریاض نے خبر اردو کو بتایا ، “اس گاوں میں تقریبا ً 100 فیصد آبادی سبزیوں کی کاشت کرتی ہے اور ہندوستان کی تقریباً تمام شمالی ریاستوں میں اسے فروخت کیا جاتا ہے۔ “یہ ایک نقد فصل ہے اور ہم اُن لوگوں سے زیادہ کماتے ہیں جو اپنی زمینوں پر سیب یا دیگر مصنوعات کی کاشت کرتے ہیں۔”
ریاض نے مزید کہا، کشمیری عوام میں عام خیال یہ ہے کہ سیب اور ہینڈی کرافٹس کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ تاہم ، اس بیچ کسی کی نظر میں آئے بغیر ، سبزیوں کی صنعت کہیں زیادہ خوشحال نظر آتی ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق وادی کشمیر کے دس اضلاع میں ہر سال تقریبا ً 17 لاکھ میٹرک ٹن سبزیاں کی پیداوار ہوتی ہے۔
محکمہ زراعت کے مطابق ، ہر سال 9 لاکھ میٹرک ٹن سبزیاں بھارت کی شمالی ریاستوں کو فروخت کی جاتی ہیں.
سری نگر کے ڈائریکٹوریٹ محکمہ زراعت میں ٹیکنیکل آفیسر سہیل انعام اللہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “کل پیداوار سے ، ہم تقریبا 8 لاکھ میٹرک ٹن سبزیاں بیرونی ریاستوں کو برآمد کرتے ہیں۔”

محکمہ زرات کے مطابق سبزیوں کی صنعت کی مالیت 3300کوڑ ہے۔
سیب کی صیعت یو ٹی کی معیشت میں 10000 کروڑ روپے جبکہ ہینڈی کرافٹس انڈسٹری 2000 کروڑ روپے تک کا اضافہ کرتی ہے ، سبزیوں کی صنعت بظاہر UT کی معیشت میں دوسری بڑی صنعت ثابت ہورہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسان کم سے کم خطرات کے پیش نظر سبزی کی صنعت سے وابستہ ہونے میں زیادہ ارام دہ محصوس کرتے ہیں۔
محمد یوسف کہتے ہیں” سیب ایک سالانہ فصل ہے جس میں کافی سرمایہ کاری اور زیادہ خطرات لاحق رہتا ہے۔ وہیںدوسری طرف ، ہم سال میں تین بار سبزیوں کی کاشت کرسکتے ہیں ، ” یہاں تک کہ اگر کسی فصل کوموسم یا مارکیٹ کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جیسے کسی بھی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، اگلے سال کی دوسری دو فصلیں نقصانات کی تلافی کرتی ہیں۔
[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=5AECR6yCExY[/embedyt]
اس کے علاوہ ، ہمیں درختوں کے بڑا ہونے کا برسوں انتظار اور پھر فصل کی توقع نہیں کرنی پڑتی۔ سبزیوں کی کاشت میں مہینوں کے اندر ہی ہاتھو ہاتھ کمائی ہوتی ہے۔
موسم ، ٹپوگرافی اور کشمیر کے جغرافیہ کو دیکھتے ہوئے ، سہیل کا خیال ہے کہ سیکٹر کو منظم کرنے اور جدید ٹکنالوجی کی مداخلت سے ، کشمیر میں سبزیوں کی صنعت کو کافی بڑھاوا مل سکتا ہے ۔

” کشمیر میں اس صنعت کا روشن مستقبل دیکھتے ہوئے ہم یہ یقینی بنانے کے لئے مختلف اقدامات کر رہے ہیں کہ یہ صنعت UT کی ماش میں اہم شراکت دار بنی ر ہے۔”
انہوں نے مذید کہا کہ اس حوالے سے محکمہ زراعت کی جانب سے مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کاشتکاروں کو سبزیوں کی کاشت میں شامل ہونے کی ترغیب دی جائے جس سے براہ راست یو ٹی کے دور دراز علاقا جات کو فوائد پہنچ سکیں۔
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
جموں و کشمیر6 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
