اہم خبریں
کشمیر کے اراضی قوانین میں ترمیم، کیا بھارتی حکومت آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتی ہے؟
نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے علاقے کے اراضی قوانین میں حال ہی میں کی گئی ترامیم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ نے پیر کو جموں و کشمیر کے اراضی قوانین میں بڑے پیمانے پر ردّوبدل کی ہے اور تمام بھارتی شہریوں کو علاقے میں اراضی خریدنے اور دیگر غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے کا اہل بنا دیا ہے۔
ترمیم شدہ قوانین کے تحت زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لیے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس پر تعلیمی ادارے، اسپتال اور دیگر طبی سہولیات کے لیے تعمیرات کی جا سکتی ہیں۔
نئے قوانین کے مطابق زمین کے مالک کو اس بات کا اختیار ہو گا کہ وہ اپنی زرعی اراضی کسی غیر کاشت کار کو بھی فروخت کر سکتا ہے یا اس کا تبادلہ کر سکتا ہے۔ جس کے بعد زمین لینے والا شخص اس اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کے اس اقدام کے خلاف سرینگر اور جمّوں میں گزشتہ چار روز سے مسلسل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا اہتمام مختلف سیاسی جماعتیں، جو مقامی اصطلاح میں ‘مین اسٹریم پارٹیز’ کہلاتی ہیں، کر رہی ہیں۔
جمعرات کو پولیس نے کشمیر کے گرمائی صدر مقام سرینگر میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران علاقائی جماعت ‘پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی’ (پی ڈی پی) کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے پارٹی کے صدر دفاتر کو، جہاں سے انہوں نے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی تھی، عارضی طور پر سیل کر دیا ہے۔
نئے اراضی قوانین کے خلاف وہ جماعتیں بھی احتجاج کر رہی ہیں جو بھارت کے حکومتی حلقوں کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں پروفیسر بھیم سنگھ کی ‘نیشنل پینتھرس پارٹی’ اور حال ہی میں تشکیل دی گئی ‘جمّوں و کشمیر اپنی پارٹی’ بھی شامل ہیں۔
آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرنے کا الزام
جموں و کشمیر کی بعض سیاسی جماعتوں نے نئے زرعی قوانین کو بھارتی حکومت کی اُن کوششوں کی تازہ کڑی قرار دیا ہے جن کا مقصد “ریاستی عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے اور مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کا تناسب کو تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔”
استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے اتحاد ‘کُل جماعتی حریت کانفرنس’ (میر واعظ عمر فاروق دھڑے) نے بھارتی حکومت کے اقدامات کے خلاف ہفتے کو عام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ پانچ اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جمّوں و کشمیر کی آئینی نیم خود مختاری ختم کرتے ہوئے اسے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کا درجہ دیا تھا۔
اس اقدام سے قبل ریاست میں رائج قوانین کے تحت ہر قسم کی اراضی اور غیر منقولہ جائیدادوں پر صرف جموں و کشمیر کے پشتنی یا مستقل باشندوں کو ہی مالکانہ حقوق حاصل تھے اور وہی اس کی خرید و فروخت کر سکتے تھے۔
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا “فیصلہ کُن لڑائی” لڑنے کا اعلان
جمّوں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے بھارت کی وفاقی حکومت کے خلاف “فیصلہ کن لڑائی” لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمّوں و کشمیر کے بارے میں گزشتہ 15 ماہ کے دوران اٹھائے گئے ہر “غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام” پر مزاحمت کریں گے۔
محبوبہ مفتی نے جمعرات کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ کسی کو بھی جمّوں و کشمیر کی زمین اور وسائل کو لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
“ہم خاموش نہیں رہیں گے بلکہ ہر ممکن کوششں کریں گے۔ تاکہ کوئی بھی ہماری زمین اور وسائل کو ہم سے چھین نہ سکے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، چاہے ہمیں کسی بھی حد تک جانا پڑے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت چین کے خلاف بات بھی نہیں کر رہا جس نے حال ہی میں اس کے 20 سے زائد فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا اور ان کے بقول لداخ میں زمین کے ایک وسیع حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت اپنی طاقت صرف کشمیریوں پر آزما رہی ہے۔ انہوں نے نریندر مودی کی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ “اگر آپ واقعی اتنے طاقت ور ہیں تو چین کے خلاف اپنی طاقت کا استعمال کریں جس نے لداخ میں زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔”
کاش ہم پہلے متحد ہوئے ہوتے: عمر عبداللہ
سابق وزیرِ اعلیٰ اور ‘نیشنل کانفرنس’ کے نائب صدر عمر عبداللہ نے سرینگر میں اپنی جماعت کے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا “اگر جمّوں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں پہلے متحد ہو جاتیں تو انہیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔”
“وفاقی حکومت نے کشمیریوں کو کمزور اور تقسیم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اب ہماری لڑائی اپنے، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے دفاع کے لیے ہے۔”

عمر عبداللہ کے مطابق “نئی دہلی کی حکومت کے حملوں کے خلاف لڑائی ایک ہفتہ یا ایک مہینے کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس عمل کے دوران کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، کوئی نہیں جانتا۔”
پاکستان کی جانب سے اراضی قوانین میں ترمیم مسترد
پاکستان نے بھی جمّوں و کشمیر کی اراضی کے قوانین میں ترامیم کو مسترد کیا ہے۔ بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کو “انتہائی قابلِ مذمت” اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھارت پر الزام لگایا کہ “5 اگست 2019 کو بھارت کی غیر قانونی اور یک طرفہ کارروائی اور اس کے بعد کے اقدامات، بالخصوص ڈومیسائل قانون اور اب زمین کی ملکیت کے قوانین میں ترامیم کا مقصد کشمیر کے آبادی کے تناسب کے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس ڈھانچے کو تبدیل کرنا “چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور ایک جنگی جرم ہے۔”
دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ تو کشمیر کی متنازع حیثیت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے ناقابلِ تردید خود ارادیت کے جائز حق کو دبا سکتے ہیں۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو آبادی کے تناسب کے تغیر اور کشمیر کی منفرد شناخت کو تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کرے۔
بی جے پی کا مؤقف
بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس الزام کو، کہ اراضی قوانین میں ترمیم کا مقصد جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا اور ریاست کے آبادی کے تناسب کو بدلنا ہے، مسترد کر دیا ہے۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ قوانین کسی بھی شخص کو اپنی زمین اور جائیداد بیرونی افراد کو بیچنے کے لیے مجبور نہیں کرتے۔
بی جے پی کی جمّوں و کشمیر شاخ کے صدر رویندر رینہ نے بتایا کہ کوئی بھی بیرونی شخص جمّوں و کشمیر کے عوام سے ان کی زمینیں نہیں لے گا۔ اگر کوئی اراضی بیچنا چاہتا ہے تو لوگ اسے خرید سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں لوگوں کو اس معاملے پر اکسانے سے باز رہیں۔
جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ نئے اراضی قوانین ملک کے بڑے صنعت کاروں کو جمّوں و کشمیر میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیں گے جس سے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی صنعتیں قائم ہوں تاکہ یہاں بھی ترقی ہو اور بے روزگاری کا مسئلہ حل ہو۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا2 days agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
