تازہ ترین
کلونجی کے چند متاثر کن فائدے جان لیں
کلونجی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا جسے مختلف کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بھی اس کے استعمال کے فوائد ملتے ہیں۔
مگر کیا آپ واقعی اس کے فوائد سے واقف ہیں جو آپ معمولی محنت سے حاصل کرسکتے ہیں؟
درحقیقت صدیوں سے کلونجی کا استعمال مختلف امراض سے بچاؤ کے گھریلو ٹوٹکے کے طور پر کیا جارہا ہے۔
یہاں آپ اس کے چند فوائد کو درج ذیل جان سکتے ہیں۔
اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور
اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے نقصان دہ اجزا کی روک تھام اور خلیات کو تکسیدی تناؤ سے بچاتے ہیں۔
طبی سائنس کے مطابق اینٹی آکسائیڈنٹس صحت اور امراض پر طاقتور اثرات مرتب کرتے ہیں۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ اینٹی آکسائئیڈنٹس سے متعدد امراض جیسے کینسر، ذیابیطس، امراض قلب اور موٹاپے وغیرہ سے تحفظ مل سکتا ہے۔
کلونجی میں متعدد ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات رکھتے ہیں، ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کا تیل اینٹی اکسائیڈنٹ کی طرح کام کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کلونجی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس انسانی صحت پر کس طرح اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
کولیسٹرول میں کمی
کولیسٹر ہمارے جسم میں چربیلا مواد کو کہا جاتا ہے اور اچھی صحت کے لیے کچھ مقدار میں کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر اس کی زیادہ مقدار خون میں جمع ہونے سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور کلونجی بلڈ کولیسٹرول کی سطح میں کمی کے لیے موثر سمجھی جاتی ہے۔
17 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کے سپپلیمنٹس مجموعی اور نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کے ساتھ ساتھ بلڈ ٹرائی گلیسڈر کی سطح میں نمایاں کمی لاتے ہیں۔
کلونجی کا تیل اس کے سفوف کے مقابلے میں زیادہ بہتر اثر کرتا ہے مگر سفوف صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کے سلیمنٹس سے ایک سال کے دوران نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح بڑھ گئی۔
ذیابیطس کے مریضوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے، جس میں بتایا گیا کہ روانہ 2 گرام کلونجی کا استعمال 12 ہفتے تک کرنا کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتا ہے۔
کینسر سے لڑنے والی خصوصیات
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ کلونجی کے بیج اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم میں گردش کرنے والے نقصان دہ مواد کی روک تھام کرتے ہیں، جو دوسری صورت میں کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں کینسر سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں موجود ایک متحرک مرکب thymoquinone خون کے سرطان میں خلیات کی موت کا عمل روکتا ہے، ایک اور تحقیق میں دریافت کیا کہ کلونجی کا ایکسٹریکٹ بریسٹ کینسر خلیات کو غیرمتحرک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
دیگر ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ کلونجی اور اس کے اجزا ممکنہ طور پر متعدد اقسام کے کینسر جیسے مثانے، جلد، پھیپھڑوں، لبلبے اور قولون کینسر کے خلاف موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
تاہم ابھی انسانوں میں ان بیجوں کے کینسر کش اثرات کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں اور اس حوالے سے گہرائی میں جاکر تحقیق کی ضرورت ہے۔
بیکٹریا کے خاتمے میں مددگار
بیماریوں کا باعث بننے والے بیکٹریا کانوں کے انفیکشنز سے لے کر نمونیا سمیت متعدد امراض کا باعث بنتے ہیں۔
کچھ ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی میں بیکٹریا کش خصوصیات ہوتی ہیں جو بیکٹریا کی مخصوص اقسام کے خلاف موثرانداز سے مقابلہ کرتی ہیں۔
ایک تحقیق میں کلونجی کو ننھے بچوں کے جسم پر جلد کے ایک انفیکشن کے لیے لگایا گیا اور دریافت کیا گیا کہ یہ کسی روایتی اینٹی بائیوٹیک کی طرح موثر ثابت ہوسکتی ہے۔
اسی طرح بیکٹریا کی ایسی قسم MRSA جو اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت دکھاتے ہیں، ان کے خلاف بھی اسے موثر دریافت کیا گیا۔
اس حوالے سے انسانوں پر تحقیق محدود ہے اور جسم میں بیکٹریا کی مختلف اقسام پر اس کے اثرات کو جاننے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ورم سے نجات دلائے
اکثر تو ورم ایک معمول کا مدافعتی ردعمل ہوتا ہے جو جسم کو انجری اور بیماری سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
مگر جب یہ ورم دائمی ہوجائے تو یہ متعدد امراض جیسے کینسر، ذیابیطس اور امراض قلب کا شکار کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی ممکنہ طور پر جسم میں طاقتور ورم کش اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
جوڑوں کے امراض کے شکار 42 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں انہیں 8 ہفتے تک روزانہ ایک ہزار ملی گرام کلونجی کا تیل استعمال کرایا گیا، جس سے ورم اور تکسیدی تناؤ کم ہوگیا۔
چوہوں پر ایک تحقیق میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں ورم میں کمی کو دیکھا گیا۔
جگر کو تحفظ فراہم کرے
جگر ہمارے جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جو زہریلے مواد کے اخراج، غذائی اجزا کو پراسیس کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے ضروری پروٹینز اور کیمیکلز بناتا ہے۔
جانوروں پر ہونے والی مختلف تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی جگر کو انجری اور نقصان سے تحفظ دینے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
ایک تحقیق میں چوہوں کو زہریلے کیمیکل کلونجی کے ساتھ یا اس کے بغیر دیئے گئے اور دریافت ہوا کہ کلونجی نے کیمیکل کے زہریلے اثرات کو کم کرکے جگر اور گردوں کو نقصان سے بچایا ہے۔
ایک اور جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں ایسے ہی اثرات کو دریافت کیا گیا۔
اس حوالے سے انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کلونجی کس حد تک جگر کی صحت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں بھی مدد دے
جسم میں بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ منفی علامات کا باعث بنتا ہے جیسے ہر وقت پیاس لگنا، جسمانی وزن میں غیرمتوقع اضافہ، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے مین مشکل۔
اگر بلڈشوگر پر نظر نہ رکھی جائے تو طویل المعیاد بنیادوں پر زیادہ سنگین نتائج کا سامنا ہوتا ہے جیسے اعصاب کو نقصان پہنچنا، بینائی میں تبدیلی اور زخم بھرنے کا عمل سست ہوجانا۔
کچھ شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ کلونجی بلڈشوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے اور اس کے خطرناک اثرات کی روک تھام کرسکتی ہے۔
7 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں ثابت کیا گیا کہ کلونجی کے سپلیمنٹس خالی پیٹ اور اوسط بلڈ شوگر کی سطح کو بہتر کرسکتے ہیں۔
اسی طرح 94 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کلونجی کا 3 ماہ تک روزانہ استعمال خالی پیٹ بلڈ شوگر، اوسط بلڈ شوگر اور انسولین کی مزاحمت کو نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔
معدے کے السر کی روک تھام
معدے کے السر انتہائی تکلیف دہ زخم ہوتے ہیں اور کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق کلونجی اس سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
عام طور پر السر کا سامنا ہوسکتا ہے جب معدے میں موجود تیزابیت حفاظتی جھلی کی تہہ کو ختم کردیتی ہے اور زخم بننے لگتے ہیں۔
جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں کلونجی کو السر سے تحفظ کے لیے موثر قرار دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے انسانوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ابھی تک اس کے بیشتر فوائد ٹیسٹ ٹیوب یا جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئے ہیں اور انسانوں میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے، مگر غذا میں اس کا استعمال یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال کرنا صحت کو متعدد پہلوؤں سے فائدہ پہنچاسکتا ہے۔(ڈان نیوز)
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا2 days agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
