تازہ ترین
کووڈ ٹیکہ کاری کے تحت 174.64 کروڑ ٹیکے لگائے گئے
نئی دہلی، (یو این آئی): گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 37 لاکھ سے زیادہ کووڈ ٹیکے لگائے گئے ہیں ۔
اس کے ساتھ ہی مجموعی ٹیکہ کاری 174.64 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
مرکزی وزارت برائےصحت اور خاندانی بہبود نے جمعہ کے روز یہاں بتایا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 37 لاکھ 86 ہزار 806 کووڈ ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 174 کروڑ 64 لاکھ 99 ہزار 461 کووڈ ٹیکے لگائے جا چکے ہیں ۔
وزارت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ انفیکشن کے 25 ہزار 920 نئے کیسزسامنے آئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد دو لاکھ 92 ہزار 92 ہو گئی ہے ۔
یہ کیسز کا 0.68 فیصد ہے ۔ یومیہ انفیکشن کی شرح 2.07 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت نے بتایا کہ اسی مدت میں 66 ہزار 254 لوگ کووڈ سے صحتیاب ہوئے ہیں ۔ اب تک مجموعی چار کروڑ 19 لاکھ 77 ہزار 238 لوگ کووڈ سے صحتیاب ہو چکے ہیں ۔
شفایابی کی شرح 98.12 فیصد ہے ۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 12 لاکھ 54 ہزار 893 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
ملک میں مجموعی 75 کروڑ 68 لاکھ 51 ہزار 787 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
تل ابیب، اسرائیل کے فضائی حملوں میں لبنانی سرحد کے جنوبی حصے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کے دوران، وزیر دفاع کاٹز نے اسرائیل افواج کو لبنان، شام اور غزہ کے مقبوضہ علاقوں میں برقرار رکھنے کا واضح عہد کیا ہے۔
یہ حملے ایک ایسے ماحول میں ہوئے جہاں اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کے خاتمے کے عالمی مطالبات کے باوجود، بیروت کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جو لبنانی اراضی سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا تقاضا کرتا ہے۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کی رپورٹ کے مطابق، بنت جبیل کے علاقے میں ایک اسرائیلی ڈرون نے کفرا میں ایک سڑک کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
این این اے کے مطابق، اسرائیلی افواج نے حدّاثا میں ایک بڑا دھماکہ کیا اور ایک اسرائیلی ڈرون نے بیت یہون کے بیرونی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد گرایا۔
این این اے کے مطابق، اسرائیلی افواج نے مرجعیون کے علاقے میں دیر سیریان کے قریب فضائی حملہ کیا اور وادی سلوقی روڈ پر واقع وادی تولین میں دھماکے ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صور کے علاقے میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے منصوری پر دو الگ الگ حملے کیے، جب کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے اس قصبے پر ایک شاک بم گرایا۔این این اے کی خبر کے مطابق، اسرائیلی ڈرونز نے بیروت کی فضاؤں میں انتہائی کم بلندی پر پروازیں کیں جو دارالحکومت کے جنوبی مضافات تک پہنچ گئیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے یہ بیانات جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ ایک علاقے سے اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں دیے۔
اپنے خطاب میں کاٹز نے مغرب میں بحیرہ روم کے ساحل سے لے کر مشرق میں قلعہ بوفورٹ اور جبل شیخ (ہرمون) کے دامن تک پھیلے ہوئے اس خطے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “جیسا کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور میں نے واضح طور پر کہا ہے، ہم اس سیکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم یہاں سے نہیں جائیں گے اور انخلا نہیں کریں گے۔
ہم اس علاقے کو محفوظ بنائیں گے اور شمالی شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔”
کاٹز نے کہا کہ اسرائیل لبنان، شام یا غزہ کے سیکیورٹی زونز سے کسی بھی صورت حال میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج کو شمالی اسرائیلی بستیوں اور اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے اس علاقے میں تعینات کیا گیا ہے؛ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ فوج نے قلعہ بوفورٹ پر قبضہ کر لیا ہے، جو ان کے بقول میتولا اور دیگر شمالی بستیوں کی حفاظت کرتا ہے۔
دوسری جانب، ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کے جنوبی لبنان میں قبضہ برقرار رکھنے کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ بیانات امریکی اور لبنانی فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیلی حکومت کے وعدوں کے خلاف ہیں۔
ایکسیسوس کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ تمام فریقین اس فریم ورک کے مطابق کام کریں جس پر اتفاق ہوا ہے؛
اسرائیل نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان میں اس کا کوئی علاقائی مقصد نہیں ہے۔
جنوبی لبنان میں مستقل فوجی موجودگی، نہ تو متعلقہ فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں سے میل کھاتی ہے اور نہ ہی دونوں ریاستوں کے طویل مدتی امن اور سلامتی کے موافق ہے۔”
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
