تازہ ترین
کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس سے متعلق عدالت کا تاریخی فیصلہ: مکمل رپورٹ
خبراردو: صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع میں سال 2018کے اوائل میں پیش آئے عصمت دری و قتل معاملے سے متعلق پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت میں 7ملزموں میں سے6کو مجرم قرار دیا گیا جس میں سے 3کو عمر قید جبکہ دیگر 3پولیس اہلکاروں کو ساڑھے پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔ ادھر عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقعے پر پٹھانکوٹ عدالت کے ارد گرد سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے جبکہ جبکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے فورسز اور نیم فورسز دستوں کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔
جموں کے کٹھوعہ ضلع میں جنوری 2018میں پیش آئے عصمت دری و قتل معاملے سے متعلق پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت میں واقعے میں ملوث 7ملزمان میں سے 6کو مجرم قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ پٹھانکوٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تجویندر سنگھ نے سوموار کو گزشتہ برس سے جاری کیس کی سماعت کے آخری دن تاریخ ساز فیصلے میں 8میں سے 7افراد کو ٹھوس شہادتوں اور شواہد کی بنیاد پر مجرم قرار دیا۔ عدالت نے 3ملزمان ماسٹر مائینڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپک کھجوریہ کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ واقعے میں ملوث مزید 3پولیس اہلکاروں کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق عدالتی فیصلے کے وقت پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت اور مضافات میں سیکورٹی کے کڑے بندوبست کئے گئے تھے تاکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے بروقت نمٹا جاسکے۔اس دوران واقعے میں مبینہ طور پر ملزم قرار دئے گئے وشال جنگوترا کو عدالت نے بری قرار دیا۔کٹھوعہ کیس میں چھ ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔سزا کا اعلان دوپہر دو بجے سنایا گیا۔ کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا (نابالغ ملزم)، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران آنند دتا اور تلک راج شامل تھے۔ سانجی رام، پرویش کمار، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران آنند دتا اور تلک راج کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو بری کیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔قبل ازیں3جون کو جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے استغاثہ اور وکلاءصفائی کی طرف سے پیش کئے گئے حتمی دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ رکھا تھا اور 10جون 2019کو کیس میں ملوث پائے گئے مجرموں کے تئیں سزا کا اعلان کیا گیا۔8سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے معاملے میں پٹھان کوٹ کی خصوصی عدالت نے کل 7 ملزموں میں سے 6 کو مجرم قرار دیا ہے۔ ان میں سے تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ماسٹر مائنڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپک کجھوریہ ککو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تین پولیس والوں کو 5۔5 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ادھر خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقعے پر پٹھانکوٹ کورٹ اور ارد گرد کے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے گئے تھے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھی کہ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے ساتھ ہی یہاں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے تاہم انتظامیہ نے سیکورٹی کو کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے تیاری کی حالت میں رکھا تھا۔ اس دوران عدالتی فیصلے کی بڑے پیمانے پر سراہنا کی جارہی ہے جبکہ سماج کے مختلف طبقوں نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی کے علاوہ پیپلز کانفرنس چیرمین سجاد غنی لون، پیپلز مومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر شاہ فیصل ، گوجر بکروال کانفرنس کے صدر حاجی محمد یوسف ، جنرل سیکرٹری محمد یاسین پوسوال، یوتھ لیڈر زاہد پرواز چودھری، سماجی کارکن ایڈوکیٹ طالب حسین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف اور قانون کی فتح قرار دیا۔
خیال رہے صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع کے رسانہ نامی گاﺅں میں 10جنوری 2018کو گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی مویشیوں کو چرانے کے دوران لاپتہ ہوگئی تاہم 17جنوری2019کو مذکورہ بچی کی لاش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی جس کے بعد واقعے کے حوالے سے ایک انکوائری ٹیم بٹھائی گئی جس نے واقعے کے حوالے سے تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات کئے۔ تحقیقات کے دوران اس بات کاخلاصہ کیا گیا کہ معصوم بچی کے ساتھ اجتماعی طور پر زیادتی کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔اس سلسلے میں واقعے کے حوالے سے عوامی سطح پر ریاست اور بیرون ریاست سخت غم و غصہ پایا گیا اور ملوث عناصر کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔
عدالتی فیصلہ انصاف اور قانون کی جیت: محبوبہ/عمر
جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشز کورٹ پٹھان کوٹ کی طرف سے پیر کے روز کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے بارے میں سنائے گئے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سیاست کرنے سے احتراز کیا جانا چاہئے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، موزوں ترین وقت ہے کہ ہم آٹھ سالہ بچی کے ساتھ پیش آئے بہیمانہ جرم جس میں عصمت دری کے بعد اس کو قتل کیا گیا، پر سیاست نہ کریں۔
محبوبہ مفتی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہاکہ کٹھوعہ فیصلہ سے راحت نصیب ہوئی، اس کا کریڈٹ آئی جی پی افہادالمجتبیٰ کی سربراہی والی کرائم برانچ کی ٹیم، ایس ایس پی جالا، ایڈیشنل ایس پی نوید، ڈپٹی ایس پی شیو تامبری اور طالب کو جاتا ہے جنہوں نے رکاوٹوں کے باوجود حقائق کو سامنے لایا اور ملک بھر کے لوگ متاثرہ بچی کی حمایت کےلئے کھڑے رہے۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ آمین، قصوروار وں کو تحت قانون سخت ترین سزا ملنی چاہئے اور ان سیاست دانوں جنہوں نے قصورواروں کا دفاع کیا، متاثرہ کو بدنام کیا اور قانونی سسٹم کو دھمکایا کے بارے میں مذمت کے لئے الفاظ ہی نہیں ہیں۔
فیصلہ سچائی کی فتح: ایڈوکیٹ مبین فاروقی
سانحہ کٹھوعہ کے ستم زدگان کے قانونی صلاح کار ایڈوکیٹ مبین فاروقی نے عدالتی فیصلے کو سچائی کی فتح قرار دیا ہے۔
سانحہ کٹھوعہ کے ستم ززدگان کے قانونی صلاح کارایڈوﺅکیٹ مبین فاروقی نے پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو’سچائی کی فتح‘سے تعبیرکرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ملزمان کومجرمین مان کراُن کیخلاف خصوصی عدالت کی جانب سے سنایاگیافیصلہ کسی ایک برادری یافرقہ کی نہیں بلکہ سبھی فرقوں یعنی ہندوﺅں،مسلمانوں ،سکھوں اورعیسائیوں کی کامیابی ہے ۔ایڈوﺅکیٹ مبین فاروقی نے پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ صادرکئے جانے کے بعدکہاکہ خصوصی عدالت کے فیصلے کوہم صدق دلی ،کھلے ذہن اورحوصلے کیساتھ قبول کرتے ہیں کیونکہ اس فیصلے میں عدل وانصاف کے اصولوں اورقانون کی حکمرانی کوملحوظ نظررکھاگیاہے ۔ایڈوﺅکیٹ فاروقی نے کہاکہ ہم مجرمین کوسزائے موت دینے کی اپیل کریں گے۔
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
