تازہ ترین
کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس سے متعلق عدالت کا تاریخی فیصلہ: مکمل رپورٹ
خبراردو: صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع میں سال 2018کے اوائل میں پیش آئے عصمت دری و قتل معاملے سے متعلق پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت میں 7ملزموں میں سے6کو مجرم قرار دیا گیا جس میں سے 3کو عمر قید جبکہ دیگر 3پولیس اہلکاروں کو ساڑھے پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔ ادھر عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقعے پر پٹھانکوٹ عدالت کے ارد گرد سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے جبکہ جبکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے فورسز اور نیم فورسز دستوں کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔
جموں کے کٹھوعہ ضلع میں جنوری 2018میں پیش آئے عصمت دری و قتل معاملے سے متعلق پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت میں واقعے میں ملوث 7ملزمان میں سے 6کو مجرم قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ پٹھانکوٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تجویندر سنگھ نے سوموار کو گزشتہ برس سے جاری کیس کی سماعت کے آخری دن تاریخ ساز فیصلے میں 8میں سے 7افراد کو ٹھوس شہادتوں اور شواہد کی بنیاد پر مجرم قرار دیا۔ عدالت نے 3ملزمان ماسٹر مائینڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپک کھجوریہ کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ واقعے میں ملوث مزید 3پولیس اہلکاروں کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق عدالتی فیصلے کے وقت پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت اور مضافات میں سیکورٹی کے کڑے بندوبست کئے گئے تھے تاکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے بروقت نمٹا جاسکے۔اس دوران واقعے میں مبینہ طور پر ملزم قرار دئے گئے وشال جنگوترا کو عدالت نے بری قرار دیا۔کٹھوعہ کیس میں چھ ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔سزا کا اعلان دوپہر دو بجے سنایا گیا۔ کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا (نابالغ ملزم)، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران آنند دتا اور تلک راج شامل تھے۔ سانجی رام، پرویش کمار، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران آنند دتا اور تلک راج کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو بری کیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔قبل ازیں3جون کو جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے استغاثہ اور وکلاءصفائی کی طرف سے پیش کئے گئے حتمی دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ رکھا تھا اور 10جون 2019کو کیس میں ملوث پائے گئے مجرموں کے تئیں سزا کا اعلان کیا گیا۔8سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے معاملے میں پٹھان کوٹ کی خصوصی عدالت نے کل 7 ملزموں میں سے 6 کو مجرم قرار دیا ہے۔ ان میں سے تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ماسٹر مائنڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپک کجھوریہ ککو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تین پولیس والوں کو 5۔5 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ادھر خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقعے پر پٹھانکوٹ کورٹ اور ارد گرد کے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے گئے تھے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھی کہ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے ساتھ ہی یہاں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے تاہم انتظامیہ نے سیکورٹی کو کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے تیاری کی حالت میں رکھا تھا۔ اس دوران عدالتی فیصلے کی بڑے پیمانے پر سراہنا کی جارہی ہے جبکہ سماج کے مختلف طبقوں نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی کے علاوہ پیپلز کانفرنس چیرمین سجاد غنی لون، پیپلز مومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر شاہ فیصل ، گوجر بکروال کانفرنس کے صدر حاجی محمد یوسف ، جنرل سیکرٹری محمد یاسین پوسوال، یوتھ لیڈر زاہد پرواز چودھری، سماجی کارکن ایڈوکیٹ طالب حسین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف اور قانون کی فتح قرار دیا۔
خیال رہے صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع کے رسانہ نامی گاﺅں میں 10جنوری 2018کو گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی مویشیوں کو چرانے کے دوران لاپتہ ہوگئی تاہم 17جنوری2019کو مذکورہ بچی کی لاش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی جس کے بعد واقعے کے حوالے سے ایک انکوائری ٹیم بٹھائی گئی جس نے واقعے کے حوالے سے تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات کئے۔ تحقیقات کے دوران اس بات کاخلاصہ کیا گیا کہ معصوم بچی کے ساتھ اجتماعی طور پر زیادتی کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔اس سلسلے میں واقعے کے حوالے سے عوامی سطح پر ریاست اور بیرون ریاست سخت غم و غصہ پایا گیا اور ملوث عناصر کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔
عدالتی فیصلہ انصاف اور قانون کی جیت: محبوبہ/عمر
جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشز کورٹ پٹھان کوٹ کی طرف سے پیر کے روز کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے بارے میں سنائے گئے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سیاست کرنے سے احتراز کیا جانا چاہئے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، موزوں ترین وقت ہے کہ ہم آٹھ سالہ بچی کے ساتھ پیش آئے بہیمانہ جرم جس میں عصمت دری کے بعد اس کو قتل کیا گیا، پر سیاست نہ کریں۔
محبوبہ مفتی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہاکہ کٹھوعہ فیصلہ سے راحت نصیب ہوئی، اس کا کریڈٹ آئی جی پی افہادالمجتبیٰ کی سربراہی والی کرائم برانچ کی ٹیم، ایس ایس پی جالا، ایڈیشنل ایس پی نوید، ڈپٹی ایس پی شیو تامبری اور طالب کو جاتا ہے جنہوں نے رکاوٹوں کے باوجود حقائق کو سامنے لایا اور ملک بھر کے لوگ متاثرہ بچی کی حمایت کےلئے کھڑے رہے۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ آمین، قصوروار وں کو تحت قانون سخت ترین سزا ملنی چاہئے اور ان سیاست دانوں جنہوں نے قصورواروں کا دفاع کیا، متاثرہ کو بدنام کیا اور قانونی سسٹم کو دھمکایا کے بارے میں مذمت کے لئے الفاظ ہی نہیں ہیں۔
فیصلہ سچائی کی فتح: ایڈوکیٹ مبین فاروقی
سانحہ کٹھوعہ کے ستم زدگان کے قانونی صلاح کار ایڈوکیٹ مبین فاروقی نے عدالتی فیصلے کو سچائی کی فتح قرار دیا ہے۔
سانحہ کٹھوعہ کے ستم ززدگان کے قانونی صلاح کارایڈوﺅکیٹ مبین فاروقی نے پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو’سچائی کی فتح‘سے تعبیرکرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ملزمان کومجرمین مان کراُن کیخلاف خصوصی عدالت کی جانب سے سنایاگیافیصلہ کسی ایک برادری یافرقہ کی نہیں بلکہ سبھی فرقوں یعنی ہندوﺅں،مسلمانوں ،سکھوں اورعیسائیوں کی کامیابی ہے ۔ایڈوﺅکیٹ مبین فاروقی نے پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ صادرکئے جانے کے بعدکہاکہ خصوصی عدالت کے فیصلے کوہم صدق دلی ،کھلے ذہن اورحوصلے کیساتھ قبول کرتے ہیں کیونکہ اس فیصلے میں عدل وانصاف کے اصولوں اورقانون کی حکمرانی کوملحوظ نظررکھاگیاہے ۔ایڈوﺅکیٹ فاروقی نے کہاکہ ہم مجرمین کوسزائے موت دینے کی اپیل کریں گے۔
دنیا
امریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
واشنگٹن/تہران، امریکہ اور ایران جنگ کے سفارتی حل کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور کسی ممکنہ معاہدے کے مقاصد پر گہرے اختلافات کے باعث معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
گزشتہ 18 ماہ میں مذاکرات کے دو دور ناکام ہونے کے بعد دو جنگیں ہوچکی ہیں۔ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت بھی چند دنوں میں ناکام ہوگئی اور دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی۔ موجودہ سفارتی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں آنے والے ہفتوں میں ایک اور تنازع کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے مذاکراتی انداز میں نمایاں فرق بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ فوری معاہدے کے خواہاں ہیں، جبکہ ایران طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وقت کو مذاکراتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
دونوں ممالک معاہدے کی نوعیت پر بھی مختلف موقف رکھتے ہیں۔ ٹرمپ ایسا جامع معاہدہ چاہتے ہیں جو امریکہ-ایران تعلقات اور پورے مغربی ایشیا پر اثرانداز ہو، جبکہ ایرانی حکام محدود دائرہ کار والے، بالواسطہ اور کم تشہیر کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، جسے تہران مستقل امن کے بجائے جنگ بندی کے قریب سمجھتا ہے۔
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی عدم اعتماد ہے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران حملے کرکے وعدہ خلافی کی، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ جون کی مفاہمت کی خلاف ورزی ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ کرکے کی۔
امریکی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ایران کی طاقتور پاسداران انقلاب اور دیگر سخت گیر عناصر حکومت کے نسبتاً معتدل حلقوں کی جانب سے کیے گئے کسی معاہدے کی پابندی نہیں کریں گے۔
دونوں ممالک کی داخلی سیاست بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ایران میں سفارت کاری کے حامی حلقوں کو سخت گیر عناصر کی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ٹرمپ کو امریکہ میں معاہدے کی مخالفت کرنے والے قدامت پسند حلقوں اور ایسے معاہدے پر بائیں بازو کی تنقید کا سامنا ہے جو جنگ سے پہلے کی صورت حال بحال کرے یا 2015 کے جوہری معاہدے جیسا دکھائی دے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے انٹرویو میں ایران کی موجودہ تجویز کو ’’کافی نہیں‘‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران کے ساتھ کبھی امن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو بھی برقرار رکھا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہٹے گا، تاہم امریکہ کو یہ خیال ترک کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
ایرانی پاسداران۔ انقلاب کے بعض عہدیدار اب بھی مذاکرات کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ میدان جنگ میں دباؤ بڑھا کر ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق ایران کا بنیادی مطالبہ خطے سے تمام امریکی فوجی دستوں کا انخلا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ طویل عرصے تک جنگی حالت برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
فلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
یروشلم، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے کاک پٹ میں حملے کا تعلق ایران سے ثابت ہوا تو تہران کے خلاف ’’بہت سخت‘‘ کارروائی کی جائے گی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ امریکی حکام ممکنہ ایرانی تعلق کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جو معلومات انہیں مل رہی ہیں، ان سے بظاہر ایسا تعلق ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔
فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں عمانی معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر ہندوستانی کپتان سمیت مچھر پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے تبوک کی جانب موڑ دیا گیا۔ مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کرلیا اور طیارہ بحفاظت اتار لیا گیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اسلام پسند اور جہادی ذہنیت کے آثار ملے ہیں اور تفتیش کار یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا اس کا مقصد طیارے کو گرانا تھا۔
متحدہ عرب امارات نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی ہدایت دی ہے کہ حملے کا تعلق ’’دہشت گردانہ سرگرمی‘‘ سے تھا یا اسے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا تھا۔
دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق امریکہ خطے میں تقریباً 9,000 اضافی فوجی تعینات کر رہا ہے۔ ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں، حالانکہ ٹرمپ تہران کی تازہ تجویز کو مسترد کرچکے ہیں۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد رائے شماری میں آگے، مگر اکثریت سے بدستور دور
یروشلم، اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایک تازہ رائے شماری میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والا اتحاد سبقت میں دکھائی دیا ہے، تاہم نہ اسے اور نہ ہی اپوزیشن کو 120 رکنی کنیسٹ میں واضح اکثریت ملنے کا امکان ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی ذیلی ویب سائٹ ’زمان اسرائیل‘ کی جانب سے کرائی گئی رائے شماری کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اپوزیشن لیڈر گادی آئزن کوٹ کی ’یشار‘ پارٹی کو 21، 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
رائے شماری میں نیتن یاہو کی حامی جماعتوں کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ چار یہودی اپوزیشن جماعتیں 49 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں۔ دونوں دھڑے حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں سے دور ہیں۔
نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والی عرب قیادت والی جماعتوں کو 13 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ یواز ہینڈل اور یارون زیلیخا کی قیادت والے غیر وابستہ دھڑے کو پانچ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
تازہ نتائج گزشتہ چند ہفتوں میں سامنے آنے والی ان متعدد رائے شماریوں کے بعد آئے ہیں جن میں کئی ماہ تک اپوزیشن سے پیچھے رہنے کے بعد نیتن یاہو کے اتحاد کی حمایت میں اضافہ دکھایا گیا تھا۔ سابقہ سروے میں ’یشار‘ کو لیکوڈ سے کئی نشستوں کی برتری حاصل تھی۔
دیگر جماعتوں میں اپوزیشن کی ’بیاخاد‘ اور ’یسرائیل بیتینو‘ کو 10، 10 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سیفرادی انتہائی قدامت پسند شاس کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔
بائیں بازو کی ’ڈیموکریٹس‘، عرب قیادت والی ’جوائنٹ لسٹ‘ اور اشکنازی انتہائی قدامت پسند ’یونائیٹڈ تورات یہودیت‘ کو آٹھ، آٹھ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
انتہائی دائیں بازو کی ’اوتزما یہودیت‘ کو چھ، جبکہ ’ریلیجس صہیونزم-زیہوت‘ اور عرب قیادت والی ’راعام‘ کو پانچ، پانچ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ہینڈل-زیلیخا دھڑے کو بھی پانچ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اوفر ونٹر کی قیادت والی نیتن یاہو حامی ’پیپلز آف اسرائیل‘ پارٹی کو چار نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رائے شماری میں ووٹروں کے درمیان انتخابات کے نتائج کے حوالے سے وسیع تشویش بھی سامنے آئی۔ نیتن یاہو کے مخالفین میں 88 فیصد نے انتخابی نتائج پر تشویش ظاہر کی، جبکہ ان کے حامیوں میں تقریباً 70 فیصد نے ایسی تشویش کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر 80 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نے نتائج کے بارے میں فکرمندی ظاہر کی۔
یہ سروے 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو یوسی تاتیکا کی ’تاتیکا ریسرچ اینڈ میڈیا‘ نے ’ایجنڈا پینل‘ کے تعاون سے کیا۔ اس میں 500 افراد نے حصہ لیا اور اس میں غلطی کا امکان ±4.4 فیصد بتایا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
