ہندوستان
ہمارا آئین سب سے بڑا اور خوبصورت ہے: رجیجو
نئی دہلی، مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے مساوات کو آئین کی روح قرار دیتے ہوئے آج لوک سبھا میں کہا کہ یہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرتا ہے، اس لیے یہ دنیا میں ملک کا سب سے بڑا اور خوبصورت آئین ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ‘آئین کو اپنانے کے 75 سال کے شاندار سفر’ پر آج دوسرے دن بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی روح کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ، سب کا وشواس اور سب کا پریاس کے فلسفے کے ساتھ حکومت چلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی وجہ سے آج ایک قبائلی خاتون ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا ہے بلکہ سب سے خوبصورت بھی ہے، جس میں سب کے لیے دفعات موجود ہیں۔ ہمیں اس آئین پر فخر ہے۔
مسٹر رجیجو نے کہا کہ ہمارے ملک میں اقلیتی کمیشن ہے، جب کہ دوسرے ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ اقلیتوں کے لیے خصوصی قانون بنایا گیا ہے۔ اقلیتوں کے لیے بہت سی اسکیمیں بنائی گئی ہیں، جن سے انہیں فائدہ مل رہا ہے۔ کانگریس کی حکومت ہو یا ہماری حکومت، سب نے اپنے اپنے طریقے سے کام کیا ہے، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ یہاں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے ملک کا امیج خراب ہو۔ ملک میں اقلیتیں محفوظ ہیں، اسی لیے دوسرے ممالک سے متاثرین یہاں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بابا صاحب امبیڈکر نہ ہوتے تو ہم جیسے لوگ یہاں منتخب ہو کر ایوان میں نہ آتے۔ کچھ لوگوں نے بابا صاحب کی بات کی غلط تشریح کی اور کہنا شروع کر دیا کہ وہ ہندو مخالف بات کرتے ہیں، جبکہ انہوں نے ایسا نہیں کہا۔ بابا صاحب نے کسی ایک مذہب کی بات نہیں کی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس وقت کے تمام وزرائے اعلیٰ کو خط لکھ کر کہا تھا کہ اگر ریزرویشن کو فروغ دیا جائے گا تو ہنرمندوں کو نقصان پہنچے گا۔ پنڈت نہرو نے بھی کئی اجلاسوں میں اس قسم کی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ہم باصلاحیت افراد کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں، لیکن غریب، پسماندہ اور محروموں کو کچل کر نہیں۔
مسٹر رجیجو نے کہا کہ بابا صاحب 1952 میں دوبارہ ایوان میں منتخب ہونا چاہتے تھے، لیکن کانگریس نے انہیں ہرانے کی سازش کی۔ کانگریس کو اس کے لیے ہم وطنوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ کانگریس نے اپنے دور حکومت میں بابا صاحب کو بھارت رتن نہیں دیا۔ انہیں ایک ایسے وقت میں بھارت رتن سے نوازا گیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت یافتہ حکومت اقتدار میں آئی تھی۔
مسٹر رجیجو نے کہا کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ جب ہندوستان کو آزادی ملی تو کئی دوسرے ممالک کو بھی آزادی ملی۔ ہندوستان میں جمہوریت سب سے مضبوط ہے، لیکن یہ معیشت میں پیچھے رہ گئی، اسی لیے وزیراعظم مودی نے ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کا عزم کیا ہے ۔ ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے پھر بھی ملک غریب کیسے رہا؟ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ملک ترقی یافتہ کیوں نہیں ہوا؟ 2014 کے بعد ملک کی ترقی کا ہدف آیا ہے۔ مقصد کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب پورا ملک مل کر کام کرے گا تب ہی ہندوستان 2047 میں ترقی یافتہ بنے گا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ مسٹر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سرحدی علاقوں کی تیزی سے ترقی ہوئی جبکہ کانگریس کی پالیسیوں کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ کانگریس نے شمال مشرق کی طرف کوئی توجہ نہیں دی تھی لیکن آج وہ آنسو بہا رہی ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے یومِ پیدائش پر انہیں گلہائے عقیدت نذر کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
محترمہ گاندھی نے ڈاکٹر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی دانشمندی، عاجزی اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی معاشی تبدیلی میں ان کا تعاون اور ملک کے لیے ان کی خدمات تاریخ کا ایک دائمی حصہ ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ڈاکٹر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں معاشی اصلاحات کا معمار قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے دانشمندی، ایمانداری اور عاجزی کے ساتھ ملک کی خدمت کی نیز ان کے پرسکون عزم اور مدبرانہ بصیرت نے چیلنجنگ اوقات میں ملک کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمہ گیر ترقی اور عوامی خدمت کے لیے ڈاکٹر سنگھ کا عزم لوگوں کو تحریک دیتا رہے گا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان- خلیجی کونسل تجارتی بات چیت آگے بڑھی، تجارت اور توانائی کے تعاون کو مضبوط کرنے پر زور
نئی دہلی، ہندوستان اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان وزرا کی سطح کی میٹنگ میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سکیورٹی اور عوامی رابطوں کو مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔
دونوں فریقوں نے ہندوستان-جی سی سی آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی بات چیت کو آگے بڑھانے اور 2024-28 کے مشترکہ عمل کے منصوبے پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی قیادت میں جمعہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے حاشیے پر منعقدہ میٹنگ میں رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دونوں فریقوں نے بتایا کہ مالیاتی سال 2025-26 میں ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان کل تجارت 178.66 ارب ڈالر رہی۔
میٹنگ میں ہندوستان-جی سی سی مشترکہ عمل کا منصوبہ 2024-28 کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں تجارت اور سرمایہ کاری، غذائی تحفظ، نقل و حمل، توانائی، صحت، ثقافت اور تعلیم جیسے شعبے شامل ہیں۔
ہندوستان اور جی سی سی نے اس سال فروری میں آزادانہ تجارتی معاہدے کے لیے شرائط و ضوابط اور دائرہ کار طے ہونے کے بعد شروع ہونے والی بات چیت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ معاہدے سے تجارت بڑھانے اور برآمدات میں تنوع لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران توانائی اور کھاد کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ قابلِ تجدید توانائی، بایو فیول اور گرین ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
میٹنگ میں مغربی ایشیا کی صورت حال، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی، کثیر ملکی اداروں میں اصلاحات، استحکام اور دہشت گردی جیسے مسائل پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اگلی ہندوستان-جی سی سی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میٹنگ جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان5 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
