تازہ ترین
ہم ختم رسل کے پروانے

مصنف: الطاف جمیل
ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا عقیدہ ہے جس کے بارے میں امت میں کوئی تضاد نہیں کوئی تفریق نہیں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جسکے بارے میں امت مسلمہ جسے دنیا میں ہزاروں افتراق انتشار کے مسائل میں الجھایا گیا ہے پر ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اب بھی پوری یکسوئی اور پورے عظم کے ساتھ کھڑی ہے اس میں کوئی سمجھوتہ ہی نہیں کوئی تفریق ہی نہیں بلکہ اس کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے اس عقیدے سے ہلکا سا بھی چھیڑو تو تڑپ اٹھے گا دل پوری امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ احادیث کی روشنی میں جو اس نے اختیار کیا ہے کہ ہماری آنکھوں کا نور دل کا سکون ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا انا خاتم النبی اور امت نے عقیدہ دل میں بسا لیا دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
ختم نبوت کے منکر کو بلکہ امت مسلمہ کا اس مسئلہ میں شرح صدر ہے اور لافانی عقیدہ بھی کہ مر جائیں گے مگر ایمان کا سودا نہ کریں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ میرے بعد جو نبوت کا دعوی کریں گئے وہ کذاب ہیں اب کب کس نے کیا ہے یہ الگ بات ہے پر سب سے اول جب مسلمہ کذاب نے دعوی کیا تو اصحاب نبوی علیہ السلام نے اس ملعون کو اپنے نیزوں کی نوک پر رکھ لیا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی نے مدینہ منورہ کے تحفظ کے بجائے اس ملعون کو سزا دینا ضروری مانا وہ حفاظ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو مچلتے رہے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوتے رہے جب بھی ایسا ہوا کہ کوئی ملعون کھڑا ہوگیا تو امت مسلمہ نے اس کی خبر لی اور آج تک یہ عقیدہ اپنی اصل ہیئت پر موجود ہے جس میں ذرا کو بھی چھیڑو تو دنیا میں امت مسلمہ ایک جان ہوکر تڑپ جاتی ہے
ایسا کیا ہے اس میں
یہ بات بہت کم لوگوں کی سمجھ میں آئے گی کہ ایک ایسی قوم جسے خاک و خون میں ملایا جارہا ہے جس کی بقائے دوام کا مسئلہ دم توڑ رہا ہے جس کے مقدس مقامات مٹی میں ملایئے جارہئے ہیں جس کی عزت و احترام کو دھول میں ملایا جارہا ہے جس کے وقار کو ہر لمحہ مجروح کیا جارہا ہے جس کی دنیا میں اب کوئی خاص طاقت بھی نہیں رہی ہے جو خاموشی سے اپنے اوپر ہورہے مظالم سہہ رہی ہے جو اپنی دنیا کے اجڑنے پر سوائے آنسوؤں بہانے کے کچھ کرنے سے قاصر ہے جو اب کچھ اس انداز سے جی رہی ہے کہ لگتا ہے آخری سانسیں لے رہی ہے جس کا انگ انگ رس رہا ہے اور اسے کوئی قوت بھی اس مدہوشی کے عالم سے نہیں جنجھوڑ پاتی لگتا ہے یہ مر گئی ہے اب اس میں کوئی جان نہیں یہ مردہ جسم کی مانند ہوچکی ہے اب جیسے چاہئیں اسے مسل سکتے ہیں یہ تر نوالہ بن چکی ہے مگر عقیدہ ختم نبوت کو چھیڑو تو تڑپ اٹھتی ہے اور پوری قوت سے ایمانی حمیت و غیرت سے اٹھ جاتی ہے اور سینہ تان کر کھڑی ہوجاتی ہے یہ جان آتی کہاں سے ہے کوئی نہیں سمجھ سکتا تو سنو یہ صرف امت کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ محبت کا تعلق ہے تسکین قلب و جگر کا تعلق ہے یہ ایسا تعلق ہے کہ امت مسلمہ جسے دنیا کا ہر ذی جاہ و جلال روند رہا ہے جس کے جنازوں کا شمار نہیں جس پر ٹوڑے جارہے مصائب کی انتہا نہیں پر یہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تک رہا ہے تحمل بردباری پاکیزگی کی مثال پیش کئے جارہا ہے پر جوں ہی ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات آئی ناموس رسالت کے سلسلے میں گستاخی سنی تو بپھرے ہوئے شیر کی طرح دھاڑتا ہے اپنی جان اپنے اسباب اپنی اولاد کسی کی فکر نہیں کرتا یہ تعلق جاننا ہو تو عقل کو چھوڑئے چلے صدیق اکبر کی صداقت فاروق اعظم کا جلال و کمال عثمان کی سخاوت علی کی شجاعت حسین کی شہادت بلال کی استقامت اصحاب نبوی کی قربانیاں یہ سب تاریخ کے پنوں میں ملے گا خاتمہ نہیں ہوا آگئے چل کر بھی امت بانجھ نہیں ہوئی نہ بخل کیا ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانے فراہم کرنے میں یہ ایسی سعادت ہے جہاں والدین اپنے لخت جگر کو بن سنور کر جانے کو کہتی ہیں تو آئے دنیا کے فاجرو سنو کسی گنہگار سے گنہگار مسلمہ کو روضہ اطہر پر کھڑا کردو نظر پڑتے ہی اس کی نگاہیں نیچے جھک کر اپنا بچا کچا پانی قربان کردیں گئیں یہ تعلق دل کا ہے ایمان کا ہے عقیدہ کا ہے بڑے سے بڑے لیڈر کو اٹھاؤ بڑے سے بڑے مزہبی پیشوا کو لاؤ بس کچھ لوگ دکھا دو جو ان کے نام پر خود کو قربان کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو کہنا
آئے اہل دنیا تم نے کیا خاک سمجھا ہے اس آتش دل کو جو مسلسل اپنے ہونے کا احساس دلا رہی ہے کہ چنگاری اب بھی باقی ہے جو کافی ہے گستاخوں کے جرمن کو بھسم کرنے کے لئے یہاں جان قربان بھی کی جاتی ہے اور اس اسم منورہ پر کوئی ملعون زبان دراز کرے تو کھینچ بھی لی جاتی ہے کوئی عالم نہیں فقیہ نہیں محدث نہیں صاحب علم و عرفان نہیں کسی ایسے مسلم کو دیکھ لیں جو انتہا کا گنہگار لگتا ہو جس کا ہر پل چرس افین کی نظر ہورہا ہو اس کو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر چھیڑ کے دیکھ لو اپنے حواس کس قدر تیزی سے مجتمع کرکے جھپٹ پڑے گا
اور دنیا دیکھتی ہی رہ جائے گئی
کیوں کر امت یہ سوچتی ہے
تو سوچو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب چھوٹی چھوٹی باتوں سے مطلع کیا تو کیا اس قدر حساس اور ضروری معاملہ میں رہنمائی نہیں فرماتے کیوں نہیں انہوں نے کی ہے اور امت اس عقیدے کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہے
امت کا مجموعی عقیدہ
نبی کر یمﷺ اپنی امت کو خلفائے راشدین کے اقتداء کا حکم فرماتے ہیں ،ائمہ دین اور امراء کی اطاعت کی تعلیم دیتے ہیں؛ بلکہ ایک حبشی غلام کی بھی (جب کہ وہ امیر بن جائے )اطاعت امت پر واجب قرار دیتے ہیں ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور عمار بن یاسرؓ کی اقتداء کی دعوت دیتے ہیں ، حضرت زبیرؓ ، ابو عبیدۃ بن الجراح، معاذ بن جبلؓ عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ صحابہ کرامؓ کے نام لے لے کر انہیں واجب التکریم اور قابل اقتداء فرماتے ہیں، اویس قرنی کے آنے کی خبر اور ان سے استغفار کرانے کی تعلیم دیتے ہیں، مجددینِ امت کا ہر صدی پر آنا، ابدال کا ملک شام میں پیدا ہونا، اور اُن کا مستجاب الدعوات ہونا وغیرہ وغیرہ مفصل بیان فرماتے ہیں۔
لیکن ایک حدیث میں بھی یہ بیان نہیں فرماتے کہ ہمارے بعد فلاں نبی پیدا ہوگا، تم اس پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت کرنا۔
اگر پہلو میں دل اور دل میں ایمان یا انصاف کا کوئی ذرہ بھی ہے تو تمام احادیثِ سابقہ کو چھوڑ کر صرف یہی احادیث ایک انسان کو اس پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آپﷺ کے بعد تا قیامت کسی قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
یہ دو سو دس احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن میں آںحضرتﷺ نے ختمِ نبوت کا قطعی اعلان فرماکر ہر قسم کی تاویل اورتخصیص کا راستہ بند کردیا ہے۔
جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سُنے۔ إن في ذلک لَعِبْرۃً لِمَنْ کان لہ قلبٌ أو القیٰ السمعَ وھو شھید۔ (ختم نبوت : ص۲۹۵ تا ۲۹۶)
اسی لیے علامہ انورشاہ کشمیری نوراللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں:
’’ختم نبوت کا مسئلہ شریعت محمدی میں متواتر ہے، قرآن و حدیث سے اجماع بالفعل سے اور یہ پہلا اجماع ہر وقت اور ہر زمانہ میں حکومت اسلامی نے اس شخص کو جس نے دعوئ نبوت کیا، سزائے موت دی ہے، ایک شاعر کو صلاح الدین ایوبیؒ نے بہ فتویٰ علماء دین، ایک شعر کہنے پر قتل کرادیا تھا ۔
کان مبدأ ھذا الدینِ من رَجُلٍ سَعٰی فأصبحَ یُدْعیٰ سیدُ الأُممٖ
(صبح الأعشی: ۳۰۵، ۱۳۹)
اس شعر سے اس شخص نے نبوت کو کسبی قرار دیا کہ نبوت ریاضتوں سے حاصل ہوسکتی ہے، اس لیے اسے قتل کروادیا۔ (احتساب قادیانیت: ج۴/ص۴۲)
اس سے آپ اندازہ لگایے کہ مسئلہ ختم نبوت کتنا حساس مسئلہ ہے۔
علامہ کشمیری قدس اللہ سرہٗ ’’ماکان محمد‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’نبی کریمﷺ اشخاص نبوت کے بھی خاتم ہیں، اور آپﷺ کے تشریف لانے کے بعد نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے
ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے لئے کائنات میں جو قابل فخر قابل عقیدت زات ہے وہ بس اللہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہ عقیدے لامثال بھی ہے لافانی بھی ان جیسا نہ کائنات نے دیکھا نہ دیکھئے گی
مسخرہ پن چھوڑے حقائق تسلیم کیجئے
آج کل مادیت کے اس دور میں جہاں نفرت عناد تعصب ہی سب کچھ مانا جارہا ہے جہاں تہذیب کے نام پر تہذیب کا جنازہ اور حیا کے نام پر ردائے عفت امن کے نام پر قتل و غارت کی جاتی ہے جب شرافت پاکیزگئی کو قدیم تہذیب بتا کر ہوس کو تہذیب و تمدن بتایا جارہا ہے جہاں انسانیت انسانوں کے ہاں سسک رہی ہے جہاں قانون و سسٹم کے نام پر دلالی کی جاتی ہے ایسے میں کہیں کسی مسلمان سے کوئی خطا سرزد ہوئی اس نے ملکی قانون کے احترام کرنے کے بجائے خود ہی کوئی حرکت کی کسی گستاخ پر حملہ کیا دوسری طرف اسلامی علوم کے ماہرین نے اس چیز کی مذمت کی کہ ملکی قوانین کو مسمار کرنا صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی گنجائش ہے اسلام میں کیونکہ اسلام جزباتی قسم کے جنون کا خواہاں نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے تشدد کا قائل مگر کیا قوانین میں اسلام کے احترام کے لئے کوئی گنجائش نہیں یا اسلامی شعائر پر حملہ کوئی جرم نہیں ہے یا اسلام پسندوں کا دل نہیں یا ان کے وجود کی کسی ملک کو فکر نہیں کیوں پھر کسی مسلمان کی طرف سے کئے گئے جزباتی عمل پر ہی یہ سب آسمان سر پر اٹھانے والے مینڈک ٹپک پڑتے ہیں جبکہ کوئی اور کتنا بھی اخلاقیات سے عاری کام انجام دے یہ گندے مینڈک اچھل کود نہیں کرتے بس اسلام کے ماننے والوں سے انہیں دماغی مرض ہوتا ہے ہلکا سا کوئی معاملہ ہوا یہ اپنی زبان سے رال ٹپکانے نکل پڑتے ہیں اور اپنے دماغ میں بسی نحوست انڈیل دی آئے دنیا والو ہم اپنا حق مانگتے ہیں کوئی بھیک نہیں تو اگر ہم سے خائف ہی ہو تو پھر ہمارے معاملات میں بھی تم اپنی حاضری نہ لگاؤ ہمیں کسی کی حاجت نہیں یا تو برابری کی بات کرو یا خاموش تماشائی بن کر رہو
پچھلے کچھ سالوں میں کوئی کہیں مجمع سے اٹھا اور کسی حکمران کو جوتا دے مارا تو قانونی کارندے فوری حرکت میں آئے
اس کی مشکیں کس لیں اسے جیل ہوئی اس سے سزا ہوئی حتی کہ ہاتھا پائی کے دوران گر ایسا کوئی جوتا مارنے والا مر جائے تو اس کی سزا کسی کو نہیں دی جاتی کیونکہ یہ ملکی مفادات کے خلاف مانا جاتا ہے امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا تو افغاستان کو قبرستان بنایا گیا کسی مسلمان نے کسی جگہ پر حملہ کیا تو دہشت گرد بنا کر اسے پھانسی دی گئی اسے قتل کیا گیا پاکستان میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ کسی کو دھشت گرد بتا کر ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے پھانسی دی گئی اور ایسے معاملات کو جلد جلد نپٹایا گیا مسلمان جو دنیا میں دوسری بڑی اکثریت ہے کیا انہیں یہ حق نہیں کہ وہ اپنے عقیدے کے تحفظ کے لئے کوشاں رہیں
تو دوہرا معیار کیوں کیا امت مسلمہ کے اس پاک عقیدے کے تحفظ کے لئے قانون نہیں یا ان کے عقیدے کی اہمیت نہیں کیا دنیا کا کوئی مہذب معاشرہ ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ کسی طبقہ کے جذبات کو ہر بار مجروح کیا جاتا رہے کوئی بھنگی کوئی بدترین انسان اٹھے اور مخالف فکر یا مذہب کی ذی عزت شخصیات پر بکنا شروع کرے کوئی گلی کا غنڈہ جب چاہتا ہے تب آنحصور صلی اللہ علیہ وسلم پر تبصرہ کرتا ہے تو کیوں تم خاموشی کا روزہ رکھ لیتے ہو یہ کسی بھی مہذب قوم کو زیب نہیں دیتا کہ مذہبی تشخص بگھاڑنے کے لئے کسی بھی مذہبی پیشوا کی تذلیل و تحقیر کرے اور یہاں صرف مذہبی پیشوا ہی نہیں بلکہ یہ ایمان و عقیدے کی بات ہے اسی لئے امت مسلمہ نے ہمیشہ ایسے غلیظوں کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ امت مسلمہ کو گرچہ دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے پر جس قدر احترام انسانیت اور قتل نا حق کی برائی اسلام کرتا ہے کوئی اور مذہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا
ہم کل بھی اجتماعی طور پر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ و نگہبان تھے ہم تا قیامت اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے رہیں گئے دنیا چاہئے کچھ بھی کہئے ہم کہتے رہیں گے کہ ہم ختم نبوت کے پروانے دنیا کو دکھا کر دم لیں گئے
ہمارا نعرہ ہے احترام دو گئے تو احترام کیا جائے گا جو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے گا اسے ذلیل کیا جائے گا اسے رسوا کیا جائے گا
آئے ختم نبوت کے پروانو سلام تم پر
آئے ختم نبوت کے شاہینو سلام تم پر
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
