تازہ ترین
صحابہ کرام کے سیاسی اختلافات
مصنف:فیصل اقبال
خبراردو:-
صحابہ کرام کے سیاسی اختلافات کے متعلق امت میں ہمیشہ سے مختلف نقطہ نظر رہے ہیں ۔علماء کا گروہ تو مشاجرات صحابہ کے متعلق بالکل سکوت کا قائل رہا ہے پھر بھی تاریخ اور حدیث کی کتب مشاجرات صحابہ سے بھری پڑی ہیں اور تو اور وہ لوگ بھی جو سکوت اختیار کرنے کی فہمائش کرتے رہتے ہیں دفاع صحابہؓ کے ضرورت پر خود بھی اس بحث کا حصہ ناگزیر ہی صحیح مگر بن ہی جاتے ہیں ۔
یوں تو صحابہ کرام کے سیاسی اختلافات پر کتابوں کی کتابیں لکھی ہوئی ہے اور لکھی جا رہی ہے۔اس حوالے ایک ایک تازہ تصنیف چند دن پہلے نظر سے گزری ۔۔یہ تصنیف عالم عرب کے مشہور و معروف عالم دین اور فقہ و اصول کے فاضل استاد شیخ محمد بن المختار الشنقیطی کی کتاب “الخلافات السياسية بين الصحابة ” ہے ۔
اس کتاب کا اردو ترجمہ “صحابہ کرام کے سیاسی اختلافات ” کے نام سے مولانا فضل الرحمن ندوی صاحب نے کیا ہے۔304 صفحات کی یہ کتاب انتہائی اہم اور موضوع کو اچھوتے انداز میں سمیٹے ہوئی ہے ۔۔اس کتاب میں اس اصول کی پاسداری کی گئی ہے کہ افراد کی اہمیت اپنی جگہ مگر اصولوں کا تقدس بھی پامال نہیں ہونا چاہئے۔
اس طرح یہ ایک حسین امتزاج کے ساتھ ساتھ معتدل نظریہ کی حامل دستاویز ہے مصنف کا دعویٰ ہی یہ ہے کہ یہ افراد کی اہمیت اور اصولوں کے تقدس کے متعلق ایک اہم کتاب ہے اور اس معاملے میں مصنف اعتدال بحال رکھنے میں بہت حد تک کامیاب رہے ہیں ۔
کتاب پر پیش لفظ ڈاکٹر محمد منظور عالم چیرمین انسٹی ٹیوٹ آف ابجکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی کا ہے ۔مقدمہ عالم اسلام کے مشہور سیاسی قائد راشد الغنوشی صاحب کا ہے ۔عربی ایڈشن میں ڈاکٹر علامہ یوسف القرضاوی کا مبسوط تقریظ بھی ہے مگر اردو ترجمہ سے وہ غائب ہے ۔ جس کی وجوہات نا معلوم ہے ۔اگلی اشاعت میں یہ بھی شامل ہو جائے تو اس سے کتاب کی افادیت دوبالا ہو جائے گی ۔
کتاب کے موضوعات کچھ یوں ہے :
شریعت کی بنیاد اور تاریخ کاشعور، اصول اور اشخاص کی بحث، قرآنی قصوں سے عبرت و نصیحت ،عمار رضی اللہ عنہ کے موقف سے حاصل ہونے والا عظیم سبق، ابن تیمیہ ہی کیوں؟، محدثین ہی کیوں؟، علم و انصاف کا منہج، منہجی اصول ۔جس کو پھر بائیس ذیلی قاعدوں میں تفصیل سے تقسیم کیا گیا ہے ۔اس کے بعد ابن تیمیہ کے تسامحات، ابن العربی کی کتاب العواصم من القواصم میں موجود تسامحات ،،اور سنی تشیع دبستان سے متعلق چند باتیں درج ہیں ۔۔کتاب میں صحابہ کرام کے باہمی اختلافات پر اظہار خیال کے لئے بہت حد شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے علمی سرمایے بالخصوص ان کی منہاج السنة اور مجموع الفتاوی پر اعتماد کیا گیا ہے ۔
راشد الغنوشی صاحب کتاب کے تقدیم میں ایک جگہ رقمطراز ہیں
” استاد شنقیطی کی اس کتاب میں نئی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اختلافات صحابہ سے متعلق روایات کے ساتھ تعامل کے معاملہ میں محدثین کے منہج کے اوپر اعتماد کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں صحیح و سقیم روایتوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا موقع ملا ہے ۔اس کی اہمیت اس پس منظر میں سمجھا جا سکتا ہے کہ عصر حاضر میں لوگوں نے علمائے سلف کی طرف انتساب کو آڑ بنا کر غلو اور تشدد پسندی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے ۔اس قسم کے لوگوں نے علمائے سلف کی جانب انتساب کو اپنی اجارہ داری سمجھ لیا ہے ۔”
علامہ شنقیطی صاحب مقدمہ میں لکھتے ہیں :
” افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ اسلاف کی زندگی کے ہمارے مطالعہ میں اشخاص کو اصول کا پیکر بنانے کی بیماری ہر طرف نظر آ رہی ہے، یہاں تک کہ اسلاف میں جو راشد نہیں ہے ان کو بھی اصول جیسا تقدس دے دیا گیا ہے اس طرح صحابہ کرام کے دفاع نے سیاسی ظلم کے دفاع کی شکل اختیار کر لی اور ظلم و جبر جیسے مذموم عمل کو بھی جائز قرار دینے کی کوشش کی گئی ”
ایک اور جگہ شیخ شنقیطی صاحب کچھ یوں رقمطراز ہیں :
” اسلاف کی طرف سے دفاع کے لئے غیر ضروری جوش و خروش نے اشخاص کی اہمیت اور ان کے مقام و مرتبہ کی حفاظت کی کوشش میں اصولوں کے تقدس کو پامال کر دیا گیا ہے ۔غلو پسندی کا جواب غلو پسندی سے دیا گیا ۔اسی کے ساتھ ایک اور وباء آئی کہ اچھے و برے ظالم و مظلوم دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا گیا ۔چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے کاتب مروان اور عمار رضی اللہ عنہ اور ان کے قاتل ابوالغادیہ کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں رکھا گیا .”
اس موضوع پر جتنی بھی کتابیں میری نظر سے گزری ہیں،، یہ کتاب ان سب ایک منفرد کوشش ہے اور دل و دماغ کو اپیل کرتی ہے ۔۔۔صحابہ کا تقدس بھی بحال رہتا ہے اور اصولوں سے کوئی سمجھوتہ بھی نظر نہیں آتا ۔۔کتاب میں حوالوں کا بہت اہتمام کیا گیا ہے ۔۔اور احادیث کی تحکیم بھی ساتھ ساتھ دی گئی ہے ۔۔جن میں محدثین سلف کا بھی سہارا لیا گیا ہے اور دور حاضر کے محدث اور محقق شیخ شعیب ارنوط کی تحکیم بھی دی گئی ہے ۔۔اس کتاب میں تاریخ سے زیادہ احادیث سے کام لیا گیا ہے اور وہ بھی صحیح الاسناد احادیث سے ۔۔۔کتاب پروف کی غلطیوں سے پاک ہے اور دیدہ زیب ٹائٹل سے مزیں ہے۔۔کتاب کے انڈیا سے انسٹی ٹیوٹ آف ابجکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی ناشر ہیں اور قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز نئی دہلی ڈسٹری بیوٹر ہیں ۔
304 صفحات کی اس کتاب کا مراجع و مصادر 18 صفحات پر مبنی ہے جس سے حوالہ جات کے اہتمام کا اندازہ ہوتا ہے اور اس کتاب کی قیمت 295 روپے ضخامت کے اعتبار سے بہت ہی معقول ہے۔
امید ہے موضوع کے اعتبار سے اس کتاب سے بھر پور استفادہ کیا جائے گا ۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا20 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان17 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا16 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا16 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر15 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا19 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
