تازہ ترین
ہند۔چین کشیدگی:سرحد پربھاری ہتھیارنصب،فوج کی تعداد میں کافی اضافہ
سرد موسمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح سے تیار،کھانے پینے کا ساز وسامان ذخیرہ کیا گیا:فوج
چین نے اروناچل کے پاس بڑھائی ہلچل
خبراردو:-
سرینگر:لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی،تناؤ اور تعطل برقرار رہنے کے بیچ لداخ میں ہر طرح کی صورت ِ حال سے نمٹنے کے لئے پر فوج نے بھاری ہتھیار نصب کرنے کے علاوہ فوجی تعداد بھی بڑھا دی۔اس دوران سرد موسمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے رسد،گرمی کے آلات،خصوصی ٹینٹ،کھانے پینے کی چیزیں اور دیگر ساز وسامان بھی ذخیرہ کیا گیا۔
ادھر چین نے ارو نا چل پردیش سے لگنے والی سرحد پر بھی ہلچل بڑھائی دی ہے جبکہ یہاں الرٹ جاری کیا گیا۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق سرد موسم میں جنگ کی گرمی کے احساس کے پیش نظر لداخ سے لیکر ارو نا چل پردیش میں دونوں اطراف سے فوجی جماؤ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی)پر ہندوستان اور چین کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔
بھارتی فوج نے کہا ہے کہ وہ مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ کشیدگی کی طوالت کیلئے تیار ہے حالانکہ بھارت ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں رہا ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک دفاعی ترجمان نے حقیقی کنٹرول لائن پر چین کے ساتھ جاری کشیدگی کے بارے میں سخت بیان جاری کرتے ہوئے بدھ کوکہا’بھارت کی فوج آنے والی سردیوں میں مشرقی لداخ میں باضابطہ جنگ کیلئے تیار ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ اْنہیں سیاچن کا تجربہ حاصل ہے جہاں موسمی حالات چین کے ساتھ لگنے والی سرحد سے بھی زیادہ سخت ہیں۔دفاعی ترجمان نے کہا’زیادہ ترچین کی افواج کا تعلق بھارت کے برعکس شہری علاقوں سے ہے اور وہ بھارتی افواج کی طرح سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی عادی نہیں ہیں‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت ہمیشہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، چین کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں،تاہم بھارت کی افواج جنگی حالات کیلئے بھی تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے سبھی تیاریاں کی گئی ہیں جن میں ٹینکوں کیلئے ایندھن کا اسٹاک کرنا بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ایسی بارکیں تیار کی گئی ہیں جوآرام دہ اور گرم ہیں اور سبھی قسم کے ہتھیاروں کیلئے اسلحہ بھی سٹور کیا گیا ہے۔دفاعی ترجمان نے اپنے بیان میں اْن ساری تیاریوں کا تفصیلی تذکرہ کیا جو ایک باضابطہ جنگ کیلئے کی جاتی ہیں۔ادھر ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق ایٹانگر۔
لداخ کے ریزانگ لا میں دراندازی کی کوشش کے بعد اب چین اروناچل پردیش کی سرحد پر اپنی نظریں جما رہا ہے۔ چین اب اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر اپنے فوجیوں کے لئے ٹھکانے بنا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندستانی فوج نے چینی سرحد میں پیپلز لبریشن آرمی کی نقل وحرکت کا نوٹس لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اروناچل پردیش کے اسفلہ، ٹوٹنگ، چانگ جا اور فشٹل۔2 کے برعکس چینی علاقے میں چینی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ یہ علاقے ہندستانی سرحد سے محض 20 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔
حکومت کے اعلی ذرائع نے سی این این۔ نیوز18 کو یہ جانکاری دی ہے۔ اندیشہ ہے کہ چینی فوج ہندستانی علاقے میں دراندازی کی فراق میں ہے۔ چین کسی پر امن اور بغیر آبادی والی جگہ کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ چینی افواج کی طرف سے دراندازی کے اندیشے کے مدنظر ہندستانی فوج الرٹ پر ہے اور یہاں فوجیوں کی تعیناتی بھی بڑھا دی گئی ہے۔پچھلے کچھ دنوں سے لائن آف ایکچول کنٹرول سے کچھ کلومیٹر گہرائی والے علاقوں میں چینی فوج اپنی بنائی سڑکوں پر سرگرمیاں بڑھا رہی ہے۔
چینی فوج گشت کے دوران ہندستانی علاقوں کے نزدیک بھی آ رہی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اروناچل پردیش میں ایل اے سی پر چینی افواج کی سرگرمی کے پیش نظر ہندستانی فوج نے یہاں مزید جوانوں کی تعیناتی کر دی ہے۔
فوج ایسی کسی بھی کوشش کا جواب دینے کے لئے پوری طرح سے تیار ہے اور اسے لے کر اس نے اپنی صلاحیت بڑھائی ہے۔یاد رہے کہ2017 کے بعد ڈوکلام میں پچھلے 6 ماہ سے ایک بار پھر سے ہندستان اور چین کی افواج کے درمیان کشیدگی کی صورت حال بنی ہے۔
چین کی فوج یہاں بھوٹان کی سرحد میں جھامری رج تک سڑک تعمیر کر رہی ہے۔ چین کی اس گستاخی نے سلی گوڑی کوریڈور کے لئے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے پاس ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان جاری رسہ کشی کو لے کر منگل کو لوک سبھا میں بیان دیا تھا۔ اس بیان میں وزیر دفاع نے ایوان کو سرحد پر موجودہ حالات سے واقف کرایا اورکہا کہ ہندوستان کے فوجیوں پر اس ملک کو پورا بھروسہ ہے۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم سرحد پرحالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم نے چین کو سفارتی اور فوجی چینلوں کے توسط سے آگاہ کرادیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں، جوں کی توں صورتحال کو یکطرفہ طور پر بدلنے کی کوشش کی ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ایسی کوششیں ہمیں کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں لداخ کا دورہ کرکے ہمارے بہادر جوانوں سے ملاقات کی تھی اور انہیں یہ پیغام بھی دیا تھا کہ پورا ملک اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
میں نے بھی لداخ جاکر اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے ان کے جذبے اور بہادری کو محسوس کیا۔دریں اثناء ایشیا ٹائمس کے مطابق، چین نے حال کے دنوں میں سی پی ای سی کے تحت 11 ارب ڈالر کے اور پروجیکٹ کو منظوری دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پروجیکٹوں کی آڑ میں چین پی او کے میں بھی فوجی اڈہ بنا رہا ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
