تازہ ترین
سوپور میں نوجوان کی حراست کے بعد پُراسرار موت
واقعہ کے خلاف احتجاج،آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
جنگجوؤں کا اعانت کار تھا،گرینیڈ برآمد کئے گئے،فرار ہونے میں کامیاب ہوا،تحقیقات جاری:پولیس
قصبے میں انٹر نیٹ سروس بند
خبراردو:-
سوپور: شمالی ضلع بارہمولہ کے ایپل ٹاؤن سوپور میں نوجوان کی حراست میں لینے کے بعد پُرسرار موت کے خلاف بدھ کے روز لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نوجوان کو دورانِ حراست ہلاک کیا گیا۔پولیس کا دعویٰ کہ نوجوان جنگجوؤں کا معاؤن تھاجبکہ اس کی تحویل سے گرینیڈ بھی برآمد ہوئے اور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔
ادھر قصبے میں امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق سوپور میں بدھ کی صبح اُس وقت تناؤ کی صورت ِ حال پیدا ہوگئی جب ایک نوجوان کی حراست میں لینے کے بعد پُراسرار طور موت واقع ہوئی۔
نامہ نگار کے مطابق عرفان احمد ڈار ولد مرحوم محمد اکبر ڈار ساکن صدیق کالونی سوپور نامی نوجوان کو حراست میں لیاگیا تھا جسکی لاش پتھر کی کان سے پُراسرار طور پر برآمد ہوئی۔نامہ نگار نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے قبل اس نوجوان کے بڑے بھائی جاوید احمد کو بھی پولیس نے پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا تھا اور دیر رات گئے اسے رہا کردیا گیا تھا۔
عرفان کے بھائی نے نامہ نگاروں کو مزید بتایا’پولیس نے ہم دونوں بھائیوں کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا اور ہمیں علیحدہ علیحدہ رکھا گیا،مجھے رہا کیا گیا اور عرفان کو نظر بند رکھا گیا‘۔ان کا کہناتھا’میرے بھائی کو دوپہر12بجکر45منٹ پر حراست میں لیا گیا،مجھے سہ پہر4بجے حراست میں لیا گیا،دوران حراست میری طبیعت زیادہ بگڑ گئی،مجھے رہا کردیا گیا،لیکن میرے بھائی کو رہا نہیں کیا گیا‘۔
انہوں نے کہا ’نہ تو میرا اور نہ ہی میرے بھائی کا جنگجوؤں کیساتھ کوئی رابطہ ہے،میرا بھائی معصوم اور پیشہ سے دکاندار تھا،پولیس کا گرینیڈ برآمد کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے،ہم چاہتے ہیں واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کی جائے،میرے بھائی کا بہیما نہ قتل کیا گیا ہے‘۔
عرفان کے بارے میں مزید معلوم ہوا ہے کہ وہ’ہائر اسکینڈری ڈراپ آؤٹ‘ اور روزگار حاصل کرنے کے لئے دکانداری کررہا تھا۔ عرفان کی پُراسرار ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی قصبے میں کشیدگی کی لہر دوڑ گئی اور رات کو ہی قصبے میں انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی،جو بد ھ کو دن بھر معطل رہی۔
عرفان کی پُراسرار ہلاکت کے خلاف بد ھ کو اُس کے لواحقین،رشتہ داروں اور دیگر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔مظاہرین کا الزام ہے کہ عرفان کو زیر حراست ہلاک کیا گیا جبکہ پولیس کا دعویٰ سرا سر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔مظاہرین نے واقعہ کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔نامہ نگار کے مطابق قصبے میں جزوی طور پر ہڑتال رہی جبکہ صورت حال کنٹرول میں ہے۔
پولیس کی وضاحت: پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے شمالی قصبہ سوپور میں ہوئی نوجوان کی ہلاکت کی وضاحت کی۔پولیس نے اپنے بیان میں کہا’گذشتہ روز جنگجوؤں کا ایک بالائے زمین کارکن عرفان احمد ڈار ولد محمد اکبر ڈار ساکن صدیق کالونی سوپور کو گرفتار کرکے اْس کی تحویل سے دو چینی ساخت گرینیڈ بر آمدکئے گئے‘۔اس سلسلے میں پولیس ا سٹیشن سوپور میں ایف آئی آر نمبر257/2020زیر دفعات یو پی اے (پی) ایکٹ،7/27آرمز ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا۔
پولیس بیان میں مزید کہا گیا’تحقیقات کے دوران پولیس کی ایک ٹیم ملزم کے ہمراہ ڑیرہ دجی،تجر شریف علاقے میں پہنچی تاکہ مزید بر آمدگی عمل میں لائی جاسکے جس کا انکشاف گرفتار شدہ او جی ڈبلیو نے کیا تھا‘۔پولیس بیان کے مطابق”اسی اثناء میں اندھیرے کا فائدہ اٹھاکر عرفان نے پولیس کو چکمہ دیکر راہ فرار اختیار کی جس کے بارے میں پولیس ا سٹیشن بمئی میں کیس زیر ایف آئی آر نمبر71/2020زیر دفعہ224آئی پی سی درج کیا گیا۔
بعد ازاں تلاشی کارروائی کے دوران عرفان کی لاش تجر شریف میں ہی ایک پتھر کی کان کے نزدیک بر آمد کی گئی‘۔پولیس نے کہا کہ لاش کو قانونی لوازمات کیلئے پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی)لے جایا گیا،جہاں سے لاش کو مزید قانونی وطبی لوازمات پولیس کنٹرول روم سرینگر میں واقع پولیس اسپتال منتقل کی گئی جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
