تازہ ترین
یوپی:دوسرے مرحلے کی 55سیٹوں پر ووٹنگ کا آغاز
لکھنؤ(یواین آئی): اترپردیش میں دوسرے مرحلے کے تحت 9اضلاع کی 55سیٹوں پر پیر کو سخت سیکورٹی کے انتظامات کے درمیان ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔رائے دہندگان صبح 7بجے سے شام 6بجے تک اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں گے۔
چیف الیکشن افسر اجئے کمار شکلا نے اتوار کو کہا کہ ان تمام سیٹوں پر مجموعی طور سے2.02کروڑ رائے دہندگان بشمول 1.05کروڑ مرد اور 94لاکھ خواتین 586امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کریں گے جن میں 69خواتین بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا 12544پولنگ سنٹرس کے 23404پولنگ بوتھ پر رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔سال 2017 میں ان سیٹوں پر مجموعی ووٹنگ کا اوسط فیصد65.53ریکارڈ کیا گیا تھا۔
وہیں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس(نظم ونسق) پرشانت کمار نے کہا آٹھ اسمبلی حلقوں بشموں نگینہ، دھام پور، بجنور، اسمولی، سنبھل، دیوبند، رامپور منہارن اور گنگوہ کو حساس حلقوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔دوسرے مرحلے میں 436بستیوں اورمقامات کو کافی حساس اور 4917پولنگ بوتھ کو حساس بوتھوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
اے ڈی جی نے بتایا کہ خواتین کے لئے 127 پنک بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں پر 42خاتون انسپکٹر یا سب ۔انسپکٹر اور 488کانسٹیبل اور ہیڈکانسٹیبل تعینات کئے گئے ہیں۔اس مرحلے میں سنٹرل فورسز کی 733.44کمپنیوں کو 12544پولنگ بوتھ پر تعینات کیا گیا ہے۔
یو پی پولیس نے6860انسپکٹر اورسب انسپکٹر،54670کانسٹیبل و ہیڈکانسٹیبل کے ساتھ 18.01 کمپنی پی اے سی،930پی آر ڈی جوان اور 7746 چوکیداروں کو اس مرحلے میں تعینات کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق جن اضلاع میں ووٹنگ ہونی ہے تمام شراب کی دوکانیں 5بجے تک بند رہیں گی اور سرحدین سیل کردی گئی ہیں۔
جن اضلاع کی 55سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے ان میں امروہہ، سہارنپور،بجنور، رامپور، سنبھل، مرادآباد، بریلی، بدایوں اور شاہجہاں پور شامل ہیں۔اس مرحلے میں یوگی حکومت کے تین وزیر اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔سہارنپور سے سریش کھنہ،ضلع سنبھل کی چندوسی سے گلابو دیوی اور رامپور کی بلاسپور سیٹ سے بلدیو سنگھ اولکھ شامل ہیں۔
اپوزیشن کے معروف چہرے جو انتخابی میدان میں ہیں ان میں سینئر سماج وادی پارٹی(ایس پی) لیڈر اعظم خان رامپور صدر سے،یوگی کابینہ کے سابق وزیر اور اب ایس پی امیدوار دھرم پال سنگھ سینی ضلع سہارنپور کی نکور سے اور امروہہ سے محبوب علی قابل ذکر ہیں۔
مسلم اکثریتی علاقے کو ذہن میں رکھتے ہوئے مختلف پارٹیوں نے 75سے زیادہ مسلم امیدوار اتارے ہیں۔ ان میں بی ایس پی کے سب سے زیادہ 25،ایس پی۔ آر ایل ڈی اتحاد کے 18،کانگریس نے 23مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ وہیں ایم آئی ایم کے 15مسلم چہروں نے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔
تقریبا ایک مہینے تک چلی انتخابی مہم میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے علاوہ اپوزیشن پارٹیاں ایس پی۔ بی ایس پی ، آر ایل ڈی، اور کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ والی 55سیٹوں میں سے تقریبا 25سیٹوں پر مسلم ووٹر اور 20سے زیادہ سیٹوں پر دلت ووٹر ہار جیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔
اس علاقے میں سال 2017 کے مودی لہر نے دلت۔ مسلم صف بندی کی وجہ سے ماضی میں بی جے پی کے کمزور ہونے کے طلسم کو توڑتے ہوئے 55میں سے 38سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ جبکہ ایس پی کو 15اور اس کی اتحادی پارٹی کانگریس کو دو سیٹیں ملی تھیں۔ اس وقت ایس پی کے 15میں سے 10اور کانگریس کے دو میں سے ایک مسلم ایم ایل اے جیتے تھے۔ ماہرین کی رائے میں دلت ووٹوں میں تقسیم کا سیدھا اثر یہ ہوا کہ سابقہ الیکشن میں بی ایس پی کا اس علاقے میں کھاتہ بھی نہیں کھل سکا۔
اس الیکشن میں کسانوں کی ناراضگی بی جے پی کی مشکلیں بڑھا سکتی ہے۔ وہیں مخالف خیمے سے ایس پی نے اس علاقے میں احتجاج کوشباب پر پہنچا کر ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے سال 2012 میں جب ایس پی نے حکومت بنائی تھی اس وقت بھی ایس پی کو اس علاقے کی 55سیٹوں میں سے 27سیٹوں میں جیت ملی تھی جبکہ بی جے پی کےکھاتے میں 8سیٹیں آئی تھیں۔
دوسرے مرحلے کی ووٹنگ والے 9اضلاع میں سے سات اضلاع رامپور، سنبھل، مرادآباد، سہارنپور، امروہہ، بجنور اور نگینہ میں دلت مسلم ووٹر ہی امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایس پی۔ بی ایس پی اور آر ایل ڈی نے سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اتحاد کیا تھا اور ان سات اضلاع کی سبھی سات لوک سبھا سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ ان میں ایس پی کو رامپور مرادآباد اور سنبھل جبکہ بی ایس پی کو سہارنپور، نگینہ، بجنور اور امروہہ سیٹوں میں جیت ملی تھی۔
واضح رہے کہ اس الیکشن میں ذات پات کی صف بندی کی بنیاد پر بی جے پی کے لئے سابقہ الیکشن کی طرز پر مذہب کی بنیاد پر اور سیکورٹی کے مسئلے پر ووٹوں کی تقسیم کرانا سخت چیلجنگ ثابت ہوا ہے ۔سبھی پارٹیوں کے امیدواروں کہ فہرست سے صاف ہوگیا ہے کہ اس علاقے میں الیکشن کا دارومدار دلت، جاٹ اور مسلم ووٹوں کے پولرائزیشن پر منحصر ہے۔
جہاں تک انتخابی مہم کا سوال ہے تو کورونا انفکشن کے خطرے کے درمیان ہورہے اس الیکشن میں گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں انتخابی مہم کا شور کافی کم رہا۔ الیکشن کمیشن کی گائیڈ لائن کے تحت ریلی، جلوس اور روڈ شو وغیرہ پر پہلے ہی روک لگا دی تھی۔
ورچول انتخابی تشہیر کے معاملے میں بی جے پی نے اپوزیشن پارٹیوں کو ضرور پیچھے رکھنے کی کوشش کی لیکن 06فروری سے عوامی ریلیاں کرنے کی اجازات ملنے کے بعد ایس پی۔ بی ایس پی اور کانگریس محدود روڈ شو اور عوامی ریلیاں کر کے ووٹروں تک اپنے پیغام پہنچانے میں مشغول ہیں۔
بی ایس پی سپریمو مایاوتی ابتدا میں اگرچہ سے انتخابی مہم سے دور رہیں لیکن دو فروری سے انہوں نے مغربی اترپردیش میں تین ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا۔
انتخابی ایجنڈوں کی اگر بات کی جائے تو کسان تحریک کا گڑھ رہے مغربی اترپردیش میں کسانوں کی پریشانیاں سب سے بڑا ایجنڈا ہیں۔ ماہرین کی رائے میں مودی حکومت بھلے ہی تینوں زرعی قوانین واپس لے کر سب سے لمبے کسان تحریک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہو لیکن کسانوں کاغصہ اب بھی بی جے پی کے لئے اس الیکشن کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
کسانوں کے اشتعال کو کم کرنے کے لئے وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی صدر جے پی نڈا نے ترقیاتی کاموں کا اس علاقے میں جم کر انتخابی مہم چلائی ہے۔ بی جے پی نے شاہ کو مغربی اترپردیش میں پارٹی کا انتخابی انچارج بنایا ہے۔ یہ الیکشن شاہ کے انتخابی انتظامات کو بھی کسوٹی پر پرکھے گا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2012 میں جب سماج وادی پارٹی اقتدار میں آئی تھی اس وقت ایس پی نے 55میں سے 27سیٹوں پر جیت درج کی تھی جب کہ بی جے پی کے کھاتے میں محض 8سیٹیں آئی تھیں۔
ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اکھلیش کے انتخابی نتائج کی لگاتار ناکامیوں پر اس الیکشن میں بریک لگتا ہے یا نہیں۔ وہ آر ایل ڈی کے جینت چودھری کے ساتھ پورے مغربی اترپردیش میں لگاتار انتخابی مہم کر کے کسانوں کے پریشانیوں کو اہم ایجنڈا بنارہے ہیں۔ جس سے کسانوں کی ناراضگی بی جے پی کا وجئے رتھ روک سکے۔علاوہ ازین یہ الیکشن جینت چودھری کے لئے بھی سخت امتحان ہے۔ یہ انتخاب یہ طے کرےگا کہ وہ جاٹ لینڈ کے چودھری ہیں یا نہیں۔
بی ایس پی کی بھی کوشش ہے کہ مغربی اترپردیش میں ایس پی آرایل ڈی اتحاد اور بی جے پی کی لڑائی کو سہ رخی بنا دیا جائے۔ اس علاقے کی دلت اکثریتی دو درجن سیٹوں پر اپنے امیدوار جتانے کی بی ایس پی کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ سابقہ امتحانات میں اس علاقے سے ایک بھی سیٹ پر کامیابی حاصل نہ کرپانے والی بی ایس پی کے لئے یہ الیکشن اپنے وجود کو ثابت کرنے والا ہوگیا ہے۔
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
