ہندوستان
مرزاپور سڑک حادثہ: جاں بحق 11 افراد کی شناخت مکمل
مرزاپور، اتر پردیش کے ضلع مرزاپور کے ڈرمنڈگنج تھانہ علاقے میں وارانسی–کنیاکماری قومی شاہراہ پر واقع بھیسوڑ بلائے پہاڑ کے بڑکا موڑ پر بدھ کی دیر رات پیش آئے ہولناک سڑک حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام 11 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ ارپنا کوشک کے مطابق مدھیہ پردیش کی طرف سے چنا لاد کر آنے والا ایک ٹرک ممکنہ طور پر بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہو گیا اور آگے چل رہی بولیرو گاڑی کو زوردار ٹکر مار دی۔ ٹکر کے بعد بولیرو ایک سوئفٹ کار سے جا ٹکرائی، جو آگے چل رہے ایک ٹریلر ٹرک سے جا ٹکرائی۔ حادثے کے بعد بولیرو سڑک سے نیچے جا گری اور اس میں آگ لگ گئی، جبکہ دیگر گاڑیاں آپس میں پھنس گئیں۔
آگ اس قدر شدید تھی کہ بولیرو میں سوار افراد کو باہر نکلنے کا موقع نہیں ملا اور نو افراد جل کر جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں میں ضلع مرزاپور کے جِگنا تھانہ علاقے کے نرینہ گاؤں کے ایک ہی خاندان کے افراد شامل ہیں، جو مدھیہ پردیش کے میہر دیوی دھام سے ایک آٹھ سالہ بچے کی منڈن رسم ادا کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔
مرنے والوں میں شیوا سنگھ (8)، وندنا سنگھ (48)، پیوش سنگھ (15)، پنکج سنگھ (40)، وینا سنگھ (47)، سونم سنگھ (9) اور ڈرائیور وشنو سنگھ (45) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ستنا (مدھیہ پردیش) کی رہائشی پرینکا سنگھ (42) اور ان کے بیٹے کارتکیہ سنگھ (19) بھی جاں بحق ہوئے۔ حادثے میں سون بھدر کے جے پرکاش (28) اور ٹرک کنڈکٹر وکاس شرما (مدھیہ پردیش) کی بھی موت ہوئی۔
واقعے کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ضلع مجسٹریٹ سمیت کئی تھانوں کی فورس موقع پر پہنچ گئی۔ فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا، جس کے بعد کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد ٹریفک بحال کیا جا سکا۔ تمام لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کے مناسب علاج اور متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق بڑکا موڑ علاقے میں اکثر حادثات پیش آتے رہتے ہیں، جس کے باعث اسے “کِلَر موڑ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت آگ اتنی شدید تھی کہ کوئی بھی قریب جانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا اور اندر پھنسے لوگ مدد کے لیے پکارتے رہ گئے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
ہندوستان
کھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی اور سابق وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کے یومِ پیدائش کے موقع پر جمعہ کے روز انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مسٹر کھرگے اور مسٹر گاندھی نے باپو کے سمادھی استھل راج گھاٹ اور مسٹر شاستری کے سمادھی استھل وجے گھاٹ پہنچ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مسٹر کھرگے نے مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ باپو کی پوری زندگی سچائی، عدم تشدد، رحم دلی اور خدمت روشنی کا ایسا مینار ہے جو ہر دور میں انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے سچائی کو طاقت، عدم تشدد کو ہمت اور ستیہ گرہ کو ناانصافی کے خلاف سب سے موثر ہتھیار بنایا اور ہندستان کی جدوجہدِ آزادی کو سمت دینے کے ساتھ پوری دنیا کو انسانیت، رحم دلی اور امن کا راستہ دکھایا۔
انہوں نے سابق وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سادگی، سچائی اور قوم کی خدمت کی علامت مسٹر شاستری کی زندگی ہندستان کے لیے وقف کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔ زرعی اصلاحات سے لے کر سبز اور سفید (دودھ) انقلاب کی بنیاد کو مضبوط کرنے، ریلوے میں تھرڈ کلاس کو ختم کرنے، بسوں میں خواتین کے لیے نشستیں مختص کرنے اور 1965 کی جنگ میں ملک کو مضبوط قیادت فراہم کرنے تک، قومی تعمیر میں ان کا تعاون ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی وادی قدروں اور اعلیٰ افکار سے لبریز مسٹرشاستری کی سادہ زندگی اہل وطن کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی۔
مسٹرراہل گاندھی نے مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچائی، عدم تشدد اور بے باکی ہی باپو کی سب سے بڑی میراث ہے۔ باپو نے سکھایا ہے کہ ناانصافی کے آگے کبھی جھکنا نہیں اور سچائی و عدم تشدد پر ڈٹے رہنا ہی حقیقی طاقت ہے۔
انہوں نے سابق وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘جے جوان، جے کسان’ کا نعرہ دے کر انہوں نے اہل وطن کے حقوق اور ان کے وقار کے تحفظ کا عزم کیا اور ملک کو ایک نئی راہ دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ شاستری جی کی سادگی اور ملک کے لیے ان کی لگن ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہے گی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
لداخ کے نقشے پر نشان زد 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات
نئی دہلی، ایک اہم اسٹریٹجک اور سفارتی اقدام میں مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشے پر 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو ان کے معیاری مقام اور نام کے ساتھ شناخت کیا ہے۔
جمعہ کو یہ معلومات دیتے ہوئے وزارت داخلہ نے کہا کہ اس کا مقصد ان جگہوں کی درست شناخت کو آسان بنانا اور عام لوگوں میں ان کے بارے میں بیداری بڑھانا ہے۔
سروے آف انڈیا کے لداخ کے نقشے پر جن 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو نشان زد کیا گیا ہے ان میں پہاڑی چوٹیاں، پہاڑ، راستے، خطہ، گلیشیئر، وادیاں، جھیلیں، دریا اور آبی ذخائر شامل ہیں۔
نشان زدہ مقامات میں اتیشا گیری، برانگسا، چپچنگل درہ، کنشک چوٹی، کرن پیر، کُکسیل، مارتنڈ گیری، پرپک گلیشیئر، اسکامری گلیشیئر، شچمیرک درہ، شکورگا وادی، زوراور چوٹی، دیہرا کمپاس، درک کرپو، گوگرا، جولموری، کمارائن نقطہ، پنگلنگ، رِنچن زانگپو، شاکیہ شری گیری، گرو رِنپوچے، شمل لُنگپا، یانگپا ندی، ہاٹ اسپرنگ، مارپا لوتساوا ری، ملاریپا کانگری، شیو ری اور مہیشور ری شامل ہیں۔
لداخ کا نقشہ، بشمول اضافی مقامات اور جغرافیائی خصوصیات، سروے آف انڈیا کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔
حکومت کے اس اقدام کو سفارتی اور تزویراتی نقطہ نظر سے اہم سمجھا جاتا ہے اور اسے چین کے علاقائی دعووں اور مشرقی لداخ کے علاقوں کا نام تبدیل کرنے کی کوششوں کے سخت ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
الیکشن کمیشن نے فہرست سے رہ جانے والے ووٹروں کے اندراج کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی
نئی دہلی، ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران، ضلعی الیکشن افسران اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو ہدایت دی ہے جہاں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) مکمل ہو چکی ہے کہ وہ فہرست میں شامل ہونے سے رہ جانے والے اہل ووٹروں کی شناخت اور ان کے اندراج کے لیے خصوصی مہم شروع کریں۔ اس مہم میں نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹروں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
یکم اکتوبر کو جاری کیے گئے خط میں کمیشن نے کہا کہ یہ کارروائی ووٹر فہرستوں کی مسلسل تازہ کاری کے تحت کی جائے گی۔ اس دوران ایسے افراد کی شناخت کی جائے گی جن کے نام ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر فہرستوں میں موجود تھے، لیکن موجودہ فہرستوں میں نہیں مل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نئے اہل ہونے والے ووٹروں کے اندراج میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ ہدایت یکم اکتوبر کو تمام چیف الیکٹورل افسران کے ساتھ کمیشن کی میٹنگ کے بعد جاری کی گئی ہے اور 29 ستمبر کو جاری کیے گئے اس کے خط کے سلسلے کی کڑی ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے کہا تھا کہ بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر مکمل ہو چکی ہے اور نظرثانی کے دوران یا اس کے بعد فہرست سے رہ جانے والے افراد کے ساتھ ساتھ نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے افراد مسلسل تازہ کاری کے عمل کے ذریعے اپنا نام ووٹر فہرست میں شامل کرا سکتے ہیں۔
تازہ ہدایات کے تحت بوتھ لیول افسران موجودہ ووٹر فہرست کا ایس آئی آر سے پہلے کی فہرست سے موازنہ کریں گے اور بوتھ کے لحاظ سے ایسے ووٹروں کی فہرست تیار کریں گے جن کے نام سابقہ فہرستوں میں موجود تھے لیکن موجودہ فہرست میں نہیں ہیں۔
بی ایل اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کی موجودہ صورت حال معلوم کرنے کے لیے گھر گھر جائیں اور اہل پائے جانے پر فارم 6 کے ذریعے ان کے اندراج میں سہولت فراہم کریں۔
کمیشن نے بی ایل اوز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر ہفتے کم از کم 20 سے 25 ایسے ووٹروں تک پہنچیں، تاکہ تقریباً ایک ماہ میں یہ کارروائی مکمل کی جا سکے۔ شناخت کیے گئے ہر ووٹر کی صورت حال درج کی جائے گی، جس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ آیا فارم 6 جمع کیا گیا ہے یا نہیں۔
گھر گھر جانے کے دوران بی ایل اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ایسے اہل ووٹر کی بھی شناخت کریں اور اس کے اندراج میں سہولت فراہم کریں جو فہرست میں شامل ہونے سے رہ گیا ہو، جس میں پہلی بار ووٹ دینے والے اور نوجوان ووٹر بھی شامل ہیں۔ بی ایل اوز کی تیار کردہ فہرستیں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹوں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی، جبکہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو یہ فہرستیں فارم 6 کی درخواستوں اور فیلڈ تصدیقی رپورٹوں کے ساتھ فراہم کی جائیں گی۔
اس کے بعد الیکٹورل رجسٹریشن افسران عوامی نمائندگی قانون، 1950 اور ووٹر رجسٹریشن ضوابط، 1960 کے مطابق مناسب فیصلے کریں گے۔ کارروائی مکمل ہونے پر الیکٹورل رجسٹریشن افسران بوتھ کے لحاظ سے فہرستیں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی شیئر کریں گے، تاکہ انہیں فہرست سے رہ جانے والے اہل ووٹروں کی شناخت میں مدد کرنے کا ایک اور موقع مل سکے۔
کمیشن نے انتخابی حکام کو بوتھ لیول کیمپ منعقد کرنے کی بھی ہدایت دی ہے، تاکہ ووٹر فہرست میں نام شامل کرانے کی درخواستیں جمع کرنے میں سہولت ہو۔ رات میں قیام گاہوں اور مزدور بستیوں میں رہنے والے افراد کے ساتھ ساتھ بے گھر اور دیگر محروم افراد کے لیے بھی خصوصی کیمپ منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ووٹر کا اندراج ایک مسلسل عمل ہے، کہا کہ جس شخص کا ابھی تک اندراج نہیں ہوا ہے یا جس کا نام ووٹر فہرست سے حذف کر دیا گیا ہے، وہ کسی بھی وقت اندراج کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ کمیشن کے مطابق خصوصی مہم کا مقصد ایسے تمام اہل ووٹروں کی شناخت کرنا اور ان کے اندراج میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
کمیشن نے چیف الیکٹورل افسران، ضلعی الیکشن افسران اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں، مقامی سطح پر عوامی رابطہ مہم، منظم ووٹر تعلیم و انتخابی شرکت (سویپ) کی سرگرمیوں، باقاعدہ پریس بریفنگ اور دیگر ذرائع کے ذریعے بیداری اور عوامی رابطہ پروگرام منعقد کریں، تاکہ اہل شہریوں کو ووٹر کے طور پر اپنا نام درج کرانے کے اس موقع سے آگاہ کیا جا سکے۔
تازہ ہدایت ایسے وقت میں آئی ہے جب ایس آئی آر کی کارروائی کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ان ووٹروں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جن کے نام نظرثانی کے بعد ووٹر فہرستوں میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔ 26 ستمبر کو کمیشن نے کہا تھا کہ جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر مکمل ہو چکی ہے، وہاں فہرست سے رہ جانے والے، نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے کے اہل ووٹروں کے اندراج میں سہولت فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے انتخابی حکام کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ چیف الیکٹورل افسر، ضلعی الیکشن افسر اور الیکٹورل رجسٹریشن افسر کی سطح پر اس مہم کی پیش رفت کی قریبی نگرانی اور باقاعدگی سے جائزہ لیں، تاکہ یہ مہم تمام اہل شہریوں تک پہنچ سکے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا7 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
