تازہ ترین
422 ارب ڈالر کا بجٹ، دفاعی بجٹ میں آٹھ فیصد اضافہ
خبراردو: غریب، کسان اورگائوں کیلئے سوغات، تنخواہ یافتگان مایوس، امراء پر ٹیکس کا اضافہ
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں مودی حکومت کی دوسری مدت کار کا پہلا بجٹ پیش کیا۔ سنہ 2019۔20 کے بجٹ میں ملک کی ترقی کو دوبارہ پٹری پر لانے اور 2025 تک پچاس کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری معبنیادی ڈھانچہ اور فلاحی کاموں کے لیے وسائل اکٹھا کرنے کی غرض سے پٹرول اور ڈیزل پر دو دو روپیے فی لیٹر ٹیکس بڑھایا گیا ہے۔ مودی حکومت نے بجٹ میں غریب ، کسان، دیہی علاقوں کو سوغات دی ہے اور سست روی کی شکار معیشت کو رفتار دینے کے لیے گھریلو اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ امید کے برعکس درمیانی انکم ٹیکس دینے والوں کو کوئی راحت نہیں دی گئی ہے جبکہ امیروں پر ٹیکس کا اضافہ کیا ہے۔ بجٹ میں گاوئوں، غریب، کسان کی زندگی کے معیار کو بلند کرنے کے لیے کئی اعلانات کیے گئے ہیں جبکہ مڈل کلاس کے تنخواہ لینیوالوں کو کسی طرح کی رعایت نہ ملنے سے کافی مایوسی ہوئی ہے۔ البتہ امراء پر ٹیکس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دو کروڑ روپیے سے زیادہ اور پانچ کروڑ روپیے تک کی آمدنی والوں کے لیے اضافی 15 فیصدسے بڑھا کر 25 فیصد ٹیکس کیا گیا ہے لہٰذا اب انھیں تین فیصد زیادہ ٹیکس دینا ہوگا۔ پانچ کروڑ روپیے سے زیادہ کا ٹیکس مستطیع آمدن والوں کے لیے اضافی طور پر 37 فیصد کیا گیا ہے۔ اس سے انھیں سات فیصد زیادہ ٹیکس دینا ہوگا۔پینتالیس لاکھ روپیے تک مکان خریدنے والوں کو رہائشی قرض کی سود پر انکم ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ کی حد بھی بڑھا دی گئی ہے۔ آئندہ 31 مارچ تک مکان خریدنے والوں کو 1.5 لاکھ روپیے تک کی اضافی انکم ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس طرح سے مکانوں کے لیے دو لاکھ روپیے تک کے انکم ٹیکس چھوٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔پٹرول اور دیزل پر ایک ایک روپیے فی لیٹر پروڈکشن ٹیکس بڑھانے کے ساتھ ہی اتنی ہی رقم کی ترقی مع انفراسٹرکچر کی مد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے دونوں ایندھن کی قیمت ہفتے کے روز سے دو دو روپیے فی لیٹر مہنگی ہو جائے گی۔ ڈیزل کے مہنگا ہونے سے آنے والے دنوں میں دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔بجٹ میں سونا، چاندی اور زیورات پر کسٹم کو 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد اور کاجو پر 45 سے بڑھ کر 75 فیصد کرنے سے ان کی قیمتوں پر بھی اثر پڑے گا۔ امپورٹ (درآمد شدہ) کتابوں پر صفر سے بڑھا کر 5 فیصد اور آپٹیکل فائبر کیبل پر صفر سے 20 فیصد کرنے کی وجہ سے یہ مزیدمہنگے ہو جائیں گے۔گاڑی کے پرزوں پر 10 فیصد کے ٹیکس میں اضافہ کرکے 15 فیصد اور ٹائلس پر بھی 10 سے 15 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایئرکنڈیشن، لاوئوڈ اسپیکر، ویڈیو ریکارڈر، سی سی ٹی وی کیمرہ، گاڑی کے ہارن، تمباکو، سگریٹ اور موبائل کے پارٹس پر ٹیکس میں اضافے کی وجہ قیمت بڑھے گی۔اس کے علاوہ ڈیجیٹل کیمرہ، مکمل درآمداتی کار، صابن بنانے کے کام میں آنے والی خام اشیا، درآمداتی اسٹین لیس اسٹیل پیدوار، نیوزپرنٹ اور موبائل فون چارجر وغیرہ بھی مہنگے ہوجائیں گے۔نقد لین دین کو کم کرنے کے لیے بینک کھاتے سے ایک کروڑ روپیے سے زیادہ نکالنے والوں کو بھی جیب ڈھیلی کرنی پڑے گی۔ ایک کروڑ روپیے بینک سے نکالنے پراب دو فیصد کٹے گا۔ماحولیات کو صاف و شفاف بنانے کے لیے الیکٹرک کار کے استعمال کو بڑھاوا دینے کی سمت میں اس کے آلات کی خریداری پر رعایت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے علاوہ الیکٹرانک اشیا، سیٹ اپ باکس اور دفاع کا درآمداتی سامان بھی سستا ہوگا۔نرملاسیتا رمن نے آئندہ دہائی کے لیے 10 نکاتی وڑن کا اعلان کیا جس میں عوامی حصہ داری، آلودگی سے پاک ہندوستان، معیشت کے ہر شعبے میں ڈیجیٹل انڈیا کی رسائی،بنیادی اور سماجی انفراسٹرکچر کی تعمیر،آبی وسائل اور ندیوں کی صفائی ،خود انحصاری، میک ان انڈیا، اشیائے خوردنی، دال، تلہن، پھل، سبزی کے ایکسپورٹ (برآمد) کو فروغ اور آیوشمان بھارت کے ذریعے صحت مند سماج کی تعمیر شامل ہیں۔گھریلو سطح پر مینوفیکچرنگ کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے درمیانی،چھوٹی اور انتہائی چھوٹی صنعتوں پر زور دینے کے علاوہ اسٹارٹ اپ، دفاعی آلات کو ملک میں بنانا، آٹو موبائل، الیکٹرانکس اور صحت کے (طبی) آلات کے شعبے میں میک ان انڈیا کی رسائی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔اقلیتی امور کی وزارت کے لئے اس سال بجٹ میں 4599کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو 19-2018 کی مختص رقم سے زیادہ ہے۔اسی کے ساتھ عام بجٹ میں اقلیتوں کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے لئے مختص رقم میں تھوڑی کمی کے ساتھ حکومت نے یو پی ایس سی کے امتحانات میں شریک ہونے والے اقلیتی امیدواروں کیلئے مختص بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ اقلیتوں کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کیلئے مختص رقم پچھلے سال کے 2451 کروڑ روپے سے گھٹا کر 2362 کردی گئی ہے۔ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک گرانٹ کی رقم بالترتیب 1296 کروڑ روپے سے گھٹا کر 1220 کروڑ روپے اور 500 کروڑ روپے سے کم کرکے 496 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ اقلیتی امیدواروں کو مفت اور رعایات والی کوچنگ فراہم کرنے کے لئے بجٹ 8 کروڑ روپے سے بڑھاکر 20 کروڑ روپے کردیئے گئے ہیں ۔ یہ سہولت یو پی ایس سی ، ایس ایس سی وغیرہ کے ابتدائی امتحانات پاس کرنے والے طالب علموں کی مدد والی اسکیم کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں بجٹ کی تقریر میں کہا کہ ایک روپے، دو روپے، پانچ روپے، دس روپے اور بیس روپے کے سکوں کی ایک نئی سیریز جاری کی گئی ہے۔ ان سکوں کو نابیناافراد بھی آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔یہ نئے سکے عوام کے استعمال کے لئے جلد ہی دستیاب ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سات مارچ کو ان سکوں کی نئی سیریز کو جاری کیا تھا۔پہلا موقع ہوگا جب بازارمیں بیس روپے کا سکا استعمال میں آئے گا۔حکومت نے اپنے شہریوں کے طرز زندگی میں مزید آسانی لانے کا نشانہ طے کیا ہے۔
حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر جگہوں پر بھی رقوم کے ڈیجیٹل لین دین میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔طرز زندگی کو آسانے بنانے کی یقین دہانی کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ایک مؤثر طریقہ ہے۔ یہ بات خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 20-2019 پیش کرتے ہوئے کہی۔وزیر مالیات نے کہا کہ تقریباً 30لاکھ کارکنوں نے پردھان منتری شرم یوگی مان دھن میں شرکت کی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد غیر منظم اور باقاعدہ شعبوں میں 60 سال کی عمر پر پہنچ جانے والے کروڑوں کارکنوں کو پنشن کے طورپر 3000روپے ماہانہ فراہم کرنا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اونچے معیار زندگی اور آسان زندگی کے لئے ایک صاف ستھرے ماحول کو برقرار رکھنا اور دیر پا توانائی کی یقین دہانی ضروری ہے۔انہوں نے کہا‘‘گھروں کی سطح پر ایل ای ڈی بلب بڑے پیمانے پر تقسیم کئے جانے کا ایک عوامی پروگرام شروع کیاگیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک میں روایتی بلب اور سی ایف ایل بدلے گئے تھے۔تقریباً35کروڑ ایل ای ڈی بلب اجالا یوجنا کے تحت تقسیم کئے گئے، جس کے نتیجے میں 18341کروڑ روپے سالانہ کی بچت ہوئی۔ بھارت روایتی بلب کے استعمال سے آزادہونے والا ہے اور سی ایف ایل کا استعمال اب بہت ہی کم رہ گیا ہے۔ ہم ملک میں شمسی چولہوں اور بیٹری چارجر کے استعمال کے فروغ کے لئے مشن ایل ای ڈی بلب طریقہ کار اپنائیں گے۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ حکومت اس سال ریلوے اسٹیشن کو جدید طرز پر ڈھالنے کے ایک بڑے پروگرام کا آغاز کرے گی، تاکہ ریل کے سفر کو عام شہریوں کے لئے خوشگوار اور اطمینان بخش بنایاجاسکے۔خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نے کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا –گرامین(پی ایم اے وائی-جی) کا مقصد 2022ء تک سب کے لئے ہاؤسنگ کا نشانہ حاصل کرنا ہے۔پردھان منتری گرام سڑک یوجنا(پی ایم جی ایس وائی)کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا ‘‘پی ایم جی ایس وائی-III)میں اگلے پانچ سال میں 125ہزار کلومیٹر طویل سڑک کو بہتر بنایا جائے گا، جس پر تقریباً 80250کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔’’ انہوں نے کہا کہ اہل آبادی کے ساتھ آفاقی کنکٹی ویٹی کے نشانے کو حاصل کرنے کی رفتار میں تیزی لانے کے لئے تکمیل کا نشانہ 2022ء سے 2019ء کردیا گیا ہے۔تعلیم کے شعبے میں ’’عالمی معیار کے ادارے‘‘ قائم کرنے کے لئے مالی برس 2019-20 کے دوران 400 کروڑ روپے کی رقم مہیا کرائی گئی ہے، جو کہ گزشتہ مالی برس کے ترمیم شدہ تخمینے سے تین گنا زیادہ ہے۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ حکومت ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو عالمی سطح پر تعلیم کے بہترین نظام میں سے ایک نظام بنانے کے لئے نئی قومی تعلیمی پالیسی بھی لے کر آئے گی۔ اس نئی قومی پالیسی سے دیگر چیزوں کے علاوہ اسکول اور اعلیٰ تعلیم دونوں سطح پر بڑی تبدیلی آنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں اس سے نظم و نسق کے بہتر نظام اور تحقیق و اختراع پر بڑے پیمانے پر توجہ مرکوز ہوگی۔
نرملا سیتا رمن نے ’اسٹڈی ان انڈیا‘ یعنی ہندوستان میں پڑھائی کرو پروگرام کا بھی اعلان کیا۔ اس پروگرام کی توجہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرونی ملکوں کے طالب علموں کو لانے پر مرکوز رہے گی۔مرکزی وزیر مالیات نے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 10فیصد تک کے پہلے خسارہ کے لئے سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو ایک بار 6 ماہ کی جزوی قرض گارنٹی فراہم کرے گی۔انہوں نے این بی ایف سی کے مقابلے آر بی آئی کی ریگولیٹری اتھارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے فائنانس بل میں مناسب تجاویزپیش کیں۔ قرض کو فروغ دینے کے لئے سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو 70000 کروڑ روپے کا سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے، تاکہ ملک کی معیشت کو مزید رفتار دی جاسکے۔ ملک میں آسان زندگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے یہ سرکاری سیکٹر کے بینک ٹیکنالوجی کو مستحکم کریں گے، آن لائن پرسنل لون اور گھر پر بینکوں کی خدمات کی پیشکش کریں گے اور ایک سرکاری سیکٹر کے بینک کے صارف کو دیگر تمام سرکاری سیکٹر کے بینکوں میں خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنائیں گے۔ خزانہ اور کارپوریٹ کی مرکزی وزیر محترمہ سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2019-20 پیش کرتے ہوئے اطلاع دی کہ اس کے مستزاد اکاؤنٹ ہولڈر کو اس کے موجودہ حالات سے باہر نکالنے کے لئے حکومت متعدد اقدامات کرے گی۔ ان حالات میں اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنے اکاؤنٹ میں دوسرے کے ذریعہ جمع کردہ نقدی پر اختیار حاصل نہیں ہوتا ہے۔
سرکاری سیکٹر کے بینکوں میں گورنینس کو مستحکم کرنے کے لئے مزید اصلاحات کئے جائیں گے۔بینکنگ نظام کو صاف ستھرا کرنے سے حاصل ہونے والے مالی فوائد اب بالکل عیاں طور پر نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ برس کے دوران تجارتی بینکوں کے غیرمنفعت بخش اثاثے (این پی اے) میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران آئی بی سی اور دیگر اقدامات کے سبب 4 لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقومات کی ریکارڈ وصولی ہوئی ہے۔ سات برسوں میں کوریج تناسب سب سے زیادہ ہے اور گھریلو قرض کی شرح ترقی 13.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سیتا رمن نے مزید اطلاع دی کہ حکومت نے سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو مستحکم کرنے کے علاوہ اس کی تعداد میں کمی کی ہے۔ اس کے علاوہ 6 سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو فوری سدھار ایکشن فریم ورک سے باہر آنے کے قابل بنایا ہے۔وزیر خزانہ نے اطلاع دی کہ نان بینکنگ فائنانشیل کمپنیز (این بی ایف سی) چھوٹے اور اوسط درجے کے صنعت میں پائیدار صرفے کی مانگ اور سرمایہ کی تشکیل میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ این بی ایف سی جو کہ بنیادی طور پر بہتر ہوتے ہیں، کو بینکوں اور میچول فنڈ سے بغیر کسی خطرے کے فنڈ حاصل ہوتے رہنا چاہئے۔ انہو ں نے کہا کہ اعلیٰ قیمت کے سرمایہ کی خریداری کے لئے مالی طور پر مضبوط نان بینکنگ فائنانشیل کمپنیز، موجودہ مالی برس کے دوران کل ایک لاکھ کروڑ روپے تک کی کمپنیز کے لئے حکومت سرکاری سیکٹر کے بینکوں کو 10 فیصد تک کے خسارہ کے لئے ایک بار چھ مہینے کی جزوی قرض فراہم کرے گی۔ مزید برآں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) این بی ایف سی کے لئے ریگولیٹر ہے، تاہم آر بی آئی کے پاس این بی ایف سی کے اوپر محدود ریگولیٹری اتھارٹی ہے۔ این بی ایف سی پر آر بی آئی کی ریگولیٹری اتھارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے مناسب تجاویزفائنانس بل میں دیے جارہے ہیں۔
(بشکریہ یو این آئی)
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
