جموں و کشمیر
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہلگام دہشت گردانہ حملہ قابل مذمت قرار
ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ ہونا چاہئے
دہشت گردی تمام شکلوں اور مظاہر میں امن اور سلامتی کےلئے سنگین ترین خطرہ
سری نگر:جے کے این ایس : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، اس بات پر زور دیا ہے کہ ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہئے اور اس دہشت گردی کی قابل مذمت کارروائی کے منتظمین اور اسپانسر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔ جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق 15 ملکی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے پر ایک پریس بیان جاری کیا جس میں اراکین نے 22 اپریل کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی، جس کے دوران کم از کم 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے دہشت گردی کے اس قابل مذمت عمل کے مجرموں، منتظمین، مالی معاونت کرنے والوں اور اسپانسرز کو جوابدہ ٹھہرانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ ہونا چاہئے، اور تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس سلسلے میں تمام متعلقہ حکام کے ساتھ فعال تعاون کریں۔پریس بیان تمام 15 اراکین کی جانب سے سلامتی کونسل کے صدر کی طرف سے میڈیا کے لیے ایک اعلان ہے۔فرانس اپریل کے مہینے کےلئے کونسل کا صدر ہے اور یہ پریس بیان کونسل کے صدر فرانس کے مستقل نمائندے برائے اقوام متحدہ کے سفیر جیروم بونا فونٹ نے جاری کیا۔معلوم ہوا ہے کہ امریکہ نے بیان کا مسودہ پیش کیا تھا، جس پر کونسل کے ارکان نے بحث کی تھی۔پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کے طور پر بیٹھا ہے۔ ایک پریس بیان کےلئے کونسل کے تمام اراکین سے اتفاق کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بات چیت شدہ متن ہے۔سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرین کے خاندانوں اور حکومت ہند اور نیپال کی حکومت سے اپنی گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی خواہش کی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات کی تصدیق کی کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور بلاجواز ہے، چاہے ان کے محرکات سے قطع نظر، جہاں بھی، جب بھی اور جس نے بھی ارتکاب کیا ہو۔ جموں ٹریول گائیڈ۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون سمیت دیگر ذمہ داریوں کے مطابق تمام ریاستوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔
جموں و کشمیر
منشیات اسمگلنگ اور دہشت گرد سرگرمیوں سے منسلک 7.11 کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور ان کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی کے تحت سری نگر میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ کے تحت تقریباً 7.11 کروڑ روپے مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں منسلک اور منجمد کی گئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی شناخت غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک یا ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی املاک کے طور پر کی گئی۔
زکورہ پولیس اسٹیشن نے بلال کالونی، زکورہ میں واقع ایک رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین کو منسلک کیا، جس کی مالیت تقریباً 2.5 کروڑ روپے ہے اور یہ اویس احمد رَیدھر کی ملکیت ہے۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/22 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔
این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف (1) کے تحت کی گئی اس کارروائی کے بعد مجاز اتھارٹی کے مزید احکامات تک جائیداد کی فروخت، لیز، منتقلی، ردوبدل یا اس میں کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سے قبل نوگام پولیس اسٹیشن نے وگورا، بی کے پورہ کے رہائشی شیراز احمد شیخ کی تقریباً 2.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو منسلک کیا تھا۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 121/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔
اس جائیداد میں 18 مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ کنکریٹ عمارت، دو دکانیں اور ایک رائس مل شامل ہیں۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں احمد نگر پولیس اسٹیشن نے حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں واقع تقریباً 1.30 کروڑ روپے مالیت کی ایک رہائشی جائیداد کو منسلک کیا۔ یہ جائیداد ظہور احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی آرمس ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13، 18، 18-B، 19، 20، 23، 38 اور 39 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 20/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔ جائیداد میں چھ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین شامل ہے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اسے یو اے (پی) ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت منسلک کیا گیا۔
دریں اثنا، شالٹینگ پولیس اسٹیشن نے سری نگر کے چیک مجگنڈ میں سات مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان کو منجمد کردیا۔ اس کی مالیت تقریباً 46 لاکھ روپے ہے اور یہ امیر احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 43/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی، جس کے بعد اسے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت منجمد کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ چاروں کارروائیاں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مبینہ طور پر بنائی گئی جائیدادوں کی شناخت، سراغ لگانے، منجمد کرنے اور منسلک کرنے کا عمل جاری رکھے گی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے والے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں فوجی سربراہ نے ایل او سی کی تیاریوں کا جائزہ لیا، ’متحرک اور مشن کے لیے تیار‘ رہنے پر زور
سری نگر، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کشمیر میں تعینات فوجی جوانوں سے ’متحرک اور مشن کے لیے تیار‘ رہنے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں ’وجے‘ کے پانچ رہنما اصولوں کو اپنانے کی ہدایت دی۔
جنرل سیٹھ نے جمعہ کو چنار کور کے اگلے علاقوں کے دورے کے دوران لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہیں مضبوط سکیورٹی نظام برقرار رکھنے اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کیے جا رہے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
فوج کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک انفارمیشن (اے ڈی جی پی آئی) نے ایکس پر جاری پوسٹ میں بتایا کہ جنرل سیٹھ نے فوج کے تمام رینکس کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور مسلسل تیاری کی ستائش کی۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ جنرل سیٹھ نے تمام رینکس سے ’وجے‘ کے پانچ رہنما اصولوں کو اپنانے کی اپیل کی۔
ان اصولوں کا مقصد واضح مقصد کے ساتھ جدت لانا، تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا، عزم کے ساتھ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور چیلنجز کے سامنے آنے سے پہلے ان کا اندازہ لگانا ہے، تاکہ ہندوستانی فوج ہر صورت حال میں مضبوط، مستقبل کے لیے تیار اور مشن کے لیے آمادہ رہے۔ْ
جمعہ کو فوجی سربراہ نے کپواڑہ کے تنگدھر میں ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقد کیے گئے دسویں میگا آئی سرجیکل کیمپ کے دوران مریضوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں ادویات و تحائف تقسیم کیے۔ مسلح افواج کی طبی خدمات (اے ایف ایم ایس) کے سرجنوں نے ایل او سی کے ساتھ گولہ باری سے متاثرہ علاقے تنگدھر میں زیرِ زمین آپریشن تھیٹر میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کرنے والی سرجریاں انجام دیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
سری نگر، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اشوک کول نے جموں و کشمیر میں پارٹی کے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2012 سے جاری ان کی ایک دہائی سے زیادہ طویل مدت بھی ختم ہوگئی۔
جموں و کشمیر میں بی جے پی کے سب سے طویل عرصے تک تنظیمی ذمہ داری سنبھالنے والے رہنماؤں میں شامل کول نے تصدیق کی کہ انہوں نے عہدے کی ذمہ داری چھوڑ دی ہے اور اب اپنی اصل تنظیم میں واپس جائیں گے۔
انہوں نے اس فیصلے کی ایک وجہ عمر کو بتایا۔
کول نے یو این آئی سے کہاکہ ’’ہاں، میں نے اپنی عمر کی وجہ سے عہدہ چھوڑ دیا ہے۔‘‘
کول کا استعفیٰ بی جے پی کی تنظیمی سطح پر وسیع پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کے درمیان آیا ہے۔ پارٹی نے نتن نبین کو صدر مقرر کرنے کے بعد تنظیمی ڈھانچے میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ بی جے پی نے حال ہی میں کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نئی تنظیمی قیادت مقرر کی ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی ان تبدیلیوں کے تحت بی جے پی کے صدر نتن نبیَن نے ستیش پونیا کو پارٹی کا نیا جموں و کشمیر انچارج مقرر کیا ہے، جبکہ رینا کشیپ کو شریک انچارج کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
کشمیری پنڈت اور جموں و کشمیر میں بی جے پی کے اہم حکمتِ عملی سازوں میں شمار ہونے والے اشوک کول نے کئی برسوں تک دونوں خطوں میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا۔ اس دوران انہوں نے خاص طور پر کشمیر میں پارٹی کے نچلی سطح کے نیٹ ورک کو وسعت دینے پر توجہ دی۔
بی جے پی رہنماؤں کے مطابق، کول نے پارٹی کے کیڈر ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور روایتی طور پر پارٹی کے اثر و رسوخ سے باہر سمجھے جانے والے علاقوں تک اس کی سیاسی رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پارٹی نے کئی علاقوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو کبھی علیحدگی پسندی کے گڑھ سمجھے جاتے تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
