جموں و کشمیر
تنازعہ کو سیاسی مداخلت اور سفارت کاری سے حل کیا جا سکتا تھا:محبوبہ مفتی
جہاں چاقو کی ضرورت تھی، آپ تلوار نکال دیتے ہیں، اس سے کیا فائدہ
تنازعات کو حل کرنے کیلئے جنگ آخری حربہ بھی نہیں
جنگ تباہی لاتی ہے، اور یہ صرف میڈیا کی ٹی آر پی میں اضافہ کرتی ہے
سری نگر :جے کے این ایس: جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ اوراپوزیشن جماعت پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کے روز زور دے کر کہا کہ جنگ ایک ’ آخری آپشن یاحربہ ‘ بھی نہیں ہے جب ہندوستان ایک جوہری طاقت ہو۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو پہلگام حملے کے بعد پہلے کثیر الجماعتی وفد بھیجنا چاہیے تھا تاکہ دوسرے ممالک کو ملک کی آزمائش سے آگاہ کیا جا سکے۔جے کے این ایس کے مطابق پہلگام حملے کے جواب میں آپریشن سندور کے بعد پیداہوئی سنگین سرحدی صورتحال کے پس منظر میں پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہاکہ جنگ تباہی لاتی ہے، اور یہ صرف میڈیا کی ٹی آر پی میں اضافہ کرتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔محبوبہ مفتی نے اے این آئی کو بتایاکہ حکومت ہند آج جو کچھ کر رہی ہے، مختلف ممالک میں وفود بھیج رہی ہے، یہ دوسرے ممالک میں بیداری پیدا کرنے کے لیے پہلے کیا جانا چاہیے تھا کہ کیا ہوا ہے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جنگ کوئی آپشن یاحربہ نہیں ہے، یہاں تک کہ آخری آپشن بھی نہیں، جب کہ آپ(ہندوستان) ایٹمی طاقت ہیں۔پی ڈی پی کی صدرنے کہا کہ یہ جنگ عام شہریوں کے درمیان نہیں بلکہ دو ممالک کے درمیان ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ تنازعہ کو سیاسی مداخلت اور سفارت کاری سے حل کیا جا سکتا تھا۔انہوںنے کہاکہ حکومت کو بہت سے کام کرنے چاہیں، کیونکہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، یہ دو ممالک کے درمیان ہے ، جس چیز کو سیاسی مداخلت اور سفارت کاری سے حل کیا جا سکتا تھا ، جہاں چاقو کی ضرورت تھی، آپ تلوار نکال دیتے ہیں، اس سے فائدہ کیا ہے؟۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں کیونکہ اس سے صرف تباہی ہوتی ہے جب کہ سرحدی علاقوں میں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ دونوں ممالک سمجھیں گے کہ جنگ کوئی حل نہیں ہے۔ جنگ تباہی لاتی ہے، اور یہ صرف میڈیا کی ٹی آر پی میں اضافہ کرتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں، خاص طور پر جموں و کشمیر سے، تباہ ہو جاتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پہلگام میں 27سے28 لوگوں کو کھو دیا، اور پھر ہم نے مزید لوگوں کو کھو دیا، بہت سے گھر تباہ ہو گئے، اور ہمارا شہر پونچھ تباہ ہو گیا، بچے اور خواتین مارے گئے، اور جو عسکریت پسند پہلگام میں ملوث تھے وہ ابھی تک پکڑے نہیں گئے، پھر ہم نے کیا حاصل کیا؟۔قبل ازیں، مفتی نے مرکزی حکومت کے ایک کل جماعتی وفد کو اہم عالمی دارالحکومتوں میں بھیجنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تاکہ مختلف ممالک کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آپریشن سندور کے تناظر میں ہندوستان کی طرف سے سفارتی رابطہ ایک اچھا قدم ہے لیکن مرکز کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا چاہئے تھا اور ارکان پارلیمنٹ سے بات چیت کرنی چاہئے تھی۔
جموں و کشمیر
شری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو سالانہ روحانی یاترا کا آغاز کرتے ہوئے یہاں بھگوتی نگر یاتری نواس سے مقدس شری بوڈھا امرناتھ یاترا کے لیے عقیدت مندوں کے پہلے جتھے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے تمام یاتریوں کو ان کے محفوظ اور روحانی طور پر اطمینان بخش یاترا کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یاترا اور بوڈھا امرناتھ میلے کے ہموار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے بہترین تال میل اور وسیع انتظامات کرنے پر بابا امرناتھ اور بوڈھا امرناتھ یاتری نیاس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، مقامی انتظامیہ، لنگر تنظیموں اور سول سوسائٹی گروپوں کی ستائش کی۔
شری سنہا نے کہا کہ “بابا بوڈھا امرناتھ کے دھام کی مقدس یاترا ایک بہت ہی علم افزا تجربہ ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ یہ تیرتھ یاترا ہر عقیدت مند کی زندگی میں گہری تبدیلی لاتی ہے اور انہیں زندگی کی سب سے گہری سچائیوں سے روبرو کراتی ہے۔”
اس موقع پر منعقدہ تقریب میں ممتاز روحانی رہنماؤں، مذہبی سربراہوں، عوامی نمائندوں، سینئر انتظامی اور پولیس افسران، سکیورٹی افسران، معزز شہریوں اور بڑی تعداد میں پرجوش عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
