تازہ ترین
پلوامہ لہو لہو : 7عام شہری جاں بحق، 3 جنگجو ، فوجی جاح بحق 100سے زائد زخمی، ضلع میں کرفیو نافذ

خبراردو:
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے مضافاتی گاؤں خارپورہ سرنو میں سنیچر کو اُس وقت لوگ ششدرہ ہوکر رہ گئے جب یہاں فوج کی 55آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی 182اور 183بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے جنگجوؤں سے متعلق ایک مصدقہ اطلاع کے بعد پورے گاؤں کو محاصرے میں لیتے ہوئے جنگجو مخالف آپریشن کا آغاز کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں میں موجود جنگجوؤں کی تلاش کے لیے فورسز نے دوران شب ہی پورے گاؤں کو محاصرے میں لیا تھا جس کے بعد ہی طلوع آفتاب کے ساتھ ہی گاؤں میں گولیوں کی گن گرج سنائی دی۔

انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طرفین کی گولی باری چند گھنٹوں تک محیط رہی جس دوران مکان کے ملبے سے حزب المجاہدین سے وابستہ 3عسکریت پسندجاں بحق ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دوران فوج و فورسز کی طرف سے شروع کئے کئے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر علی الصبح ہی سرنو اور ملحقہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد جن میں نوجوان بھی شامل تھے نے جھڑپ والے مقام کی طرف پیش قدمی شروع کرنے چاہی تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پر چہار سوپتھراؤ کیا جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ فورسز اہلکاروں نے اس موقعے پر مظاہرین کا اگر چہ تعاقب کرنا چاہیے تاہم بضد مظاہرین نے فورسز کے خلاف محاذ جاری رکھتے ہوئے سنگ باری اور احتجاج میں شدت لائی۔معلوم ہوا کہ اس دوران فورسز اہلکاروں نے سنگ باری کررہے نوجوانوں پر راست فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی یہاں آہ و بکاہ کا عالم برپا ہوا ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسزنے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے راست فائرنگ اور پیلٹ کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں بھیڑ میں موجود سینکڑوں نوجوان خون میں لت پت ہوکر گر پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں یہاں کئی نوجوانوں کے نازک اعضا میں گولیاں پیوست ہوئیں جس کے نتیجے میں یہاں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ اس موقعے پر یہاں موجود لوگوں نے اگر چہ زخمی ہوئے نوجوانوں کو نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کردیاتاہم ہسپتال پہنچانے کے ساتھ ہی کئی نوجوان یہاں دم توڑ بیٹھے۔ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام پر فورسز کی ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں 6نوجوان جاں بحق ہوگئے جن کی شناخت شہباز علی ساکن منگہامہ، سہیل احمد ساکن بیلو، لیاقت احمد ساکن پاری گام، مرتضیٰ احمد ساکن پرچھو، عامر احمد پالا ساکن اشمندر اور عابد حسین لون ساکن کریم آباد شامل ہیں۔اس دوران اگر چہ درجنوں زخمیوں کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم یہاں ابتدائی مرحلے میں ایک اور نوجوان زندگی کی جنگ ہار بیٹھا جس کی شناخت توصیف احمد میر شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ توصیف احمد جھڑپ والے مقام پر ابتدائی طور پر گولی لگنے سے زخمی ہوگیا تھا جسے پہلے پہل ضلع ہسپتال پلوامہ منتقل کردیا گیا تھا تاہم یہاں موجود ڈاکٹروں نے اس کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ توصیف احمد میر کے جسم سے کافی خون بہہ چکا تھا جس کے بعد سرینگر پہنچتے ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز کی فائرنگ سے سرنو میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ یہاں موجود لوگوں نے زخمی ہوئے افراد کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز کی راست فائرنگ لوگوں کا زخمیوں تک پہنچنا محال بن گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک گولیوں کا سلسلہ جاری رکھا جس دوران یہاں خوف و دہشت ماحول پیدا ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں سڑکوں پر پڑے زخمی افراد کے جسم سے کافی خون بہہ گیا جن میں سے بعد میں کئی نوجوان ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے۔معلوم ہوا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں 100سے زائد مظاہرین بری طرح زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ہسپتال ذرائع کے مطابق کئی افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ ادھر سنیچر کی سہ پہر تک جنوبی کشمیر سے ایمبولینس گاڑیاں سرینگر کی جانب رواں دواں تھی جو فورسز کارروائی میں زخمی افراد کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس، صورہ، جے وی سی اور برزلہ ہسپتالوں میں منتقل کررہی تھی۔ اس دوران وادی بھر میں حالات نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب سرنو پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عام شہری ہلاکتوں کی خبر شمال و جنوب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے ساتھ ہی ہر سو صف ماتم بچھ گئی۔معلوم ہوا کہ سرنو پلوامہ میں جونہی فورسز کارروائی کے دوران عام شہریوں سے متعلق ہلاکتوں کی خبر شمالی اور وسطی اضلاع تک پھیل گئی تو یہاں کئی مقامات پر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے فورسز کارروائی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا نے سنیچر کی صبح اپنے کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے سرنو پلوامہ میں ہوئی عام شہری اور جنگجو ہلاکتوں کے خلاف کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ طلبا نے اس موقعے پر اسلام اور آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے لگاتے ہوئے وائس چانسلر کے سیکرٹریٹ کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ اس موقعے پر یہاں موجود طلبا نے فورسز کارروائی میں مارے گئے جنگجوؤں اور عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کیا۔ ادھر شہر کے نوہٹہ علاقے میں بھی لوگوں نے شہری ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاجی ظاہرے کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں سے شہری ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر نوہٹہ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سرنو پلوامہ میں 7عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاج کیا اور اس دوران انہوں نے فورسز کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہرین نے اس موقعے پر آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں کو شہری ہلاکتوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی۔شہر کے امر سنگھ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کالج کے احاطے میں جم کر نعرے بازی کی ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے جنگجوؤں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف سنیچر دوپہر کو کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طلبا نے اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں بھی زور دار نعرے بازی کی جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ شمالی قصبہ سوپور میں بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف طلبا نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ڈگر ی کالج سوپور کے طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج سے باہر آکر پلوامہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس دوران مظاہرین نے جونہی آگے بڑھنے کی کوشش کی تو یہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے احتجاج کررہے طلاب کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ ہوا میں آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے ساتھ ہی یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ اس دوران احتجاج کے نتیجے میں یہاں تمام تجارتی مراکز مکمل طورپر بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی ٹھپ ہوگئی۔ادھر وادی کے بقیہ علاقوں میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑتالی صورتحال دیکھنے کو ملی جس دوران دکانداروں نے اپنے دکانات کے شٹر گراکر محفوظ مقامات کی جانب پیش قدمی کی۔
ادھر ضلع پلوامہ میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے سنیچر کو پیدا شدہ صورتحال کے بعد اعلانیہ طور پر کرفیو نافذ کردیا جس کے بعد یہاں حساس مقامات پر ہتھیار بند فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے امن دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے ضلع کے حدود میں اگلے احکامات تک کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا ہے جس کے بعد یہاں کسی بھی شخص کو پرمارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیان، اننت ناگ اور کولگام سمیت وادی کے شمال و جنوب میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو فی الحال معطل کردیا ہے جس کے ساتھ ہی عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا۔ معلوم ہوا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا جب کہ حکام نے براڈ بینڈ سروس کی تیز رفتار سروس میں بھی کمی لائی ۔ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ریل سروس کو حالات سازگار ہونے تک معطل کردیا ہے۔
جموں و کشمیر
خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی، سری نگر نے رشوت کے معاملے میں سابق ایگزیکٹو انجینئر سمیت 2 افراد کو قصوروار قرار دے دیا
سری نگر، خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی عدالت، سری نگر نے بدعنوانی کے ایک معاملے میں دو سابق سرکاری افسران کو قصوروار قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کی ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر (وی او کے)، جو اب انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) سری نگر ہے، نے درج کیا تھا۔ قصوروار قرار دیے گئے افسران کی شناخت غلام نبی ڈار، جو اس وقت دیہی انجینئرنگ وِنگ (آر ای ڈبلیو)، گاندربل کے ایگزیکٹو انجینئر تھے اور محمد شمیم پرہ، جو اس وقت اردلی کے عہدے پر تعینات تھے، کے طور پر ہوئی ہے۔
اے سی بی نے بتایا کہ یہ معاملہ 2014 میں وی او کے تھانے میں ایک ٹھیکیدار کے بل کی کارروائی کے دوران غیر قانونی رقم طلب کرنے اور قبول کرنے کے سلسلے میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت قصوروار قرار دیا۔ ان میں جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی قانون کی دفعہ 5(2) بمعہ دفعہ 5(1)(d) کے تحت مجرمانہ بدعنوانی، اسی قانون کی دفعہ 4-اے کے تحت غیر قانونی رقم قبول کرنا اور رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 120-بی کے تحت مجرمانہ سازش شامل ہے۔
عدالت نے دونوں قصورواروں کو 4 سال کی سادہ قید کی سزا سنائی اور ہر دفعہ کے تحت 10,000 روپے جرمانہ عائد کیا۔
تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی۔ یہ فیصلہ جمعہ کو خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی، سری نگر تسلیم عارف نے سنایا۔ اے سی بی کی جانب سے اس مقدمے کی عدالت میں پیروی خصوصی سرکاری وکیل وجاہت جمیل نے کی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
عالمی عدم استحکام کے باوجود سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے ہندستانی معیشت: مرمو
نئی دہلی، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے ملک میں ڈیجیٹل اورفزیکل بنیادی ڈھانچوں کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ خود انحصاری کے بل بوتے پر عالمی عدم استحکام کے باوجود ہندستان دنیا میں سب سے تیز رفتار سے ترقی کر رہا ہےمحترمہ مرمو نے یومِ آزادی کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا، “دنیا کے متعدد علاقوں میں جنگ اور عدم استحکام کا تمام ممالک پر اثر پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں بھی ہمارے ملک کی معیشت، سب سے تیز رفتار سے بڑھتی ہوئی اہم معیشت کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ معاشی اندازوں کے مطابق، ہندستان کی شرحِ نمو دنیا کی اوسط شرحِ نمو کے مقابلے میں دوگنے سے زیادہ رہے گی۔”
انہوں نے کہا کہ ‘آتم نربھر بھارت’ مہم سے ملک کی معاشی پیش رفت اور قومی سلامتی کی بنیاد مضبوط ہوئی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ثقافتی خود اعتمادی پر مبنی ترقی متحرک اور دیرپا ہوتی ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے معاشی تعاون بڑھانے نیز باہمی تعلقات کو مزید استوار کرنے کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ گزشتہ کچھ عرصے میں ہوئے آزاد تجارتی معاہدوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ملک میں تیزی سے ترقی پاتے ڈیجیٹل اور فزیکل بنیادی ڈھانچے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گاؤں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں میں نیز ریہڑی پٹری پر بھی ڈیجیٹل ادائیگیاں ہو رہی ہیں۔ دنیا میں آدھے سے زیادہ ریئل ٹائم ڈیجیٹل لین دین ہندستان میں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہمارے اہل وطن اور حکومت نے مل کر ڈیجیٹل انقلاب کی مثال عالمی برادری کے سامنے پیش کی ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کی سہولیات کو شفاف طریقے سے عوام الناس تک پہنچایا ہے۔”
محترمہ مرمو نے کہا کہ ملک میں شاہراہوں، آبی گزرگاہوں، ریل راستوں اور فضائی راستوں کی شکل میں جدید بنیادی ڈھانچے کی بے مثال توسیع ہوئی ہے۔ اس سے نئے اور جدید اداروں کے لیے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، نئے روزگار تخلیق ہو رہے ہیں نیز سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پانی کا ہر قطرہ ہماری سرخ لکیر ہے: شہباز شریف سندھ طاس معاہدے پر بیان
نئی دہلی، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے پر ہندوستان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے حصے کے پانی کی حفاظت ملک کے لیے بہت حساس ہے اور پانی کا ہر قطرہ ان کے لیے ‘سرخ لکیر’ کی طرح ہے۔
پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں “یادگارِ فتح” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ اگر ہندوستان نے اپنے مؤقف پر نظر ثانی نہ کی اور پانی کے بہاؤ میں مداخلت کی کوشش کی تو پاکستان کی جانب سے براہ راست جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان آبی وسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اس تقریر کے اقتباسات سوشل میڈیا پر بھی جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے لیکن اس پرامن انداز کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ خطاب کے دوران انہوں نے اپنی دفاعی پالیسیوں اور اتحادی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستانی حکومت نے سخت رویہ اپناتے ہوئے 1960 کے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پاکستان 14 اگست کو اپنا یوم آزادی مناتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
