جموں و کشمیر
کراس ووٹنگ یا خفیہ ڈیل؟ راجیہ سبھا انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل
نیشنل کانفرنس (این سی) نے جمعہ کے روز جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا کی چار میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک سیٹ جیت کر سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد یونین ٹیریٹری سے راجیہ سبھا کے ارکان منتخب ہو رہے تھے، جس کے باعث یہ انتخاب ریاستی اور قومی سطح پر خاص توجہ کا مرکز بنا رہا۔
سیاسی جوڑ توڑ اور سخت مقابلہ
ووٹنگ سری نگر کے اسمبلی کمپلیکس میں ہوئی، جہاں ارکانِ اسمبلی نے تین مختلف پولنگ بوتھوں پر اپنے ووٹ ڈالے۔ابتدائی گنتی سے ہی نیشنل کانفرنس کے امیدواروں کی پوزیشن مستحکم دکھائی دے رہی تھی۔
چودھری محمد رمضان، سجاد کچلو اور گرووندر سنگھ اوبرائے نے شاندار کامیابی حاصل کی، تاہم چوتھی نشست پر مقابلہ انتہائی سخت رہا۔آخر کار بی جے پی کے امیدوار ست شرما نے کامیابی حاصل کی، لیکن یہی نتیجہ اب سب سے بڑا تنازعہ بن گیا ہے۔
احسان پردیسی کا الزام: “بی جے پی کے پاس نمبر ہی نہیں تھے” نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما احسان پردیسی نے بی جے پی کی کامیابی پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا
کہ یہ جیت “کراس ووٹنگ کا نتیجہ” ہے۔
احسان پردیسی نے کہا: “بی جے پی کے پاس اتنے ووٹ تھے ہی نہیں کہ وہ جیت سکیں۔ ان کی کامیابی صرف اور صرف کراس ووٹنگ کا نتیجہ ہے۔” ان کے مطابق، بی جے پی نے صرف اپنی صفوں کی حمایت کے باوجود بتیس ووٹ حاصل کیے —جو خود ایک غیر معمولی امر ہے۔
عمر عبداللہ کا سخت ردعمل: “بی جے پی کے چار اضافی ووٹ کہاں سے آئے؟” نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے تمام ووٹ برقرار رہے اور کسی ایم ایل اے نے کراس ووٹنگ نہیں کی۔
انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا: “نیشنل کانفرنس کے تمام ووٹ برقرار رہے، کوئی کراس ووٹنگ نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ بی جے پی کے چار اضافی ووٹ کہاں سے آئے؟ کن ایم ایل ایز نے جان بوجھ کر اپنے ووٹ ضائع کیے؟
کیا ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ سامنے آ کر قبول کریں کہ انہوں نے بی جے پی کی مدد کی؟” ان کے اس بیان کے بعد سیاسی گرمی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
کانگریس رہنما وکار رسول کا نیا الزام
ادھر کانگریس کے ریاستی صدر وکار رسول وانی نے سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ کہ عمر عبداللہ نے بی جے پی کے ساتھ “اندرونی ڈیل” کی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ
“عمر عبداللہ نے بی جے پی کے ساتھ خفیہ سمجھوتہ کیا ہے اور وہ آئندہ ضمنی انتخابات میں دو نشستیں بی جے پی کو دینے پر راضی ہو گئے ہیں۔ یہ جیت اسی سمجھوتے کا حصہ ہے۔”
وکار رسول کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر سیاسی طوفان برپا ہو گیا، جہاں صارفین مختلف جماعتوں کی نیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
سازش یا اعتماد؟ سوال برقرار
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پی ڈی پی، کانگریس، سی پی آئی (ایم) اور آزاد ارکان سب نے نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا، تو پھر بی جے پی کو اضافی ووٹ کہاں سے ملے؟ یہ سوال اب جموں و کشمیر کی سیاست میں نئے مباحث کو جنم دے رہا ہے۔ نیشنل کانفرنس اس جیت کو عوامی اعتماد کی فتح قرار دے رہی ہے،
جبکہ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ ان کی جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی کی جڑیں جموں و کشمیر کی سیاست میں مزید مضبوط ہو چکی ہیں۔ پسِ پردہ کہانی جاری نتائج کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس نے راجیہ سبھا میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی، جبکہ بی جے پی نے ایک سیٹ کے ذریعے اپنی موجودگی درج کرائی
تاہم، پسِ پردہ اٹھنے والے سوالات —کراس ووٹنگ، خفیہ سمجھوتے اور سیاسی سودے بازی —اب اس انتخاب کے اصل موضوع بن گئے ہیں۔
جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر اعتماد، سازش اور مفاد کی نئی جنگ شروع ہو چکی ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی، سری نگر نے رشوت کے معاملے میں سابق ایگزیکٹو انجینئر سمیت 2 افراد کو قصوروار قرار دے دیا
سری نگر، خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی عدالت، سری نگر نے بدعنوانی کے ایک معاملے میں دو سابق سرکاری افسران کو قصوروار قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کی ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر (وی او کے)، جو اب انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) سری نگر ہے، نے درج کیا تھا۔ قصوروار قرار دیے گئے افسران کی شناخت غلام نبی ڈار، جو اس وقت دیہی انجینئرنگ وِنگ (آر ای ڈبلیو)، گاندربل کے ایگزیکٹو انجینئر تھے اور محمد شمیم پرہ، جو اس وقت اردلی کے عہدے پر تعینات تھے، کے طور پر ہوئی ہے۔
اے سی بی نے بتایا کہ یہ معاملہ 2014 میں وی او کے تھانے میں ایک ٹھیکیدار کے بل کی کارروائی کے دوران غیر قانونی رقم طلب کرنے اور قبول کرنے کے سلسلے میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت قصوروار قرار دیا۔ ان میں جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی قانون کی دفعہ 5(2) بمعہ دفعہ 5(1)(d) کے تحت مجرمانہ بدعنوانی، اسی قانون کی دفعہ 4-اے کے تحت غیر قانونی رقم قبول کرنا اور رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 120-بی کے تحت مجرمانہ سازش شامل ہے۔
عدالت نے دونوں قصورواروں کو 4 سال کی سادہ قید کی سزا سنائی اور ہر دفعہ کے تحت 10,000 روپے جرمانہ عائد کیا۔
تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی۔ یہ فیصلہ جمعہ کو خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی، سری نگر تسلیم عارف نے سنایا۔ اے سی بی کی جانب سے اس مقدمے کی عدالت میں پیروی خصوصی سرکاری وکیل وجاہت جمیل نے کی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
کشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
سری نگر، ڈویژنل کمشنر کشمیر انشول گرگ نے جمعہ کو ان اطلاعات کی تردید کی کہ سوشل میڈیا پر مبینہ دھمکی آمیز خط گردش کرنے کے بعد انتظامیہ نے کشمیری پنڈت ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی کوئی زبانی ہدایت جاری کی ہے۔
گرگ نے کہا کہ ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات پر بھروسہ کریں۔
گرگ نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’دیکھیں، اس طرح کا کوئی حکم کسی بھی صورت میں جاری نہیں کیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کی جانے والی مستند اطلاعات پر ہی اعتماد کریں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم سب کو اطلاعات کے محکمے، حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے مستند ذرائع پر ہی انحصار کرنا چاہیے۔ ہمیں ان پر بھروسہ کرنا چاہیے۔‘‘
سکیورٹی سے متعلق خدشات پر ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ سرکاری ملازمین، رہائشیوں اور 15 اگست کی یومِ آزادی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کے لیے مناسب سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک سکیورٹی کا تعلق ہے، ملازمین، رہائشیوں یا 15 اگست کی یومِ آزادی تقریبات میں شرکت کرنے والوں، سب کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
