جموں و کشمیر
وادی بھر میں پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، سینکڑوں مقامات پر بیک وقت چھاپے، متعدد افراد گرفتار، قابلِ اعتراض مواد ضبط
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے وادی کے تقریباً تمام اضلاع میں ایک بڑے اور مربوط آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم جماعتِ اسلامی کے خلاف منظم کارروائی انجام دی۔ اس کارروائی میں پولیس، اسپیشل آپریشنز گروپ، سی آر پی ایف اور دیگر سلامتی ایجنسیوں کی مشترکہ ٹیموں نے کولگام، اننت ناگ، شوپیاں، پلوامہ، اونتی پورہ، سوپور اور گاندربل اضلاع میں سینکڑوں مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔
یہ آپریشن انسدادِ غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ کے تحت اس وقت شروع کیا گیا جب انٹیلی جنس ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ جماعتِ اسلامی کے بعض پرانے ارکان اور ہمدرد مختلف ناموں اور سماجی تنظیموں کے پردے میں دوبارہ اپنی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں سب سے بڑی کارروائی انجام دی گئی۔ پولیس نے گزشتہ چار دنوں کے دوران 200 سے زائد مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ چھاپوں کے دوران جماعتِ اسلامی کے سابق عہدیداران، کارکنان اور اُن کے قریبی ساتھیوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔
پولیس کے مطابق پچھلے ایک ہفتے میں 400 سے زائد’کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز‘ کیے گئے جن میں ان علاقوں کو بھی شامل کیا گیا جہاں ماضی میں دہشت گردوں کی جھڑپیں یا ان کے ٹھکانے موجود رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 500 سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، جن میں سے متعدد کو احتیاطی حراست کے تحت ضلع جیل مٹن اننت ناگ منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ کئی مقامات سے الیکٹرانک آلات، موبائل فون، ہارڈ ڈرائیوز، تنظیمی لٹریچر، رسیدی کتابیں اور مالیاتی ریکارڈ ضبط کیے گئے ہیں، جن کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ضلع اننت ناگ میں پولیس نے مختلف علاقوں بشمول بیج بہاڑہ، لالچوک، کھنہ بل اور کوکر ناگ میں چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران کئی گھروں کی تلاشی لی گئی اور جماعتِ اسلامی سے وابستہ متعدد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
پولیس نے بتایا کہ کچھ افراد پر شبہ ہے کہ وہ جماعت کے پرانے نیٹ ورک کے ذریعے نوجوانوں کو مذہبی تعلیمات کے پردے میں علیحدگی پسند نظریات کی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ پولیس کو بعض مقامات سے لیپ ٹاپ، یو ایس بی ڈرائیوز، مذہبی نصاب، اور مالیاتی کھاتے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے دستاویز بھی شامل ہیں جن سے بیرونی فنڈنگ کے اشارے ملے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے دو دیگر اضلاع شوپیاں اور پلوامہ میں بھی پولیس نے علی الصبح بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیے۔ شوپیاں کے زینہ پورہ، کلورہ، ہیرو پورہ، کپران اور امام صاحب علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف نے درجنوں گھروں کی تلاشی لی۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے متعدد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ کالعدم جماعتِ اسلامی کے نظریاتی نیٹ ورک سے رابطے میں تھے۔
اسی طرح پلوامہ میں پولیس نے متعدد مقامات پرچھاپے مارے۔ پلوامہ پولیس نے بتایا کہ کارروائی کے دوران قابلِ اعتراض لٹریچر، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور موبائل فون ضبط کیے گئے ہیں، جنہیں فارنزک تجزیے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق،پلوامہ پولیس کی یہ کارروائیاں امن و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ کسی کو بھی ریاست کے امن کو نقصان پہنچانے یا نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پولیس ضلع اونتی پورہ میں بھی متعدد مقامات پر تلاشی کارروائیاں انجام دی گئیں۔ پولیس کے مطابق چھاپوں کے دوران کئی گھروں سے ڈیجیٹل شواہد، تنظیمی دستاویزات، اور مالیاتی کھاتے ضبط کیے گئے۔
اونتی پورہ پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ہماری انٹیلی جنس یونٹس مسلسل اس بات کی نگرانی کر رہی ہیں کہ جماعتِ اسلامی کے کچھ سابق ارکان دوبارہ تنظیمی سرگرمیاں بحال نہ کر سکیں۔ یہ چھاپے انہی خدشات کے پیشِ نظر انجام دیے گئے ہیں۔
شمالی کشمیر کے ضلع سوپور میں پولیس نے 30 سے زائد مقامات پر بیک وقت کارروائی انجام دی۔ چھاپوں کے دوران پولیس نے زا نگیر، رفیع آباد، جنگل چک، تارزو اور احمدپورہ علاقوں میں جماعتِ اسلامی سے منسلک افراد کے گھروں کی تلاشی لی۔
پولیس نے بتایا کہ کارروائی کے دوران قابلِ اعتراض مواد، موبائل ڈیوائسز، ہارڈ ڈرائیوز اور تنظیمی ریکارڈ برآمد کیا گیا ہے۔ متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ ان کے روابط اور سرگرمیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں پولیس نے کئی مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ پولیس کے مطابق انہیں انٹیلی جنس اطلاعات ملی تھیں کہ جماعتِ اسلامی سے وابستہ کچھ عناصر علاقے میں نئی تنظیمی ساخت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چھاپوں کے دوران دستاویزات، کمپیوٹر ڈرائیوز، تنظیمی پمفلٹس اور مالیاتی تفصیلات ضبط کی گئیں۔ کئی مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے تاکہ ان کے بیرونی روابط کا پتہ لگایا جا سکے۔
جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائیاں وادی میں دہشت گردی اور اس کے معاون نیٹ ورک کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کا تسلسل ہیں۔ ترجمان نے کہا:
یہ چھاپے مکمل طور پر انٹیلی جنس بیسڈ ہیں۔ مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ کسی بھی کالعدم یا علیحدگی پسند تنظیم کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں احتیاطی نوعیت کی ہیں اور ان کے ذریعے پولیس اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ وادی کا امن، بھائی چارہ اور استحکام برقرار رہے۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا فرد کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ “اگر کوئی فرد یا گروہ مذہب یا خدمت کے نام پر انتہا پسند نظریات پھیلانے کی کوشش کرے تو اسے فوراً رپورٹ کیا جائے۔
پولیس حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی مخصوص طبقے کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے معاون ڈھانچے کے مکمل خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
ایک سینئر افسر نے کہا:’جموں و کشمیر پولیس کا عزم ہے کہ امن، ترقی اور استحکام کے دشمنوں کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رہے گی۔ کوئی بھی فرد یا تنظیم جو نوجوانوں کو گمراہ کرنے، یا امن و قانون کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی، اسے قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ڈی آئی جی نارتھ نے ہندواڑہ میں یومِ آزادی کی تیاریاں اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سرینگر، یومِ آزادی کی آنے والی تقریبات کے پیش نظر ہندواڑہ سب ڈسٹرکٹ میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آف پولیس، نارتھ کشمیر ونود کمار نے سیکورٹی فورسیز کو انتہائی چوکس رہنے اور فول پروف سیکورٹی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
ڈی آئی جی ونود کمار نے پولیس ڈسٹرکٹ ہندواڑہ کا دورہ کیا اور ہندواڑہ پولیس، سی اے پی ایف اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے افسران کے ساتھ ایک سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ پولیس ترجمان کے مطابق اجلاس کے دوران تقریبات کے پرامن اور خوش اسلوبی سے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی انتظامات، تعیناتی کے منصوبوں، علاقے میں غلبہ قائم رکھنے، رسائی کے کنٹرول، ٹریفک مینجمنٹ اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایس ایس پی ہندواڑہ ساحل سارنگل نے 15 اگست کے سلسلے میں اب تک کیے گئے سیکورٹی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ آنے والے دنوں کے لیے طے شدہ اقدامات پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے ڈی آئی جی این کے آر کو پورے پولیس ڈسٹرکٹ میں تیز تر تلاشی اور جانچ، گشت، علاقے میں غلبہ اور آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ مجموعی سیکورٹی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈی آئی جی نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ وہ چوکس رہیں، حساس مقامات پر سیکورٹی تدابیر کو مضبوط بنائیں، گشت اور جانچ میں تیزی لائیں اور تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور خفیہ معلومات کا بر وقت تبادلہ یقینی بنائیں۔
عام لوگوں کو کم سے کم زحمت کو یقینی بناتے ہوئے اعلیٰ سطح کی الرٹ اور تیاری کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ پولیس اور تمام شریک ایجنسیوں نے پورے پولیس ڈسٹرکٹ میں محفوظ، پرامن اور ناخوشگوار واقعات سے پاک یومِ آزادی کی تقریبات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا23 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
