دنیا
امریکی دھمکیاں اور خطے میں مداخلت جاری رہی تو آبنائے ہرمز بند رہے گی: آئی آر جی سی
تہران، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کی معاونت کرنے والے علاقائی ممالک کو سخت ردِعمل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو انہیں سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک بیان میں آئی آر جی سی نے کہا ہے کہ جب تک امریکا خطے میں دھمکیاں دینے اور بحری نقل و حرکت میں مداخلت کا سلسلہ جاری رکھے گا، آبنائے ہرمز بند رہے گی، امریکی دھمکیاں اور خطے میں مداخلت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیں گی۔
آئی آر جی سی کے مطابق گزشتہ شب دو آئل ٹینکروں نے امریکی طیاروں کی ہدایت پر آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے ایک ایسے بحری راستے کے ذریعے نکلنے کی کوشش کی جسے آئی آر جی سی نے غیر محفوظ قرار دیا تھا۔
آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک آئل ٹینکر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد دونوں جہاز واپس لوٹ گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کی ’مکمل تباہی‘ کی دھمکی بین الاقوامی جرائم کا اعتراف :ایران
نیویارک، ایران نے بدھ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’اسلامی جمہوریہ ایران کو مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’مکمل طور پر غیر قانونی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کو فوجی کارروائی کی دھمکی دینے کے لیے استعمال کرنا واشنگٹن کی جانب سے بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کا اعتراف ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے ٹرمپ کے خطاب کو بھی ’’بار بار دہرائے گئے دعووں اور الزامات‘‘ کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات اختیار کے بجائے ’’مایوسی‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔
بقائی نے اعلیٰ سطحی سفارتی ہفتے کے پہلے روز کے بعد ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ان میں سے ایک نکتہ امریکی صدر کی تقریر تھی۔ یہ بات اس لیے قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے بیانات دہرائے گئے دعوے اور الزامات تھے، اور یہاں بھی بہت سے ممالک کے سفارت کاروں اور وفود کا حقیقی تاثر یہی تھا کہ یہ بیانات اختیار کے نہیں بلکہ مایوسی کے اظہار تھے۔‘‘
ان کا یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر نے تہران کو ایک سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے سامنے یا تو ایسا معاہدہ کرنے کا راستہ ہے جس سے وہ دوبارہ تعمیر نو کرسکے، یا پھر اسے تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوگا جو اسے دوبارہ تعمیر ہونے اور اس سے کہیں زیادہ بڑا ملک بننے کی اجازت دے گا؟ یا میں اسلامی جمہوریہ کو مکمل طور پر تباہ کردوں اور یہ کام تیزی سے کروں؟‘‘
بقائی نے اس دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے ٹرمپ پر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کے سب سے بڑے سفارتی فورم کو کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، جو سب سے بڑی بین الاقوامی اسمبلی ہے، کو ایسے بیانات دینے کا اسٹیج بنانا جو مکمل طور پر غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون اور سفارتی روایات کے خلاف ہوں، اختیار کی علامت نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’کسی ملک کو فوجی حملے کی دھمکی دینا، یہ سب موجودہ امریکی حکمران ادارے کی نوعیت کا اعتراف اور بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کا اعتراف ہے۔‘‘
دوسری جانب ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دیگر ممالک سے تہران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے میں واشنگٹن کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے کہا، ’’میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایران کی مکمل اقتصادی تنہائی نافذ کرنے میں ہمارا ساتھ دیں، جب تک وہ تجارتی بحری جہازوں پر اپنے حملے بند نہیں کرتا، اپنی جوہری عزائم سے دستبردار نہیں ہوتا اور دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا۔‘‘
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ امریکی فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جن میں بحریہ، فضائیہ، رڈار نظام، فضائی دفاعی آلات اور میزائل و ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت شامل ہیں۔
بقائی نے اس سوال کا بھی جواب دیا کہ ٹرمپ کی تقریر کے دوران ایرانی وفد نے جنرل اسمبلی کا اجلاس مکمل طور پر چھوڑ کیوں نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سفارتی سطح پر ایران کی نمائندگی کی، جبکہ ایران کے اقوام متحدہ مشن کا ایک سفارت کار کارروائی کی پیروی کے لیے اجلاس ہال میں موجود رہا۔
بقائی نے کہا، ’’اس بارے میں بات ہوئی ہے کہ ایرانی وفد مکمل طور پر اجلاس سے باہر کیوں نہیں گیا۔ سفارت کاروں کے لیے ایران کی نشست مقدس ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اقوام متحدہ جنرل اسمبلی جیسے مقام پر ایران کی نشست ہمارا مضبوط مورچہ ہے، اور یقیناً اگر دوسروں کی سخت اور نامناسب باتوں کی وجہ سے ہم اس مورچے کو چھوڑ دیتے تو ہم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پاتے۔‘‘
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
وزیر خارجہ عراقچی کی ٹرمپ کے خصوصی نمائندوں ویٹکوف اور کشنر سے ملاقات :ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن
نیویارک، امریکی حکام کے پُر زور اصرار پر’ ایرانی وزیر خارجہ عبّاس عراقچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نیویارک میں یکجا ہوئے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے تصدیق کی کہ وزیر خارجہ عراقچی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود تھے، جہاں انہوں نے ٹرمپ کے مشیروں وٹکوف اور کشنر سے ملاقات کی۔
‘امریکی حکام کی مسلسل درخواست پر’ ہونے والی اس ملاقات میں عراقچی نے ایران کے خلیجِ ہرمز کی گزرگاہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط امریکہ کے سامنے رکھیں۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط: امریکی بحری محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے، ایران کے منجمد شدہ تمام اثاثے آزاد کیے جائیں اور تمام علاقوں میں جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔
نیویارک میں ہونے والی یہ ملاقات تہران اور واشنگٹن کے درمیان جون میں پاکستان میں دستخط شدہ معاہدے کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی روبِرو ملاقات تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی حکام نے نیویارک میں ایرانی وفد کے نمائندوں کے ساتھ ایک خوش آئند ملاقات کی ہے جو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ: غزہ کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی جائے گی
نیویارک، ٹرمپ نے نیویارک میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔
اپنی تقریر کے آغاز میں امریکی داخلی سیاست اور معیشت کے بارے میں طویل جائزے پیش کرنے کے بعد ٹرمپ نے آئندہ کانگریس ضمنی انتخابات سے پہلے اپنے حامیوں کو پیغامات دیے۔
صدرِ امریکہ کے طور پر اب تک آٹھ جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس-یوکرین جنگ، ایران کے ساتھ تنازعات، غزہ میں انسانی بحران اور دیگر علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں کے حل کے لیے بڑی کوششیں کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدہ 3 نومبر کے انتخابات کے بعد ہوگا۔
ایران کے بارے میں اپنی پچھلی باتوں کو جزوی طور پر دہراتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “مجھے یقین ہے کہ (3 نومبر کے) انتخابات کے فوراً بعد (ایران کے ساتھ) ایک معاہدہ ہو جائے گا کیونکہ ان کے لیے یہ نہ کرنا ذی فہم نہیں ہوگا۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران یہ دیکھ رہا ہے کہ وہ انتخابات سے کس نتیجے کے ساتھ نکلیں گے، اور واضح کیا کہ وہ خود انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے؛ صرف ری پبلکن پارٹی مقابلے میں ہوگی۔
صدر نے زور دیا کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا ایران کو “نیست و نابود” کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بحران ‘ایسے یا ویسے’ حل ہونا چاہیے اور اس معاملے کو “تیزی” سے نمٹانا ضروری ہے۔
ٹرمپ نے ترکیہ کے غزہ میں تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ جمع کی گئی رقم مناسب وقت پر غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے استعمال ہوگی، اور ممالک بہت فیاض رہے ہیں:
“ہم غزہ امن کونسل کے رکن ممالک کی امدادی کوششوں میں فراہم کردہ اربوں ڈالر کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔ یہ رقم براہِ راست غزہ کی تعمیرِ نو اور امدادی کاموں میں جا رہی ہے۔ مراکش، بحرین، قطر، کویت، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور بہت سے دیگر ممالک نے حصہ ڈالا۔ یہ ممالک انتہائی فیاض ثابت ہوئے۔”
صدر نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ عہدِے پر آتے ہی آٹھ جنگیں ختم کر چکے ہیں، جع امداد ضرورت مند جگہوں تک پہنچ رہی ہیں، لوگ چاہتے ہیں کہ انسانی امداد درست انداز میں ملے، اور اربوں ڈالر کی امداد غزہ پہنچے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بھی بڑے سرگرم ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ رک جائے۔ انہوں نے کہا، “ہم روس اور یوکرین کے قائدین کے ساتھ بہت قریب تعاون میں ہیں اور اس مسئلے کو حل کریں گے۔”
لاطینی امریکہ کے بارے میں بھی امریکہ کی طرف سے سنجیدہ حرکات کی بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کیوبا میں انتظامیہ بہت ناکام ہے۔
ٹرمپ نے کہا، “ہم اس بات کا ہدف رکھتے ہیں کہ کیوبا میں جہاں کمیونسٹ نظام شدید دباؤ میں ہے، وہاں صورتِ حال بنیادی طور پر بدل جائے۔ کیوبا ایک ناکام ریاست ہے۔ کیوبا زوال پذیری کی شکار ہو گی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت وہاں ان کی فوجی موجودگی ہوگی اور یہ امریکہ کی سیکیورٹی کے لیے اہم ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا، “ہم گرین لینڈ میں مناسب مقامات پر وسیع پیمانے پر فوجی موجودگی قائم کرنے کے عمل کا فوری آغاز کریں گے۔ وہاں ہم دو بہت بڑے فوجی اڈے تعمیر کریں گے۔” مزید تفصیلات آ رہی ہیں…
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر4 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر4 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا5 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
دنیا5 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
ہندوستان1 week agoیوپی آئی چارجز پر کانگریس نے خطرے کی گھنٹی بجائی، جے رام رمیش نے مودی حکومت پر فیس کا راستہ کھولنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
