دنیا
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
تہران، ایرانی پاسداران انقلاب نے چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا ایرانی بحریہ کو تباہ کردیا، ٹرمپ ہمت کریں خلیج میں امریکی نیوی بھیجیں ترجمان پاسداران کا کہنا ہے کہ ابھی 10 سال پہلے تیار کیے گئے میزائل استعمال کررہے ہیں، جون 2025 کے بعد تیار میزائل استعمال میں نہیں لائے قبل ازیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو اب تک زندہ ہے تو اس کا تعاقب کریں گے، صہیونیوں کے قدم اکھڑ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیتن یاہو کا فلائی دبئی کے طیارے میں سیکڑوں جانیں بچانے پر ہندوستانی پائلٹ کا شکریہ
ماسکو، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فلائی دبئی کی پرواز میں سوار 174 افراد کی جانیں بچانے میں کردار ادا کرنے والے ہندوستانی پائلٹ کی بہادری کو سراہا ہے۔
بدھ کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز نے دورانِ پرواز ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا اور کچھ دیر بعد سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ ایئرلائن کے مطابق پرواز کے دوران دونوں پائلٹوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی تھی۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’میں ہندوستانی پائلٹ کیپٹن سمت مچھر کی غیر معمولی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں۔ چاقو کے وار سے زخمی اور شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے حملہ آور کا مقابلہ کیا، مزاحمت کی، کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور مسافروں و عملے کو حملہ آور پر قابو پانے میں مدد دی، جس سے دورانِ پرواز ایک تباہ کن حادثہ ٹل گیا۔‘‘
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ سمت مچھر نے 174 افراد کی جانیں بچائیں، جن میں اسرائیلی اور دیگر ممالک کے شہری بھی شامل تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
بغداد، عراق امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے موقع پر چار روزہ قومی تعطیلات ’’یومِ خودمختاری‘‘ منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم دو دہائیوں سے زائد عرصے کی غیر ملکی فوجی مداخلت کے خاتمے کے ساتھ بغداد کو ایک نئی اور پیچیدہ سکیورٹی صورتحال میں توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
بدھ کو امریکی فوج کے انخلا کی آخری تاریخ مقرر ہے، جس کے تحت عراق میں موجود چند سو امریکی فوجی بھی ملک سے روانہ ہوں گے۔ یہ فوجی 2015 میں داعش کے خلاف شروع کیے گئے بین الاقوامی اتحاد کے آپریشن میں مشاورتی کردار ادا کر رہے تھے۔
وزیر اعظم علی الزیدی کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی امریکی انخلا کا منصوبہ طے ہو چکا تھا، تاہم یہ عراق کی ریاستی عمل داری دوبارہ مضبوط کرنے کے ان کے وسیع تر منصوبے سے ہم آہنگ ہے۔ اس منصوبے میں جون 2027 تک ملک کی تمام ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں تیز کرنا بھی شامل ہے، جن میں ایران نواز کئی طاقتور گروپ بھی شامل ہیں، جو ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران خطے میں حملے کر چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے الزیدی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ’’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کر رہی ہے کہ امن اور جنگ کے معاملات میں ریاست ہی حتمی فیصلہ ساز ہو اور ہتھیار اور طاقت کے ذرائع آئینی اداروں کے ہاتھ میں رہیں‘‘۔
انہوں نے کہا، ’’عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے ساتھ ہم اپنے تزویراتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں لے جا رہے ہیں، جہاں فوجی تعاون سے اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کی طرف منتقلی ہوگی تاکہ ہمارے مشترکہ مفادات پورے ہوں۔‘‘
عراق میں سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمان کے مطابق امریکی انخلا ایران سے وابستہ بااثر ملیشیاؤں کو ’’سیاسی طور پر کمزور‘‘ کرنے کی الزیدی کی حکمت عملی کا حصہ بھی دکھائی دیتا ہے۔
ان ملیشیاؤں نے طویل عرصے سے عراق میں امریکی فوج اور ترکی جیسے دیگر غیر ملکی عناصر کی موجودگی کو اپنے ہتھیار اور الگ کمانڈ ڈھانچہ برقرار رکھنے کا جواز قرار دیا ہے۔ بعض گروپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کریں گے۔
سلیمان کے مطابق وزیر اعظم عراقی عوام کے سامنے یہ سیاسی جواز قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے زیادہ زیر اثر وہ گروپ، جنہوں نے حکومت کی اجازت کے بغیر ہتھیار استعمال کیے، اب ان ہتھیاروں کو رکھنے کی سیاسی وجہ نہیں رکھتے۔
تاہم ان کے بقول یہ ایک خطرناک اور پیچیدہ حکمت عملی ہے، جس سے ایران کو عراق میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے اور مستقبل میں ملک کے اندر شدید محاذ آرائی کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ اگر عراق میں موجود گروپ امریکی مفادات کو نشانہ بناتے رہے تو واشنگٹن کی جانب سے بغداد پر مزید دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔
امریکی قیادت میں ’’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘‘ کے خاتمے کے بعد عراقی حکومت جس انداز میں نئی صورتحال سے نمٹے گی، اس کے ملک کی آئندہ سکیورٹی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
2017 میں داعش کی علاقائی شکست کے بعد عراق گزشتہ چند برسوں میں نسبتاً مستحکم رہا ہے، اگرچہ اس کی سرحدیں مسلسل تنازعات اور عدم تحفظ سے گھری رہی ہیں۔ 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع ہونے کے بعد بھی یہ استحکام بڑی حد تک برقرار رہا۔ 2025 کے اختتام تک باقی امریکی فوجی شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں اربیل کے ایک فضائی اڈے پر محدود ہو گئے تھے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
