دنیا
ایران کا ’سجیل میزائل‘ کتنا خطرناک، اسے’ڈانسنگ میزائل‘ کیوں کہا جاتا ہے
تہران، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور تہران کی جانب سے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کا سلسلہ برقرار ہے۔
جنگ کے 17ویں روز پیر کی علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ٹینک پر ڈرون حملے سے لگنے والی آگ کے بعد اب ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اتوار کو اسرائیل کے خلاف آپریشن ‘وعدہ صادق 4’ کی 54 ویں لہر میں پہلی بار اپنے اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل ‘سجیل’ کا تجربہ کیا ہے۔
سجیل میزائل کو ‘عاشورہ’ بھی کہا جاتا ہے، یہ دو مراحل والا بیلسٹک میزائل ہے جو ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے۔ مائع ایندھن والے میزائلوں کے برعکس اسے بہت تیزی سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی لمبائی 18 میٹر اور وزن 23,600 کلوگرام ہے، جبکہ یہ 700 کلوگرام وزنی روایتی یا جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس میزائل کی سب سے خطرناک بات اس کی لچک اور رفتار ہے۔ ایرانی دعوؤں کے مطابق یہ مرکزی ایران سے داغے جانے کے بعد صرف سات منٹ میں تل ابیب پہنچ سکتا ہے۔
سجیل میزائل مصر، سوڈان اور جنوبی روس کے کچھ حصے، یوکرین کے بیشتر حصے، مغربی چین کے ایک حصے، بھارت اور بحرِہند اور بحیرۂ روم کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سجیل میزائل کے پرواز کے تمام مراحل میں اپنی چال بدلنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسے ‘ڈانسنگ میزائل’ کا نام دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسرائیل کا مشہور ‘آئرن ڈوم’ اور دیگر روایتی دفاعی نظام اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پر اینٹی ریڈار کوٹنگ بھی کی گئی ہے جو اسے ریڈار کی نظروں سے اوجھل رکھتی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اتوار کے حملوں میں سجیل کے ساتھ ساتھ خرم شہر، خیبر شکن، قدر اور عماد میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ ان حملوں میں اسرائیل کے انتظامی و عسکری مراکز کے علاوہ کویت میں الحریر ایئر بیس، علی السالم ایئر بیس اور کیمپ عارفجان کو نشانہ بنایا گیا جس سے وہاں شدید نقصان اور خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں ایک ایرانی میزائل امریکی قونصلر اہلکار کی رہائش گاہ پر گرا، جبکہ جنوبی تل ابیب میں ہونے والی بمباری میں کم از کم تین اسرائیلی زخمی ہوئے۔ وسطی اسرائیل میں بھی میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
اگرچہ موجودہ جنگ میں یہ سجیل کا پہلا استعمال ہے، تاہم ایران اسے گزشتہ سال اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ میں بھی استعمال کر چکا ہے۔ اس وقت ایران نے بیئر شیوا میں اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس کمپلیکس اور کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران سجیل کے مزید جدید ورژن (سجیل 3) پر بھی کام کر رہا ہے جس کی رینج 4,000 کلومیٹر تک ہو سکتی ہے، سجیل میزائل اگر جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوا تو یہ مزید خوفناک ہوسکتا ہے۔
ایران نے اس میزائل کا پہلا تجربہ 2008 میں کیا تھا۔ 2009 سے اب تک اس میزائل کے چار اضافی فلائٹ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ چھٹے ٹیسٹ کے دوران اس میزائل نے بحرِ ہند میں تقریباً ایک ہزار 900 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا12 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
