تازہ ترین
ذاکر موسیٰ ہلاکت: وادی سمیت خطہ چناب کے کئی علاقے محصور:مکمل رپورٹ
خبراردو: جمعرات کی شام جنوبی ضلع پلوامہ کے ڈاڈسرہ ترال علاقہ میں انتہائی مطلوب اورمعروف کمانڈرذاکرموسیٰ کے جاں بحق ہوجانے کے بعدممکنہ احتجاجی مظاہروں کوروکنے کیلئے حکام نے فوری نوعیت کے کچھ سخت اقدامات اُٹھائے ۔
جمعہ کوسحری کے وقت شہرخاص اورسیول لائنز سمیت سری نگر کے کئی حساس علاقوںمیں پولیس وفورسزکے دستے تعینات کرکے لوگوں کو گھروں سے باہرآنے پرپابندی عائدکردی گئی جبکہ صبح کے وقت راجباغ سمیت کئی علاقوں میں پولیس کی گاڑیوں کے ذریعے کرفیونافذکئے جانے کااعلان بھی کیاگیاجبکہ شہرخاص میں واقع مرکزی جامع مسجدکوسیل رکھ کریہاں نمازجمعہ کی اجازت نہیں دی گئی۔
تشدد کے واقعات رونماہونے کابھی اندیشہ تھا،اسلئے فوری نوعیت کے کچھ سیکورٹی اقدامات احتیاطی طورپرروبہ عمل لاکرپولیس اورفورسزکوحساس علاقوں میں تعینات کرنے کافیصلہ لیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ سری نگراورپلوامہ اضلاع کے ضلعی مجسٹریٹوں نے دفعہ144کے تحت حاصل اختیارات کے تحت فوری نوعیت کے احتیاطی سیکورٹی اقدامات اُٹھانے کے احکامات متعلقہ پولیس حکام کودئیے ۔ادھرجمعہ کوعلی الصبح سے ہی شہرسری نگراورجنوبی ضلع پلوامہ کے سبھی حساس علاقوں اورمقامات پرکرفیوجیسی بندشیں عائدکرنے کیلئے پولیس وفورسزاہلکاربڑی تعدادمیں تعینات کئے گئے ۔نمازجمعہ سے پہلے اوربعدنمازجمعہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات کوملحوظ نظررکھتے ہوئے شہرخاص اورسیول لائنزمیں سخت بندشیں عائدرکھی گئیں جبکہ شہرخاص کوسیول لائنزاوردیگرنواحی علاقوں سے ملانے والی سڑکوں اورچوراہوں پرخاردارتاریں بچھانے کیساتھ ساتھ دیگررکاﺅٹیں بھی ڈال دی گئیں ،جس وجہ سے ان سبھی علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت ناممکن ہوگئی اورلوگوں کو پیدل عبورومرورمیں بھی مشکلات کاسامناکرناپڑا۔
شہرخاص کے علاوہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کوروکنے کیلئے مائسمہ ،پرے پورہ اورحیدرپورہ میں بھی پولیس وفورسزاہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی جبکہ حیرت انگیزطورپرراجباغ اوراسکے نزدیکی علاقوں میں جمعہ کوصبح کے وقت پولیس گاڑی کے ذریعے کرفیوکے نفاذکااعلان بھی کروایاگیاتاہم بعدازاں کسی بھی علاقہ میں کرفیوجیسی کوئی بندش عائدنہیں کی گئی ،اورنہ یہاں کسی سڑک یاچوراہے پرکوئی خاردارتاربچھائی گئی ۔اس دوران شہرخاص میں واقع مرکزی جامع مسجدکوسیل رکھ کریہاں نمازجمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔جامع مسجدکے گردونواح میں واقع علاقوں بشمول نوہٹہ ،ملارٹہ ،گوجوارہ ،صراف کدل ،بہوری کدل ،راجوری کدل اوردیگرنزدیکی بستیوں ے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیں گھروں سے باہرآکرایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ا ُدھرجنوبی ضلع پلوامہ میں بھی اسی نوعیت کے پیشگی سیکورٹی اقدامات اُٹھائے گئے ۔پلوامہ ،ترال اوراونتی پورہ سمیت کچھ علاقوں اورقصبہ جات میں دفعہ 144کے تحت سخت بندشیں عائدرکھی گئیں جبکہ ممکنہ مظاہروں کوروکنے کیلئے جنوبی کشمیرکے ان قصبوں اورعلاقوں میں پولیس وفورسزکے اضافی دستے سریع الحرکت رکھے گئے۔ پوری کشمیروادی میں بغیرکسی کال کے مکمل ہڑتال رہی ۔شہروقصبہ جات سمیت بیشترعلاقوں میں سبھی چھوٹے بڑے بازار،دیگرکاروباری مراکز،کارخانے اورفیکٹریاں بھی بندرہیں جبکہ ٹرانسپورٹ سہولیات نہ ہونے کے باعث ہزاروں کی تعدادمیں مزدوراوردیگرمحنت کش بھی دن بھرکام کاج سے محروم رہے ۔اس دوران حکام نے ممکنہ احتجاجی مظاہروں اورگڑبڑکے پیش نظرپوری وادی میں تمام تعلیمی اداروں کوبندرکھنے کے احکامات صادرکردئیے ۔صوبائی انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کوشام دیرگئے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے یہ اعلان کیاگیاکہ جمعرات کوکشمیروادی میں سبھی اسکول اورکالج بندرہیں گے ۔حکام نے بتایاکہ تعلیمی اداروں کوبطوراحتیاطی اقدام کے بندرکھنے کافیصلہ لیاگیاتاکہ امن وقانون کی صورتحال کوقائم رکھاجاسکے ۔
انتظامی نوعیت کی اس ہدایت کے پیش نظرجمعہ کے روزشہرسری نگرسمیت پوری کشمیروادی میں ہزاروں کی تعدادمیں پرائمری تاہائراسکنڈری اسکولوں ،50سے زیادہ کالجوں اورتینوں یونیورسٹیوںمیں درس وتدریس کاعمل معطل رہاجبکہ لاکھوں کی تعدادمیں چھوٹے بڑے طلباءاور طالبات کاایک اورقیمتی دن ضائع ہوگیا۔اس دوران کشمیریونیورسٹی ،اسلامک یونیورسٹی اورسنٹرل یونیورسٹی کی جانب سے جمعہ کولئے جانے والے سبھی امتحانات اورانٹرنس ٹیسٹ بھی ملتوی کئے گئے ۔یونیورسٹیوں کے حکام نے بتایاکہ 24مئی کولئے جانے والے امتحانات کی نئی تاریخوں کااعلان جلدکیاجائیگا۔کشمیریونیورسٹی کے کنٹرولرامتحانات پروفیسر فاروق احمدمیر نے بتایاکہ 24مئی کولیاجانے والابی ایڈامتحان اب 26مئی کولیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی میں لئے جانے والے پوسٹ گریجویشن کے کچھ امتحانات بھی ملتوی کئے گئے ،اورانکی نئی تاریخوںکااعلان بعدازاں کیاجائیگا۔اُدھراسلامک یونیورسٹی کی جانب سے 24مئی کولئے جانے والے امتحانات بھی ملتوی کئے گئے ۔مذکورہ یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایاکہ 24مئی کولئے جانے والے امتحانات کی نئی تاریخوں کااعلان جلدکیاجائیگا۔
اُدھرجنگجوکمانڈرذاکرموسیٰ کی ہلاکت کے بعدممکنہ افواہوں کی روکتھام کیلئے حکام نے جمعرات کوشام8بجے سے ہی پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرادی ،اوراس موبائل انٹرنیٹ بریک ڈاﺅن کیلئے متعلقہ مواصلاتی کمپنیوں کوشام کے وقت فوری احکامات دئیے گئے ۔بی ایس این ایل ،ائرٹیل ،جیواوردیگرمواصلاتی کمپنیوں کے ذرائع نے بتایاکہ جمعرات کی شام اُنھیں انتظامیہ کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی کہ سری نگرشہرسمیت پوری کشمیروادی میں غیرمعینہ عرصہ کیلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کومعطل رکھاجائے ،اورہم نے سرکاری احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے یہ انٹرنیٹ سروس تاحکم ثانی روک دی ۔ادھرموبائل انٹرنیٹ بریک ڈاﺅن کی وجہ سے میڈیااورسما ج کے دیگرکئی طبقوں سے وابستہ افرادکوجمعرات کی شا م سے پیشہ وارانہ خدمات وغیرہ انجام دینے میں سخت دقعتوں کاسامناکرناپڑا۔دریں اثنا ءچناب کے بھدرواہ قصبہ سمیت کچھ علاقوں میں بھی ممکنہ احتجاجی جلوسوں اورمظاہروں کوروکنے کیلئے دفعہ144کانفاذعمل میں لاکرپولیس وفورسزاہلکاروں کی حساس مقامات پرتعیناتی عمل میں لائی گئی ۔
اس دوران بھدرواہ اوربانہال سمیت کچھ علاقوں میں ہڑتال رہی ۔معلوم ہواکہ سری نگرجموں شاہراہ پرواقع بانہال قصبہ میں ہڑتال کے باعث بازار،کاروباری مراکزاورتعلیمی ادارے بھی بندرہے ۔اُدھربھدرواہ قصبہ اوراسکے نواحی علاقوں میں دفعہ144کے تحت بندشیں عائدکرنے کیساتھ ساتھ یہاں بھی موبائل انٹرنیٹ سروس کومعطل رکھاگیا۔حکام نے بتایاکہ بھدرواہ اوربھالاسمیت کچھ علاقوں میں احتیاطی اقدام کے بطوردفعہ144نافذرکھاگیااوریہاں اس دفعہ کے تحت ممکنہ احتجاجی جلوسوں اورمظاہروںپرروک لگائی گئی ۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
