تازہ ترین
کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس سے متعلق عدالت کا تاریخی فیصلہ: مکمل رپورٹ
خبراردو: صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع میں سال 2018کے اوائل میں پیش آئے عصمت دری و قتل معاملے سے متعلق پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت میں 7ملزموں میں سے6کو مجرم قرار دیا گیا جس میں سے 3کو عمر قید جبکہ دیگر 3پولیس اہلکاروں کو ساڑھے پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔ ادھر عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقعے پر پٹھانکوٹ عدالت کے ارد گرد سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے جبکہ جبکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے فورسز اور نیم فورسز دستوں کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔
جموں کے کٹھوعہ ضلع میں جنوری 2018میں پیش آئے عصمت دری و قتل معاملے سے متعلق پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت میں واقعے میں ملوث 7ملزمان میں سے 6کو مجرم قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ پٹھانکوٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تجویندر سنگھ نے سوموار کو گزشتہ برس سے جاری کیس کی سماعت کے آخری دن تاریخ ساز فیصلے میں 8میں سے 7افراد کو ٹھوس شہادتوں اور شواہد کی بنیاد پر مجرم قرار دیا۔ عدالت نے 3ملزمان ماسٹر مائینڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپک کھجوریہ کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ واقعے میں ملوث مزید 3پولیس اہلکاروں کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق عدالتی فیصلے کے وقت پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت اور مضافات میں سیکورٹی کے کڑے بندوبست کئے گئے تھے تاکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے بروقت نمٹا جاسکے۔اس دوران واقعے میں مبینہ طور پر ملزم قرار دئے گئے وشال جنگوترا کو عدالت نے بری قرار دیا۔کٹھوعہ کیس میں چھ ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔سزا کا اعلان دوپہر دو بجے سنایا گیا۔ کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا (نابالغ ملزم)، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران آنند دتا اور تلک راج شامل تھے۔ سانجی رام، پرویش کمار، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران آنند دتا اور تلک راج کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو بری کیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔قبل ازیں3جون کو جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے استغاثہ اور وکلاءصفائی کی طرف سے پیش کئے گئے حتمی دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ رکھا تھا اور 10جون 2019کو کیس میں ملوث پائے گئے مجرموں کے تئیں سزا کا اعلان کیا گیا۔8سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے معاملے میں پٹھان کوٹ کی خصوصی عدالت نے کل 7 ملزموں میں سے 6 کو مجرم قرار دیا ہے۔ ان میں سے تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ماسٹر مائنڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپک کجھوریہ ککو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تین پولیس والوں کو 5۔5 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ادھر خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقعے پر پٹھانکوٹ کورٹ اور ارد گرد کے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے گئے تھے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھی کہ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے ساتھ ہی یہاں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے تاہم انتظامیہ نے سیکورٹی کو کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے تیاری کی حالت میں رکھا تھا۔ اس دوران عدالتی فیصلے کی بڑے پیمانے پر سراہنا کی جارہی ہے جبکہ سماج کے مختلف طبقوں نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی کے علاوہ پیپلز کانفرنس چیرمین سجاد غنی لون، پیپلز مومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر شاہ فیصل ، گوجر بکروال کانفرنس کے صدر حاجی محمد یوسف ، جنرل سیکرٹری محمد یاسین پوسوال، یوتھ لیڈر زاہد پرواز چودھری، سماجی کارکن ایڈوکیٹ طالب حسین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف اور قانون کی فتح قرار دیا۔
خیال رہے صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع کے رسانہ نامی گاﺅں میں 10جنوری 2018کو گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی مویشیوں کو چرانے کے دوران لاپتہ ہوگئی تاہم 17جنوری2019کو مذکورہ بچی کی لاش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی جس کے بعد واقعے کے حوالے سے ایک انکوائری ٹیم بٹھائی گئی جس نے واقعے کے حوالے سے تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات کئے۔ تحقیقات کے دوران اس بات کاخلاصہ کیا گیا کہ معصوم بچی کے ساتھ اجتماعی طور پر زیادتی کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔اس سلسلے میں واقعے کے حوالے سے عوامی سطح پر ریاست اور بیرون ریاست سخت غم و غصہ پایا گیا اور ملوث عناصر کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔
عدالتی فیصلہ انصاف اور قانون کی جیت: محبوبہ/عمر
جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشز کورٹ پٹھان کوٹ کی طرف سے پیر کے روز کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے بارے میں سنائے گئے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سیاست کرنے سے احتراز کیا جانا چاہئے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، موزوں ترین وقت ہے کہ ہم آٹھ سالہ بچی کے ساتھ پیش آئے بہیمانہ جرم جس میں عصمت دری کے بعد اس کو قتل کیا گیا، پر سیاست نہ کریں۔
محبوبہ مفتی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہاکہ کٹھوعہ فیصلہ سے راحت نصیب ہوئی، اس کا کریڈٹ آئی جی پی افہادالمجتبیٰ کی سربراہی والی کرائم برانچ کی ٹیم، ایس ایس پی جالا، ایڈیشنل ایس پی نوید، ڈپٹی ایس پی شیو تامبری اور طالب کو جاتا ہے جنہوں نے رکاوٹوں کے باوجود حقائق کو سامنے لایا اور ملک بھر کے لوگ متاثرہ بچی کی حمایت کےلئے کھڑے رہے۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ آمین، قصوروار وں کو تحت قانون سخت ترین سزا ملنی چاہئے اور ان سیاست دانوں جنہوں نے قصورواروں کا دفاع کیا، متاثرہ کو بدنام کیا اور قانونی سسٹم کو دھمکایا کے بارے میں مذمت کے لئے الفاظ ہی نہیں ہیں۔
فیصلہ سچائی کی فتح: ایڈوکیٹ مبین فاروقی
سانحہ کٹھوعہ کے ستم زدگان کے قانونی صلاح کار ایڈوکیٹ مبین فاروقی نے عدالتی فیصلے کو سچائی کی فتح قرار دیا ہے۔
سانحہ کٹھوعہ کے ستم ززدگان کے قانونی صلاح کارایڈوﺅکیٹ مبین فاروقی نے پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو’سچائی کی فتح‘سے تعبیرکرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ملزمان کومجرمین مان کراُن کیخلاف خصوصی عدالت کی جانب سے سنایاگیافیصلہ کسی ایک برادری یافرقہ کی نہیں بلکہ سبھی فرقوں یعنی ہندوﺅں،مسلمانوں ،سکھوں اورعیسائیوں کی کامیابی ہے ۔ایڈوﺅکیٹ مبین فاروقی نے پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ صادرکئے جانے کے بعدکہاکہ خصوصی عدالت کے فیصلے کوہم صدق دلی ،کھلے ذہن اورحوصلے کیساتھ قبول کرتے ہیں کیونکہ اس فیصلے میں عدل وانصاف کے اصولوں اورقانون کی حکمرانی کوملحوظ نظررکھاگیاہے ۔ایڈوﺅکیٹ فاروقی نے کہاکہ ہم مجرمین کوسزائے موت دینے کی اپیل کریں گے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
