تازہ ترین
وادی کشمیر میں ۵ اگست کے بعد جلتی دکانیں ، زیارتیں اور ہلاکتیں دیکھیں!
خبراردو ڈیسک :
وادی کشمیر میں ۵ اگست کے بعد مختلف جگہوں پر صرف محدود پیمانے پر سنگبازی کے وقعات اور احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے لیکن مجموعی طور پر وادی کے حالات کو سیکورٹی ایجنسیاں قابوکرنے میں پوری طرح کامیاب رہی۔
لیکن دوسری جانب سے وادی میں پہلے سو روز غیر اعلانیہ ہڑتالاور اسکے بعد جزوی طور پر معمولات زندگی بحال ہونے تک جنوبی کشمیر میں ہوئی ہلاکتوں ، سرینگر اور دیگر اضلاع میں ہوئے دھماکوں ، شمال و جنوب میں دکانیں پراسرار طور پر جلانے کے واقعات کو یہ ایجنسیاں نہیں روک پائی ۔
۵ اگست کے بعد سے جنوبی کشمیر کے اضلاع میں کئی جھڑپوں کے دوران ایک درجن کے قریب عسکریت پسند بھی مارے گئے ۔ اگست میں ہی پہلے سرینگر کے پارم پورہ مارکیٹ میں دن دھاڑے ایک دکاندار کو موت کی نیند سلا دیا گیا ۔
جنوبی کشمیر میں سب سے پہلے اکتوبر میں غیر ریاستی مزدوروں اور سیب کے کاروبار سے وابستہ افراد پر کئی حملے کئے گئے ۔ ۱۴ اکتوبر کو راجھستان سے تعلق رکھنے والے محمد شریف جو کہ ایک ٹرک ڈرائیور تھے اور یہاں سے سیب لیجانے کےلئے آئے تھے کو شوپیان میں نامعلوم بندو ق برداروںنے گولیاں چلا کر موت کی ابدی نیند سلا دیا اور ساتھ ہی ٹرک کو نذر اآتش کر دیا ۔
اسکے دو دن بعد ہی پلوامہ میں چھتیس گڑھ کے سیٹھی کمار ساگر جو اینٹ کے بٹھے میں کام کر تے تھے ،بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے ۔اسی روز شام کو پنجا ب کے ایک ٹرک ڈرائیور چرن جیت سنگھ کو شوپیان میں ہلاک کیا گیا ، جبکہاس کا ساتھی زخمی ہوا ۔
یہ سلسلہ یہی نہیں رکا بلکہ ۲۳ اکتوبر کو پھر سے راجھستان کے دو ٹرک ڈرائیور محمد الیاس اور زاہد نامعلوم بندوق برداروں کی گولیوں کا نشانہ بنے ۔۲۸ اکتوبر کو جموں صوبے کے کٹرا کے رہنے والے ٹرک ڈرائیور نارائن دت بجبہاڑہ میں ہلاک کئے گئے ۔
اس کے اگلے روز ہی جس دن یورپی یونین کا ۲۳ رکنی وفد وادی کے دورے پر آیا تھا ، کلگام میں مغربی بنگال کے پانچ مزدور اپنے کرائے کے مکان میں نامعلوم بندوق برداروں نے قتل کر ڈالے۔
اسکے علاوہ مقامی افراد کی بھی کچھ ہلاکتیں اس غیر یقینی صورتحال کے بیچ نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں ہوئی ہے ۔ ۱۳ نومبر کو ترال کے مارکیٹ میں دو بچوں کا باپ معراج الدین زرگر جو کہ وہیں ایک دکان پر بطور سیلز مین کام کرتا تھا بندو ق برداروں کی گولیاں کا نشانہ بن گیا ۔
۲۶ نومبر کو اننت ناگ کے ہاکورہ علاقے میں بیک ٹو ولیج پروگرام کے دوران نامعلوم بندوق برداروں نے پہلے وہاں موجود بھیڑ پر ہتھ گولہ داغا اور اسکے بعد فائرنگ بھی کی ، حملے میں ایک سرکار افسر اور مقامی سرپنچ ہلاک ہوئے جبکہ دیگر ۵ زخمی ہوئے ۔
بھیڑ والی جگہوں پر دھماکے :
وادی میں ۵ اگست کے بعد سے ایک درجن کے قریب چھوٹے بڑے دھماکے بھی ہوئے ہیں ۔، جن میں درجنوں زخمی اور کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی ۔ اگست اور ستمبر میں سرینگر کے ئی علاقوں میں فورسز پارٹیوں پر گرینیڈ داغے گئے لیکن ان میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
۵ اکتوبر کو اننت ناگ میں ضلعی ترقیاتی کمشنر کے دفتر کے باہر ایک دھماکے میں ۱۴ افراد زخمی ہوئے تھے۔ ۱۲ اکتوبر کو سرینگر کے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ مارکیٹ میں ہوئے ایک دھماکے میں کم از کم ۵ افراد زخمی ہوئے تھے ۔
اسی طرح سے ۲۸ اکتوبر کو سوپور کے بس سٹینڈ میں ایک زور دار دھماکے میں ۲۰ افراد زخمی ہوئے تھے ۔اسکے بعد پھر سے بھیڑ کو ہی نشانہ بناتے ہوئے سرینگر کے گونی کھن مارکیٹ میں جہاں دکانیں کھلی تھیں اور لوگ خریداری میں مصروف تھے کہ اسی اثنا میں ایک زور دار دھماکہ ہوا ، جس میں ایک غیر مقامی کھلونے بیچنے والا شخص ہلاک جبکہ دیگر ۴۰ زخمی ہوئے ۔
درجنوں دکانیں نذرآتش :
وادی میں اس غیر یقینی صورتحال کے دوران اب تک جنوب و شما ل میں ایک درجن سے زائد دکانیں آگ کے حوالے ہوئی ہیں ۔ دکانیں جلانے والے کی جانب سے دکھنے میں یہ ایک تنبیہ کیا جا تا ہے کہ دکانیں نہ کھولیں ورنہ آپ کی دکانوں کا بھی ایسا ہی حال ہو گا ۔ اور ایسا تب شروع ہوا جب شمال و جنوب میں دکانیں کئی جگہوں پر پورے دن کےلئے کھلی رہنے لگی تھی۔
۲۵اکتوبر کو بٹہ مالو میں پراسرار طور پر چھ دکانوں میں آگ نمودار ہو گئی اور کچھ منٹوں کے بعد لاکھوں کا سامان راکھ میں تبدیل ہوا ۔
۵ نومبر کو بٹہ مالو کے ہی اقبال مارکیٹ میں دس دکانیں آگ کی وجہ سے مکمل طور خاکستر ہو گئی ۔ اسی طرح ۲۰ نومبر کو چار دکانیں ڈاون ٹاون میں جل کر راکھ ہو گئی ۔
۲۵ نومبر کو اسی طرح سے بارہ مولہ میں مختلف جگہوں پر تین دکانیں اور اسی روز اننت ناگ کے ڈانگر پورہ علاقے میں سات دکانیں آگ کے حوالے ہو گئی ۔
ان تمام دکانوں میں سے پولیس کےمطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بھی کچھ نذر آتش ہوئے ۔
ادھر دوسری جانب ۲۵ نومبر کو ترال میں شر پسندوں نے ایک زیارت میں آگ لگا دی گئی جس سے زیارت کو نقصان پہنچا ۔ لیفٹننٹ گورنر جی سی مرمو نے واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ زیارت کی مرمت کےلئے حکومت پیسہ دے گی ۔ اس سے پہلے ۱۷ نومبر کو ترال کے ہی سنگرامہ اور دادسرہ علاقے میں ایک مسجد کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ قرآن کی بھی بے حرمتی کی گئی تھی۔
کچھ روز قبل وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایوان میں بتایا تھا کہ جموں کشمیر میں تشدد کے واقعا ت میں کمی آئی ہے بلکہ یہ کہا تھا کہ نہ کے برابر ہیں ۔ ان کے مطابق ۱۷ نومبر تک کل تشدد سے جڑے ۵۹۶ واقعات پیش آئے ، جن میں ۷۹ فورسز اہلکار اور ۳۷ شہری ہلاک ہوئے ۔ لیکن ۵ اگست کے بعد واد ی میں ترقی کے بجائے بے چینی ، اداسی ور کب کیا ہو والی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے ۔
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ
میری لینڈ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران پر بھروسہ نہیں ہے اور آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ “میں ایران پر بھروسہ نہیں کرتا۔ آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں ایران پر بھروسہ کرتا ہوں؟ میں ایران پر بالکل بھروسہ نہیں کرتا۔ ایرانی فریق نے ہمیشہ جھوٹ بولا ہے،”
مسٹر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ اس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ہم اسے چلا رہے ہیں۔ اگر ایران نے کبھی کچھ کرنے کی کوشش کی تو اسے اڑا دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے اور دعویٰ کیا کہ ایران خطے میں اپنا سابقہ اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔
انہوں نے کہا، “اس وقت ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔ ہمارے پاس ایک ایسا ملک ہے جو 50 سال تک مشرق وسطیٰ میں بدمعاش تھا… اب وہ مغربی ایشیا میں بدمعاش نہیں رہا۔”
ان کے تبصرے فروری کے آخر میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ امریکہ اور ایران نے ابھی تک تنازع کے خاتمے کے لیے کسی حتمی معاہدے پر پہنچنا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد جاری رکاوٹیں عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرہ بنا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ عام حالات میں گزرتا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا کہ آبی گزرگاہ 28 فروری 2026 تک کھلی رہی۔ انہوں نے مغربی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔
“یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد کی صورتحال اور وہاں جو کچھ ہوا وہ امریکی اور اسرائیلی حکومت کی فوجی جارحیت کی وجہ سے ہوا، جو ابھی تک جاری ہے”۔ “جہاں تک شرائط عائد کرنے کے ایران کے دعووں کا تعلق ہے، انہیں یہ معاملہ اپنی حکومت کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔”
اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر کشیدگی تنازعہ کا ایک بڑا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دریں اثنا، تہران اور عمان کے درمیان اس اہم آبنائے سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے انتظامات پر بات چیت جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
