تازہ ترین
کورونا وائرس کا قہر:کووڈ۔19کی پہلی مریضہ کاٹیسٹ منفی
صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر میں زیر علاج وادی کشمیر کی پہلی کووڈ۔19مریضہ کا تازہ کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے جبکہ ڈاکٹروں کے مطابق وہ روبہ صحت ہورہی ہے۔اس دوران سرینگر اور شوپیان سے تعلق رکھنے والے 4مریضوں کے ٹیسٹ مثبت آئے،جو پہلے سے متاثرہ کووڈ۔19مریضوں کیساتھ رابطے میں رہے ہیں۔ادھر جموں میں مزید3افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ ضلع مجسٹریٹ کی ہدایت پر بٹھنڈی، سنجوان اور گوجر نگر علاقوں کو مکمل طور پر سیل کیا گیا۔جموں وکشمیر میں اب متاثرین کی تعداد 45 هوگئی،جن میں سے کشمیر سے تعلق رکھنے والے 2فوت ہوچکے ہیں۔جموں وکشمیر میں کورونا وائرس میں مبتلاء افراد کی تعداد میں اضافے کے بیچ وادی کشمیر کی پہلی تشخیص شدہ کووڈ۔19کی مریضہ نہ صرف آہستہ آہستہ روبہ صحت ہورہی ہے،بلکہ اس کا تازہ کورونا ٹیسٹ بھی منفی آیا ہے۔شہر خاص کے خیام خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والی 67 ساله خاتون کوکشمیر کی پہلی کووڈ۔19مریضہ قرار دیا گیا تھا۔
مذکورہ مریض کا 18 مارچ کو کووڈ۔19کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا،جسکے ساتھ ہی کشمیر میں جزوی طور لاک ڈاؤن کیا گیا،جو اب مکمل تالہ بندی میں تبدیل ہوگیا ہے۔صورہ میڈکل انسٹی چیوٹ کے ڈاکٹروں نے بتا یا کہ اب مریضہ آہستہ آہستہ روبہ صحت ہورہی ہے۔سکمز کے ترجمان نے اس ضمن میں ایک بیان میں بھی جاری کیا،جس میں انہوں نے بتایا کہ18مارچ کو جس کا خاتون کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا،اب علاج ومعالجہ کے بعد اُس کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مریضہ کا اتوار کے روز تازہ کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ سامنے آیا،جو منفی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ مریضہ صحتیاب ہورہی ہے،تاہم اسپتال سے اُنکی رخصتی کے حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔مذکورہ مریضہ 16مارچ کو عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس کشمیر لوٹ آئی تھیں۔سکمز کے نوڈل افسر جی ایچ ایتو کا کہنا تھا کہ کی مریضہ کا تازہ ٹیسٹ تشخیص کیلئے بھیج دیا گیا تھا،جو منفی آیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ مریضہ کو مزید14روز تک قرنطینہ میں رکھا جائیگا،جس کے بعد یہ فیصلہ لیا جائیگا،اُسے اسپتال رخصت کیا جائیگا یا نہیں۔وولڈ ہیلتھ آر گنائزیشن کی جانب سے تشخیص کردہ ادویات سے ہی مذکورہ مریضہ صحتیاب ہوئی ہیں۔اس دوران کشمیر وادی میں مزید4افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں،جن کا تعلق سرینگر اور شوپیان سے ہیں اور کشمیر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد33ہوگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد مریضوں کے ٹیسٹ سوموار کو موصول ہوئے جن میں تصدیق شدہ 4پازیٹیو سامنے آگئے۔
ان کا کہناتھا کہ رعناواری اور پلوامہ اسپتال میں دو،دو مریض زیر علاج ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ شوپیان سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی سفری تاریخ انڈو نیشاہے۔معلوم ہوا ہے کہ 26سالہ40سالہ دونوں متاثرین نے گھر جانے کے دوران جموں سے سرینگر تک سومو گاڑی میں بمنہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے کووڈ۔19مریض کیساتھ سفر کیا تھا۔اس طرض کشمیر میں کووڈ۔19مریضوں کی تعداد33تک پہنچ گئی جبکہ جموں وکشمیر میں متاثرین کی تعداد45تک جا پہنچی۔حکومتی ترجمان نے روہت کنسل نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چاروں متاثرین کا تعلق کشمیر سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو کا تعلق شوپیان اور دو کا تعلق سرینگر سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے متاثرین کا قریبی رابطہ پہلے سے متاثرہ کووڈ۔19مریضوں کیساتھ رابطے میں رہے ہیں۔حکومتی ترجمان روہت کنسل نے سوموار کی صبح یہ اطلاع دی تھی کہ جموں میں مزید3افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔جموں میں تین نئے کیسز کی تصدیق کیساتھ ہی متاثرین کے آبائی علاقوں کو مکمل طور پر سیل کردیا۔ضلع مجسٹریٹ جموں،سشما چوہان نے حکمنامہ جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ بٹھنڈی،سنجوان اور گو جر نگر جموں علاقوں میں لوگوں کی مکمل نقل وحرکت پر پابندی عائد کی گئی۔حکمنامے کے مطابق پولیس اسٹیشن ترکوٹا نگر کے تحت آنے والے بٹھنڈی،سنجوان اور پولیس اسٹیشن پیر مٹھا کے تحت آنے والے گو جر نگر علاقے میں کسی بھی شخص کو آئندہ احکامات تک چلنے پھر نے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی بھی شخص کو ان علاقوں سے باہر اور اندر جانے کی اجازت دی جائیگی۔ضلع مجسٹریٹ یہ حکمنامہ ڈسزاسٹر منیجمنٹ اکٹ2005کے تحت جاری کیا ہے۔ادھر شوپیان کے دو دیہات کو بھی ریڈ زون قرار دیا گیا۔شوپیان میں دو نئے کووڈ کیسوں کی تصدیق کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے سیدھو،رام نگری دیہات کو ریڈ زون قرار دیا گیا جبکہ ان کے مضافاتی دیہات کو بفر زون قرار دیا گیا۔
ان علاقوں کو کووڈ وائرس کی روکتھام کیلئے سیل کیا گیا۔یہاں لوگوں کی نقل وحرکت پر مکمل طور پر پابندی عائد کی گئی۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران متعلقہ پولیس اسٹیشن یا انتظامیہ سے رابطہ قائم کریں۔
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
