تازہ ترین
گولگام دمحال ہانجی پورہ میں فورسز اور جنگجوءوں کے درمیان مسلح تصادم آرائی
جنوبی کشمیر کے دمحال ہانجی پورہ کے لون محلہ میں پولیس،فوج اور فورسزنے علاقے میں جنگجوءوں کے موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد علاقے کو دوران شب محاصرے لیا،جس دوران اور جنگجوءوں اور فوج وفورسزکے درمیان سنیچر کوطلوع آفتاب سے گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا ہے جودن کے 2بجے تک جا ری رہا ۔
اس دوران اس تصادم آرائی میں 4مقامی حزب جنگجو جاں بحق ہوئے،جبکہ جنگجوءوں کی فائرنگ میں ایک فوجی اہلکار بھی زخمی ہونے کے علاوہ 3رہائشی مکان تباہ ہو ئے ۔ جھڑپ شروع ہونے کے بعد ہی کھور بٹہ پورہ کے مقام پتھراءو اور ٹیر گیس شلنگ کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری رہا ہے ۔ پولیس نے جائے وارادت سے4جنگجوکی نعشیں برآمد کرنے کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کر لیا ہے ۔ پولیس نے قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد جنگجوءوں کی نعشوں کو لواحقین کے حوالے کیا گیا ۔ پولیس نے بتایامارے گئے جنگجو علاقے کے گزشتہ دنوں کی شہری ہلاکتوں میں ملوث تھے ۔
کشمیر نیوز سروس ( کے ا ین ایس)کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں فوج اور فورسزنے جمعہ کی رات ایک مصدقہ اطلاع ملی کہ علاقے کے لون محلہ باغ بل دمحال ہانجی پورہ میں 3سے4جنگجوءوں ایک مکان میں چھپے ہیں ۔ اس دوران فورسز نے اطلاع موصول ہونے کے فوراً بعدفوج کے34آر آر،سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے گاءوں سے معمولی دورچار کنبوں والی بستی لون محلہ کو دوران شب سخت محاصرے میں لے کرتمام راستوں کو سیل کیا اور کئی سیکورٹی کور کئے ،تاکہ یہاں موجود جنگجوکسی طرح فرار نہ ہو سکے ۔ پولیس ذراءع نے بتایا اس دوران سنیچر کے علی الصبح سویرے تلاشی کارروائی شروع کی ،اس دوران جب فورسز کی تلاشی پارٹی غلام محمد لون پارٹی مکان کے صحن میں داخل ہو کر افراد خانہ کو باہر نکالا تو انہیں پتہ چلا کہ مکان کے اندر4 جنگجوموجود ہیں ۔
پولیس نے بتایا فورسز نے جنگجوءوں کو سرنڈر کرنے کے کی پیشکش کی ہے جس کو انہوں ٹھکرا کر فورسز پرشدیدفائرنگ شروع کی اور فرار ہونےکی کوشش کی ۔ ذراءع نے بتایاکہ فورسزنے بھی جوابی فائرنگ کر کے مکان کو گھیرے میں لے کر فرار ہونے والے راستوں پر مزید نفری کو تعینات کیا ۔ اس دوران طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ کافی مدت تک جاری رہا ۔ مقامی لوگوں نے بتایا گولیوں کا تبادلہ اس قدر شدید تھا کہ پورا علاقہ گولیوں کے گھن گرج سے لرز اٹھا ہے ۔ اس دوران اس تصادم آرائی میں ابتدائی طور3جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں ،جن کی نعشیں مکان کے صحن میں پڑی تھیں ۔
پولیس ذراءع نے مزید بتایاکہ چوتھا جنگجو مکان میں چھپا بیٹھا تھا، جووقفے وقفے سے فورسز پر فائرنگ کرتا رہا ۔ اس دوران جب جنگجو مکان سے باہر نہیں آیا،تو فورسز نے دن کے ایک بجے کے قریب مکان کو آگ لگا دی ،جس کے ساتھ ہی پھر ایک بار پھر طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ شروع ہوا ۔ اس دوران دن کے2بجے یہ جھڑپ اختتام پذیر ہوئی جس میں چوتھے جنگجو کو بھی مار گرایا گیا ہے ۔ اس طرح سے یہ تصادم 4مقامی جنگجوءوں کی ہلاکت کے بعد ختم ہوئی ۔ جھڑپ میں ولی محمد لون ،غلام محی الدین لون ولد عبدال وحب اور غلام احمد لون ولد عبدا لخالق لون کے دو اور تین منزلہ مکانات مکمل طور تباہ ہوئے ۔
اس طرح سے تین مکانات میں رہائش پزیر 6کنبے مکمل طور کھلے آسمان تلے آ گے ۔ بتایا یاجاتا ہے تینوں مکانوں میں تمام مال وا سباب ختم ہوا ۔ تصادم ختم ہونے کے فوراً بعد پولیس نے جائے ورادات سے چار مقامی جنگجوءوں کی لاشیں برآمد کر لی ۔ ذراءع نے جاں بحق جنگجوءوں کی شناخت صدام اشرف ملک ولد محمد اشرف ساکن آرونی بجبہارہ، اعجاز احمد نائیکوعرف موسٰی ولد محمد اقبال نائیکو ساکن چمر نور باد ،شاہد صدیق ملک عرف ازان بھائی ولد محمد صادق ملک ساکن کھلاحمد آباد نور آباد کولگام،وقار احمد ساکن چیول گام کولگام کے طور کی ہے ۔
ذراءع سے معلوم ہوا ہے کہ شاہد احمد میکنیکل انجینئرنگ کا طالب علم تھا اور گزشتہ سال سے سرگرم تھا،جبکہ باقی مارے گئے دیگر جنگجو بھی ایک سال سے سرگرم تھے ۔ اس دوران پولیس نے جائے واردات سے چاروں جنگجوءوں کی نعشوں کو اپنے تحویل میں لے کر ان کا طبی اور قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد لواحقین کے سپرد کردیا ۔
پولیس نے جائے جھڑپ سے ایک اے کے47راءفل ،ایک پستول ،ایک ایس ایل آر اور انساس راءفل برآمد کر لی ہے ۔ علاقے میں پہلے سے جاری لاک ڈاءون کے نتیجے میں مکمل بند تھا ،تاہم جنگجوءوں کی ہلاکت کے بعد بند میں مزید سختی دیکھی گئی ہے ۔
پولیس نے جھڑپ کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ مارے گئے، جنگجو حالیہ شہری ہلاکتوں میں ملوث تھے،جنہوں نے علاقے میں کئی عام شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا ۔ خیال رہے کولگام جنگجوئیت کے لحاظ سے 18اورسال2019 میں زبردست گرم رہا، جہاں 11ماہ کی خاموشی کے بعد یہ جھڑپ ہوئی ہے ۔
پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
