تازہ ترین
ملک گیر لاک ڈاءون کا دوسرا مرحلہ
عالمی وبا ’کورونا وائرس‘سے نمٹنے کے لیے ملک گیرلاک ڈاوَن کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونے کیساتھ ہی مرکزی وزارت داخلہ نے تفصیلی رہنما خطوط جاری کیے ۔
رہنما خطوط کے تحت3مئی تک ٹرانسپورٹ پر مکمل پابندی جاری رہے گی،ریاستوں کی سرحدیں بھی مہر بند رہیں گی، یعنی بس ، میٹرو ، ہوائی اور ٹرین سفر آپ نہیں پائیں گے جبکہ اس کے علاوہ اسکول ، کوچنگ مراکز بھی بند رہیں گے ۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابقکورونا انفیکشن کو لے کر وزیر اعظم نر یندرمودی نے ملک گیر لاک ڈاوَن کو 3 مئی تک جاری رکھنے کا اعلان منگل کے روز ہی کر دیا تھا ۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ ہی کہا تھا کہ بدھ کو لاک ڈاوَن کے تعلق سے نئی گائیڈ لائن یعنی رہنما خطوط جاری ہوں گے ۔ اب وزارت داخلہ کی نئی گائیڈ لائن سامنے آ گئی ہے ۔ اس میں کسانوں کو راحت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ لیکن مذہبی مقامات یعنی مسجد، مندر، گرودوارہ یا چرچ میں عبادت پر پابندی 3 مئی تک جاری رہے گی اور اس میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے ۔ زراعتی شعبہ کو کچھ چھوٹ دینے کے ساتھ ہی کنسٹرکشن پروجیکٹ کو بھی محدود طور پر چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
تازہ گائیڈ لائن کے مطابق کھانے پینے اور دوا بنانے والی تمام انڈسٹریز کھلی رہیں گی اور اس کے ساتھ ہی دیہی ہندوستان میں کارخانوں کو کھولنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ لیکن قابل غور ہے کہ یہ اجازت20 اپریل کے بعد ہی ملے گی اور ایسے علاقوں کو چھوٹ دی جائے گی جہاں کورونا انفیکشن کے نئے معاملے سامنے نہیں آ رہے ہیں اور ہاٹ اسپاٹ نہیں ہیں ۔ سبھی اسکول، کالج، سنیما ہال، شاپنگ مال 3 مئی تک بند رہیں گے:نئی گائیڈ لائن کے مطابق سبھی تعلیمی و تربیتی ادارے 3مئی تک بند رہیں گے اور انھیں 20 اپریل سے کوئی چھوٹ ملنے والی نہیں ۔
ٹیکسی (آٹو اور سائیکل رکشہ سمیت) اور کیب ایگریگیٹرس کی خدمات 3مئی تک بند رہیں گی ۔ سنیما ہال، مال، شاپنگ کمپلیکس، اسپورٹس کمپلیکس، جم، سوئمنگ پول، تھیٹر، بار وغیرہ بھی3 مئی تک مکمل طور پر بند رہیں گے ۔ سیاسی اور کھیل تقریبات کے انعقاد پر بھی پابندی جاری رہے گی ۔ اس کے علاوہ ماسک پہننا سبھی کے لیے لازمی کیا گیا ہے ۔ گھر میں بنے ماسک، دوپٹہ یا گمچھا کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ3 مئی تک سبھی گھریلو اور بین الاقوامی ہوائی سفر (سیکورٹی مقاصد کو چھوڑ کر)، مسافر ٹرینوں (سیکورٹی مقاصد کو چھوڑ کر)، پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بسیں ، میٹرو ریل وغیرہ سبھی بند رہیں گی ۔
زراعتی سرگرمیاں جاری کرنے کا فیصلہ:زراعت سے جڑی سبھی سرگرمیاں شروع ہوں گی، کسانوں اور زراعتی مزدوروں کو ہارویسٹنگ سے جڑے کام کرنے کی چھوٹ رہے گی ۔ زراعتی مشینوں کی دکانیں ، ان کی مرمت اور اسپیئر پارٹس کی دکانیں کھلی رہیں گی ۔ کھاد، بیج، جراثیم کش بنانے اور تقسیم کرنے کی سرگرمیاں بھی شروع ہوں گی ۔ کٹائی سے جڑی مشینوں (کمپائن) کے ایک ریاست سے دوسری ریاست میں جانے پر بھی کوئی پابندی نہیں رہے گی ۔ صحت اور بینکنگ سروسز جاری رہیں گی:اسپتال، نرسنگ ہوم، کلینک، ڈسپنسری، کیمسٹ شاپ یعنی دواخانہ، میڈیکل لیب اور سنٹر کھلے رہیں گے ۔ پیتھ لیب، دوائی سے جڑی کمپنیاں بھی اپنا کام جاری رکھیں گی ۔ بینک، اے ٹی ایم وغیرہ بھی کھلے رہیں گے اور حسب سابق اپنا کام کرتے رہیں گے ۔
شادی بیاہ اور مذہبی تقاریب کی اجازت نہیں :گائیڈ لائن میں شادی بیاہ کی تقریبات اور کسی بھی مذہبی تقاریب کے انعقاد کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ ان سب پر 3مئی تک مکمل پابندی رہے گی ۔ جاری گائیڈ لائنس کے مطابق باہر تھوکنے والوں اور قانون توڑنے والوں پر کارروائی کی جائے گی، لاک ڈاوَن پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا ۔ جاری گائیڈ لائن کے مطابق چار پہیہ گاڑی مثلاً کار چلانے والے لوگوں میں ڈرائیور کے علاوہ ایک دیگر شخص بیٹھ سکتا ہے اور اس کے لیے بھی اجازت ضروری ہے ۔
گویا کہ ایک کار میں دو لوگ سوار ہو سکتے ہیں ۔ دوپہیہ گاڑیوں پر صرف ایک شخص کے سواری کی اجازت ہے اور اس کے لیے بھی انتظامیہ سے اجازت لینی ہوگی ۔ اس درمیان منریگا میں کام کرنے کی اجازت ہوگی لیکن سوشل ڈسٹنسنگ کا خاص خیال رکھنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں ضروری سامانوں ، مثلاً پٹرولیم اور ایل پی جی پروڈکٹس، دواؤں ، خوردنی اشیاء کے ٹرانسپورٹیشن کی اجازت بھی رہے گی ۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
